Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
49 verses
1اور ساتویں برس کے پانچویں مہینے کی دسویں تاریخ کو یوں ہوا کہ اسرائیل کے چند بزرگ خداوند سے کچھ دریافت کرنے کو آئے اور میرے سامنے بیٹھ گئے۔
2تب خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
3کہ اے آدمزاد اسرائیل کے بزرگوں سے کلام کر اور ان سے کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ کیا تم مجھ سے دریافت کرنے آئے ہو؟ خداوند خدا فرماتا ہے کہ مجھے اپنی حیات کی قسم تم مجھ کچھ دریافت نہ کر سکو گے۔
4کیا تو ان پر حجت قائم کرے گا؟ انکے باپ دادا کے نفرتی کاموں سے ان کو آگاہ کر۔
5ان سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ جس دن میں نے اسرائیل کو برگزیدہ کیا اور بنی یعقوب سے قسم کھائی اور ملک مصر میں اپنے آپ کو ان پر ظاہر کیا میں نے ان سے قسم کھا کر کہا میں خداوند تمہارا خدا ہوں ۔
6جس دن میں نے ان سے قسم کھائی تاکہ اب جو ملک مصرسے اس ملک میں لاﺅں جو میں نے ان کےلئے دیکھ کر ٹھہرایا تھا جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے اور جو تمام ممالک کی شوکت ہے۔
7اور میں نے ان سے کہا کہ تم میں سے ہر ایک شخص اپنے نفرتی کاموں کوجو اسکی منظور نظر ہیں دور کرے اور تم اپنے آپ مصر کے بتوں سے پاک کرو۔ مَیں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
8لیکن وہ مجھ سے باغی ہوئے اور نہ چاہا کہ میری سنیں۔ ان میں سے کسی نے ان نفرتی کاموں کو جو اس کی منظور نظر تھے ترک نہ کیا اور مصر کے بتوں کو نہ چھوڑا۔ تب میں نے کہا کہ میں اپنا قہر ان پر انڈیل دوںگاتاکہ اپنے غضب کو ملک مصر میں ان پر پورا کروں۔
9لیکن میں نے اپنے نام کی خاطر ایسا کیا تاکہ میرا نام ان قوموں کی نظر میں جن کے درمیان وہ رہتے تھے اور جن کی نگاہوں میں مَیں ان پر ظاہر ہوا جب ان کو ملک مصر سے نکال لایا ناپاک نہ کیا جائے۔
10پس میں ان کو ملک مصر سے نکال کر بیابان میںلایا۔
11اور میں نے اپنے آئین ان کو دئیے اور اپنے احکام ان کو سکھائے تاکہ انسان ان پر عمل کرنے سے زندہ رہے۔
12اور میں نے اپنے سبت بھی ان کو دئیے تاکہ وہ میرے اور ان کے درمیان نشان ہوں تاکہ وہ جانیں کہ میں خداوند ان کا مقدس کرنے والاہوں۔
13لیکن بنی اسرائیل بیابان میں مجھ سے باغی ہوئے اور میرے آئین پر نہ چلے اور میرے احکام کو رد کیاجن پر اگر انسان چلے تو ان کے سبب سے زندہ رہے اور انہوں نے میرے سبتوں کو نہایت ناپاک کیا۔تب میں نے کہا کہ میں بیابان میں ان پر اپنا قہر نازل کر کے ان کو فناکروں گا ۔
14لیکن میں نے اپنے نام کی خاطر ایسا کیا تاکہ وہ ان قوموں کی نظر میں جن کے سامنے میں ان کو نکال لایا ناپاک نہ کیا جائے۔
15اور میں نے بیابان میں بھی ان سے قسم کھائی کہ میں ان کو اس ملک میں نہ لاﺅں گا جو میں نے ان کو دیا جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے اور جو تمام ممالک کی شوکت ہے۔
16کیونکہ انہوں نے میرے احکام کو رد کیا اور میرے آئین پر نہ چلے اور میرے سبتوں کو ناپاک کیا اسلئے کہ ان کے دل ان کے بتوں کے مشتاق تھے۔
17تو بھی میری آنکھوں نے ان کی رعایت کی اور میں نے ان کو ہلاک نہ کیا اور میں نے بیابان میں ان کو بالکل نیست و نابود نہ کیا۔
18اور میں نے بیابان میں ان کے فرزندوں سے کہا تم اپنے باپ دادا کے آئین و احکام پر نہ چلو اور ان کے بتوں سے اپنے آپ کو ناپاک نہ کرو۔
19مَیں خداوند تمہارا خدا ہوں۔ میرے آئین پر چلو اور میرے احکام کو مانو اور ان پر عمل کرو۔
20اور میرے سبتوں کو مانو کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان نشان ہوں تاکہ تم جانو کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔
21لیکن فرزندوں نے بھی مجھ سے بغاوت کی۔وہ میرے آئین پر نہ چلے اورنہ یرے احکام کو مان کر ان پر عمل کیا جن پر اگر انسان عمل کرے تو ان کے سبب زندہ رہے۔ انہوں نے میرے سبتوں کو ناپاک کیا۔ تب میں نے کہا کہ میں اپنا قہر ان پر نازل کروں گا اور بیابان میں اپنے غضب کو ان پر پورا کروں گا۔
22تو بھی میں نے اپنا ہاتھ کھینچا اور اپنے نام کی خاطر ایسا کیا تاکہ وہ ان قوموں کی نظر میں جن کے دیکھتے ہوئے میں ان کو نکال لایا ناپاک نہ کیا جائے۔
23پھر میں نے بیابان میں ان سے قسم کھائی کہ ان کو قوموں میں آوارہ اور ممالک میں پراگندہ کروں گا۔
24اس لئے کہ وہ میرے احکام پر عمل نہ کرتے تھے بلکہ میرے آئین کو رد کرتے تھے اور میرے سبتوں کو ناپاک کرتے تھے اور ان کی آنکھیں ان کے باپ دادا کے بتوں پر تھیں۔
25سو میں نے ان کو برے آئین اور ایسے آئین دئیے جن سے وہ زندہ نہ رہیں۔
26اور میں نے ان کو انہی کے ہدیوں سے یعنی ان کے پہلوٹھوں کو آگ پر گزار کر ناپاک کیا تاکہ میں ان کو ویران کروں اور وہ جانیں کہ خداوند مَیں ہوں۔
27اس لئے اے آدمزاد تو بنی اسرائیل سے کلام کر اور ان سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ اس کے علاوہ تمہارے باپ دادا نے ایسے کام کر کے میری تکفیر کی اور میرا گناہ کر کے خطا کار ہوئے۔
28کہ جب میں ان کو اس ملک میں لایا جسے ان کو دینے کی میں نے ان سے قسم کھائی تھی تو انہوں نے جس اونچے پہاڑ اور اونچے درخت کو دیکھا وہیں اپنے ذبیحوں کو ذبح کیا اور وہیں اپنی غضب انگیز نذر کو گزرانا اور وہیں اپنی خوشبو جلائی اور اپنے تپاون تپائے۔
29تب میںنے ان سے کہا یہ کیسا اونچا مقام ہے جہاں تم جاتے ہو؟ اور انہوں نے اس کا نام باماہ رکھا جو آج کے دن تک ہے۔
30اس لئے تو بنی اسرائیل سے کہہ کہ کیا تم بھی اپنے باپ دادا کی طرح ناپاک ہوتے ہو؟ اور ان کے نفرت انگیز کاموں کی مانند تم بھی بدکاری کرتے ہو؟
31اور جب اپنے ہدیے چڑھاتے اور اپنے بیٹوں کو آگ پر سے گزار کر اپنے سب بتوں سے اپنے آپ کو آج کے دن تک ناپاک کرتے ہو تو اے بنی اسرائیل کیا تم مجھ سے کچھ دریافت کر سکتے ہو؟خداوند خدا فرماتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم مجھ سے کچھ دریافت نہ کر سکو گے۔
32اور جو تمہارے جی میں آتا ہے ہر گز وقوع میں نہ آئے گا کیونکہ تم سوچتے ہو کہ تم بھی دیگر اقوام و قبائل عالم کی مانند لکڑی اور پتھر کی پرستش کروگے۔
33خداوند خدا فرماتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم میں زور آور ہاتھ سے اور بلند بازو سے قہر نازل کر کے تم پر سلطنت کروں گا۔
34اور میں زور آور ہاتھ اور بلند بازو سے قہر نازل کر کے تم کو قوموں میں سے نکال لاﺅں گا اور ان ملکوں میں سے جن میں تم پراگندے ہوئے ہو جمع کروں گا۔
35اور میں تم کو قوموں کے بیابان میں لاﺅں گا اور وہاں روبرو تم سے حجت کروں گا۔
36جس طرح میں نے تمہارے باپ دادا کے ساتھ مصر کے بیابان میں حجت کی۔خداوند فرماتا ے کہ اسی طرح میں تم سے بھی حجت کروں گا ۔
37اور میں تم کو چھڑی کے نیچے سے گزاروں گا اور عہد کے بند میں لاﺅں گا۔
38اور میں تم میں سے ان لوگوں کو جو سرکش اورمجھ سے باغی ہیں جدا کروں گا۔ میں ان کو اس ملک سے جس میں انہوں نے بودوباش کی نکال لاﺅں گا پر وہ اسرائیل کے ملک میں داخل نہ ہوں گے اور تم جانو گے کہ میں خداوند ہوں۔
39اور تم سے اے بنی اسرائیل خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ جاﺅ اور اپنے اپنے بت کی عبادت کرو اور آگے کو بھی اگر تم میری نہ سنو گے۔ لیکن اپنی قربانیوں اور اپنے بتوں سے میرے مقدس نام کی تکفیر نہ کرو گے۔
40کیونکہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میرے کوہ مقدس یعنی اسرائیل کے اونچے پہاڑ پر تمام بنی اسرائیل سب کے سب ملک میں میری عبادت کریں گے۔ وہاں میں ان کو قبول کروں گا اور تمہاری قربانیاں اور تمہاری نذروں کے پہلے پھل اور تمہاری سب مقدس چیزیں طلب کروں گا۔
41جب میں تم کو قوموں میں سے نکال لاﺅں گا اور ان ملکوں میں سے جن میں مَیں نے تمکو پراگندہ کیا جمع کروں گا تب میں تم کو خوشبو کے ساتھ قبول کروں گا اور قوموں کے سامنے تم میری تقدیس کرو گے۔
42اور جب میں تم کو اسرئیل کے ملک میں یعنی اس سر زمین میں جس کی میں نے قسم کھائی کہ تمہارے باپ دادا کو دوں لے آﺅں گا تب تم جانو گے کہ میں خداوند ہوں۔
43اور وہاں تم اپنی روش اور اپنے سب کاموں کو جن سے تم ناپاک ہوئے ہو یاد کرو گے اور تم اپنی تمام بدی کے سبب سے جو تم نے کی ہے اپنی ہی نظر میں گھنونے ہو گے۔
44خداوند خدا فرماتا ہے اے بنی اسرائیل جب میں تمہاری بری روش اور بد اعمالی کے مطابق نہیں بلکہ اپنے نام کی خاطر تم سے سلوک کروں گا تو تم جانو گے کہ میں خداوند ہوں۔
45اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
46کہ اے آدمزاد جنوب کا رخ کر اور جنوب ہی سے مخاطب ہوکر اس کے میدان کے جنگل کے خلاف نبوت کر۔
47اور جنوب کے جنگل سے کہہ خداوند کا کلام سن خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں تجھ میں آگ بھڑکاﺅں گا اور وہ ہر ایک ہرا درخت اور ہر ایک سوکھا درخت جو تجھ میں ہے کھا جائے گی۔ بھڑکتا ہوا شعلہ نہ بجھے گا اور جنوب سے شمال تک سب کے منہ اس سے جھلس جائیں گے۔
48اور ہر فردِ بشر دیکھے گا کہ مَیں خداوند نے اسے بھڑکایا ہے۔ وہ نہ بجھے گی۔
49تب میں نے کہا ہائے خداوند خدا! وہ تو میری بابت کہتے ہیں کیا وہ تمثیلیں نہیں کہتا؟