Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
36 verses
1پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2کہ اے آدمزاد تو صور پر نوحہ شروع کر۔
3اور صور سے کہہ تجھے جس نے سمندر کے مدخل میں جگہ پائی اور بہت سے بحری ممالک کی لوگوں کے لئے تجارت گاہ ہے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ اے صور تو کہتا ہے میرا حسن کامل ہے۔
4تیری سرحدیں سمندر کے درمیان ہیں۔ تیرے معماروں نے تیری خوشنمائی کو کامل کیا ہے ۔
5انہوں نے سنیر کے سروﺅں سے تیرے جہازوں کے تختے بنائے اور لبنان سے دیودار کاٹ کر تیرے لئے مستول بنائے۔
6بسن کے ہلوط سے ڈانڈ بنائی اور تیرے تختے جزائرِ کتیم کے صنوبر سے ہاتھی دانت جڑ کر تیار کئے گئے۔
7تیرا بادبان مصری منقش کتان کا تھا تاکہ تیرے لئے جھنڈے کا کام دے۔ تیرا شامیانہ جزائرِ الیسہ کے کبودی و ارغوانی رنگ کا تھا۔
8صیدا اور ارود جے رہنے والے تیرے ملاح تھے اور اے صور تیرے دانشمند تجھ میں تیرے ناخدا تھے۔
9جبل کے بزرگ اور دانشمند تجھ میں تھے کہ رخنہ بندی کریں ۔ سمندر کے سب جہاز اور ان کے ملاح تجھ میں حاضر تھے کہ تیرے لئے تجارت کا کام کریں۔
10فارس اور لود اور فوط کے لوگ تیرے لشکرکے جنگی بہادر تھے۔ وہ تجھ میں سپر اور خود کو لٹکاتے اور تجھے رونق بخشتے تھے۔
11ارود کے مرد تیری ہی فوج کے ساتھ چاروں طرف تیری شہر پناہ پر موجود تھے اور بہادر تیرے برجوں پر حاضر تھے۔ انہوں نے اپنی سپریں چاروں طرف تیری دیواروں پر لٹکائیں اور تیرے جمال کو کامل کیا۔
12ترسیس نے ہر طرح کے مال کی کثرت کے سبب سے تیرے ساتھ تجارت کی۔ وہ چاندی اور لوہا اور رانگااور سیسا لا کر تیرے بازاروں میں سوداگری کرتے تھے۔
13یاوان توبل اور مسک تیرے تاجر تھے۔ وہ تیرے بازاروں میں غلاموں اور پیتل کے برتنوں کی سوداگری کرتے تھے۔
14اہل تجرمہ نے تیرے بازاروں میں گھوڑوں، جنگی گھوڑوں اور خچروں کی تجارت کی۔
15اہل ودان تیرے تاجر تھے۔ بہت سے بحری ممالک تجارت کےلئے تیرے اختیار میں تھے۔ وہ ہاتھی دانت اور آبنوس مبادلہ کےلئے تیرے پاس لاتے تھے۔
16ارامی تیری دستکاری کی کثرت کے سبب سے تیرے ساتھ تجارت کرتے تھے۔ وہ گوہر شب چراغ اور ارغوانی رنگ اور چکن دوزی اور کتان اور مونگا اور لعل لا کر تجھ سے خریدو فروخت کرتے تھے۔
17یہوداہ اور اسرائیل کا ملک تیرے تاجر تھے۔ وہ نیت اور پتنگ کا گیہوں اور شہد اور روغن اور بلسان لا کر تیرے ساتھ تجارت کرتے تھے۔
18اہل دمشق تیری دستکاری کی کثرت کے سبب سے اور قسم قسم کے مال کی فراوانی کے باعث حلبون کی مے اور سفید اوون کی تجارت تیرے یہاں کرتے تھے۔
19ودان اور یاوان اوزال سے تج اور آبدار فولاد اور اگر تیرے بازاروں میں لاتے تھے۔
20ددان تیرا تاجر تھا جو سواری کے چار جامے تیرے ہاتھ بیچتاتھا۔
21ارب اور قیدار کے سب امیر تجارت کی راہ سے تیرے ہاتھ میں تھے۔ وہ برے اور مینڈھے اور بکریاں لاکر تیرے ساتھ تجارت کرتے تھے۔
22سبا اور رعماہ کے سوداگر تیرے ساتھ سوداگری کرتے تھے۔ وہ ہر قسم کے نفیس مصالح اور ہر طرح کے قیمتی پتھر اور سونا تیرے بازاروں میں لا کر خریدو فروخت کرتے تھے۔
23حران اور کنہ اور عدن اور سبا کے سوداگر اور اصور اور کلمد کے باشندے تیرے ساتھ سوداگری کرتے تھے۔
24یہی تیرے سوداگر تھے جو لاجوردی کپڑے اور کم خواب اور نفیس پوشاکوں سے بھرے دیودار کے صندوق ڈوری سے کسے ہوئے تیری تجارت گاہ میں بیچنے کو لاتے تھے۔
25ترسیس کے جہاز تیری تجارت کے کاروان تھے۔ تو معمور اور وسط بحر میں نہایت شان و شوکت رکھتا تھا ۔ تیرے ملاح تجھے گہرے پانی میں لائے۔
26مشرقی ہوا نے تجھ کو وسط بحر میں توڑا ہے۔
27تیرا مال و اسباب اور تیری اجناس تجارت اور تیرے اہل جہازو ناخدا۔ تیرے رخنہ بندی کرنے والے اور تیرے کاروبار کے گماشتے اور سب جنگی مرد جو تجھ میں ہیں اس تمام جماعت کے ساتھ جو تجھ میں ہے تیری تباہی کے دن سمندر کے وسط میں کریں گے۔
28تیرے ناخداوں کے چلانے کے شور سے تمام نواحی تھرا جائے گی۔
29اور تمام ملاح اور اہل جہاز اور سمندر ے سب ناخدا اپنے جہازوں پر سے اتر آئیں گے۔ وہ خشکی پر کھڑے ہوں گے۔
30اور وہ اپنی آواز بلند کر کے تیرے سبب سے چلائیں گے اور زار زار روئیں گے اور اپنے سروں پر خاک ڈالیں گے اور راکھ میں لوٹیں گے۔
31وہ تیری سبب سے سر منڈائیں گے اور ٹاٹ اوڑھیں گے۔وہ تیرے لئے دل شکستہ ہو کر روئیں گے اور جاں گداز نوحہ کریں گے۔
32اور نوحہ کرتے ہوئے تجھ پر مرثیہ خوانی کریں گے اور تجھ پر یوں روئیں گے کہ کون صور کی مانند ہے جو سمندر کے درمیان میں تباہ ہوا؟
33جب تیرا مال تجارت سمندر پر سے جاتا تھا تب تجھ سے بہت سی قومیں مالامال ہوتی تھیںتو اپنی دولت اور اجناس تجارت کی کثرت سے رویِ زمین کے بادشاہوں کو دولت مند بناتا تھا۔
34پر اب تو سمندر کی گہرائی میں پانی کے زور سے ٹوٹ گیا ہے۔ تیری اجناس تجارت اور تیرے اندر کی تمام جماعت گر گئی۔
35بحری ممالک کے سب رہنے والے تیری بابت حیرت زدہ ہوں گے اور ان کے بادشاہ نہایت ترسان ہوں گے ان کا چہرہ زرد ہو جائے گا۔
36قوموں کے سوداگر تیرا ذکر سن کر سسکاریں گے۔ تو جایِ عبرت ہوگا اور باقی نہ رہے گا۔