Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
28 verses
1اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2کہ اے آدمزاد! تو ایک باغی گھرانے کے درمیان رہتا ہے جن کی آنکھیں ہیں کہ دیکھیں پر وہ نہیں دیکھتے اور ان کے کان ہیں کہ سنیں پر وہ نہیں سنتے کیونکہ وہ باغی خاندان ہیں۔
3اس لئے اے آدمزاد سفر کا سامان تیار کر اور دن کو ان کے دیکھتے ہوئے اپنے مکان سے روانہ ہو۔ تو ان کے سامنے اپنے مکان سے دوسرے مکان کو جا۔ ممکن ہے کہ وہ سوچیں اگر چہ وہ باغی خاندان ہیں۔
4اور دن کو ان کی آنکھوں کے سامنے اپنا سامان باہر نکا ل جس طرح نکل مکان کےلئے سامان نکالتے ہیں اور شام کو ان کے سامنے ان کی مانند جو اسیر ہو کر نکل جاتے ہیں نکل جا۔
5انکی آنکھوں کے سامنے دیوار میں سوراخ کر اور اس راہ میں سے سامان نکال۔
6انکی آنکھوں کے سامنے تو اسے اپنے کاندھے پر اٹھا اور اندھیرے میں اسے نکال لے جا۔ تو اپنا چہرہ ڈھانپ تاکہ زمین کو نہ دیکھ سکے کیونکہ میں نے تجھے بنی اسرائیل کےلئے ایک نشان مقرر کیا ہے۔
7چنانچہ جیسا مجھے حکم تھا ویسا ہی میں نے کیا۔ میں نے دن کو سامانا نکالا جیسے نقل مکان کےلئے نکلاتے ہیں اور شام کو میں نے اپنے ہاتھ سے دیوار میں سوراخ کیا۔ میں نے اندھیرے میں اسے نکالا اور ان کے دیکھتے ہوئے کاندھے پر اٹھا لیا۔
8اور صبح کو خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
9کہ اے آدمزاد کیا بنی اسرائیل نے جو باغی خاندان ہیں تجھ سے نہیں پوچھا کہ تو کیا کرتا ہے؟
10ان کو جواب دے کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ یروشلیم کے حاکم اور تمام بنی اسرائیل کےلئے جو اس میں ہیں یہ بارِ نبوت ہے۔
11ان سے کہہ دے میں تمہارے لئے نشان ہوں جیسا میں نے کیا ویسا ہی ان سے سلوک کیا جائے گا۔ وہ جلاوطن ہوں گے اور اسیری میں جائیںگے۔
12اور جو ان میں حاکم ہے وہ شام کو اندھیرے میں اٹھ کر اپنے کاندھے پر سامان اٹھائے ہوئے نکل جائے گا۔وہ دیوار میں سوراخ کریں گے کہ اس راہ سے نکال لے جائیں وہ اپنا چہرہ ڈھانپے گا کیونکہ اپنی آنکھوں سے زمین کو نہ دیکھے گا۔
13اور میں اپنا جال اس پر بچھاﺅں گا اور وہ اس میں پھنس جائے گا اور میں اسے کسدیوں کے ملک میں بابل میں پہنچاﺅں گا لیکن وہ اسے نہیں دیکھے گا اگر چہ وہیں مرے گا۔
14اور میں اس کے آس پاس کے سب حمایت کرنے والوں کو اور اس کے سب غولوں کو تمام اطراف میں پراگندہ کروں گا اور میں تلوار کھینچ کران کا پیچھا کروں گا۔
15اور جب میں ان کو اقوام میں پراگندہ اور ممالک میں تتر بتر کروں گا تب وہ جانیں گے کہ میں خداوند ہوں۔
16لیکن میں ان میں سے بعض کو تلوار اور کال سے اور وبا سے بچا رکھوں گا تاکہ وہ قوموں کے درمیان جہاں کہیں جائیں اپنے تمام نفرتی کاموں کو بیان کریں اور وہ معلوم کریں گے کہ میں خداوند ہوں۔
17اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
18کہ اے آدمزاد ! تو تھرتھراتے ہوئے روٹی کھا اور کانپتے ہوئے اور فکر مندی سے پانی پی۔
19اور اس ملک کے لوگوں سے کہہ کہ خداوند خدا یروشلیم اور ملک اسرائیل کے باشندوں کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ وہ فکرمندی سے روٹی کھائیں گے اور پریشانی سے پانی پئیں گے تاکہ اس کے باشندوں کی ستمگری کے سبب سے ملک اپنی معموری سے خالی ہو جائے۔
20اور وہ بستیاں جو آباد ہیں اجاڑ ہو جائیں گی اور ملک ویران ہوگا اور تم جانو گے کہ خداوند میں ہوں۔
21پھر خداوند کا کلام مجھ نازل ہوا۔
22کہ اے آدمزاد! ملک اسرائیل میں یہ کیا مثل جاری ہے کہ وقت گزرتا جاتا ہے اور کسی رویا کا کچھ انجام نہیں ہوا؟
23اس لئے ان سے کہہ دے کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ میں اس مثل کو موقوف کروں گا اور پھر اسے اسرائیل میں استعمال نہ کریں گے بلکہ تو ان سے کہہ کہ وقت آگیا ہے اور ہر رویا کا انجام قریب ہے۔
24کیونکہ آگے کو بنی اسرائیل کے درمیان رویایِ باطل اور خوش آمد کی غیب دانی نہ ہوگی۔
25کیونکہ میں خدا وند ہوں میں کلام کروں گا اور میرا کلام ضرور پورا ہوگا۔ اس کے پورا ہونے میں تاخیر نہ ہوگی بلکہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ اے باغی خاندان میں تمہارے دنوں میں کلام کر کے اسے پورا کروں گا۔
26اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
27کہ اے آدمزاد بنی اسرائیل کہتے ہیں کہ جو رویا اس نے دیکھی ہے بہت مدت میں ظاہر ہوگی اور وہ ان ایام کی خبر دیتا ہے جو بہت دور ہیں۔
28اس لئے ان سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ آگے کو میری کسی بات کی تکمیل میں تاخیر نہ ہوگی بلکہ خداوند خدا فرماتا ہے کہ جو بات میں کہوں گا وہ پوری ہو جائے گی۔