Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
32 verses
1پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2کہ اے آدمزاد ریروشلیم کا رخ کر اور مقدس مکانوں سے مخاطب ہو کر ملک اسرائیل کے خلاف نبوت کر۔
3اور اس سے کہہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ مَیں تیرا مخالف ہوں اور اپنی تلوار میان سے نکال لوں گا اور تیرے صادقوں اور تیرے شریروں کو تیرے درمیان سے کاٹ ڈالوں گا۔
4پس چونکہ میں تیرے درمیان سے صادقوں اور شریروں کو کاٹ ڈالوں گااس لئے میری تلوار میان سے نکل کر جنوب سے شمال تک تمام بشر پر چلے گی۔
5اور سب جانیں گے کہ میں خداوند نے اپنی تلوار میان سے کھینچی ہے۔ وہ پھر اس میں نہ جائے گی۔
6پس اے آدمزاد کمر کی شکستگی سے آہیں مار اور تلخ کامی سے ان کی آنکھوں کے سامنے ٹھنڈی سانس بھر۔
7اور جب وہ پوچھیں کہ تو کیوں ہائے ہائے کرتا ہے؟ تو یوں جواب دینا کہ اسکی آمد کی افواہ کے سبب سے اور ہر ایک دل پگھل جائے گا اور سب ہاتھ ڈھیلے ہوں جائیں گے اور ہر ایک جی ڈوب جائے گا اور سب گھٹنے پانی کی مانند کمزور ہوجائیں گے خداوند خدا کی فرماتا ہے۔ اسکی آمدآمد ہے۔ یہ وقوع میں آئے گا۔
8پھر خداوند کاکلام مجھ پر نازل ہوا۔
9کہ اے آدمزاد نبوت کر اور کہہ کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تو کہہ تلوار بلکہ تیزاور صیقل کی ہوئی تلوار ہے۔
10وہ تیز کی گئی ہے تاکہ اس سے بڑی خونریزی کی جائے۔ وہ صیقل کی گئی ہے تاکہ چمکے۔ پھر کیا ہم خوش ہوسکتے ہیں؟ میرے بیٹے کا عصا ہر لکڑی کو حقیر جانتا ہے ۔
11اور اس نے اسے صیقل کرنے کو دیا تاکہ ہاتھ میں لی جائے۔ وہ تیز اور صیقل کی گئی تاکہ قتل کرنے والے کے ہاتھ میں دی جائے۔
12اے آدمزاد تو رو اور نالہ کر کیونکہ وہ میرے لوگوں پر چلے گی۔ وہ اسرائیل کے سب امرا پر ہوگی۔ وہ میرے لوگوں سمیت تلوار کے حوالہ کئے گئے ہیںاس لئے تو اپنی ران پر ہاتھ مار۔
13یقینا وہ آزمائی گئی اور اگر عصا اسے حقیر جانے تو کیا وہ نابود ہوگا؟ سخداوند خدا فرماتا ہے۔
14اور اے آدمزاد! تو نبوت کر اور تالی بجا اور تلوار دو چند بلکہ سہ چند ہو جائے۔ وہ تلوار جو مقتولوں پر کار گر ہوئی بڑی خونریزی کی تلوار ہے جو ان کو گھیرتی ہے۔
15میں نے یہ تلوار ان کے سب پھاٹکوں کے خلاف قائم کی ہے تاکہ ان کے دل پگھل جائیں اور ان کے گرنے کے سامان زیادہ ہوں۔ ہائے برقِ یغ! یہ قتل کرنے کو کھینچی گئی۔
16تیار ہو۔ دہنی طرف جا۔ آمادہ ہو۔ بائیں طرف جا۔ جدھر تیرا رخ ہے۔
17اور میں بھی تالی بجاﺅں گا اور اپنا قہر ٹھنڈا کروں گا۔ میں خداوند نے یہ فرمایا ہے۔
18اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
19کہ اے آدمزاد! تو دو راستے کھینچ جن سے شاہ بابل کی تلوار آئے۔ ایک ہی ملک سے وہ دونوں راستے نکال اور ایک ہاتھ نشان کےلئے شہر کی راہ کے سرے پر بنا۔
20ایک راہ نکال جس سے تلوار بنی عمون کی ربّہ پر اور پھر ایک اور جس سے یہوداہ کے محصور شہر یروشلیم پر آئے ۔
21کیونکہ شاہ بابل دونوں راہوں کے نقطئہ اتصال پر خالگیری کےلئے کھڑا ہوگا اور تیروں کو ہلا کر بت سے سوال کرے گا اور گر پر نظر کرے گا۔
22اس کے دہنے ہاتھ میں یروشلیم کا قرعہ پڑے گا کہ منجنیق لگائے اور کشت و خون کےلئے منہ کھولے۔ للکار کی آواز بلند کرے اور پھاٹکوں پر منجنیق لگائے اور دمدمہ باندھے اور برج بنائے۔
23لیکن ان کی نظر میں یہ ایسا ہوگا جیسا چھوٹا شگون یعنی ان کے لئے جنہوں نے قسم کھائی تھی پر وہ بدکرداری کو یاد کرے گا تاکہ وہ گرفتار ہوں۔
24اس لئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تو نے اپنی بدکرداری یاد دلائی اور تمہاری خطاکاری ظاہر ہوئی یہاں تک کہ تمہارے سب کاموں میں تمہارے گناہ عیاں ہیں اور چانکہ تم خیال میں آگئے اسلئے گرفتار ہو جاﺅگے۔
25اور تو اے مجروح شریر شاہِ اسرائیل جس کا زمانہ بدکرداری کے انجام کو پہنچنے پر آیا ہے۔
26خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ گلاہ دور کر اور تاج اتار۔ یہ ایسا نہ رہے گا۔ پست کو بلند کر اور اسے جو بلند ہے پست پست کر۔
27میں ہی اسے الٹ الٹ الٹ دوں گا۔ پر یوں بھی نہ رہے گا اور وہ آئے گا جس کا حق ہے اور میں اسے دوں گا۔
28اور تو اے آدمزاد نبوت کر اور کہہ کہ خداوند بنی عمون اور ان کی طعنہ زنی کی بابت یوں فرماتا ہے کہ تو کہہ کہ تلوار بلکہ کھینچی ہوئی تلوار خونریزی کےلئے صیقل کی گئی ہے تاکہ بجلی کی طرح بھسم کرے۔
29جبکہ وہ تیرے لئے دھوکہ دیکھتے ہیں اور جھوٹے فال نکالتے ہیں کہ تجھ کو ان شریروں کی گردنوں پر ڈال دیں جو مارے گئے جن کا زمانہ انکی بدکرداری کے انجام کو پہنچنے پر آیا ہے۔
30اس کو میان میں کر۔ میں تیری پیدائش کے مکان میں اور تیری زاد بوم میں تیری عدالت کروں گا۔
31اور میں اپنا قہر تجھ پر نازل کروں گااور اپنے غضب کی آگ تجھ پر بھڑکاﺅں گااور تجھ کو حیوان حصلت آدمیوں کے حوالہ کروں گا جو برباد کرنے میں ماہر ہیں۔
32تو آگ کےلئے ایندھن ہوگااور تیرا خون ملک میں بہے گااور پھر تیرا ذکر بھی نہ کیا جائے گاکیونکہ میں خداوند نے فرمایا ہے۔