Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
27 verses
1پھر اس نے مجھے کہا کہ اے آدمزاد جو کچھ تو نے پایا سو کھا۔ اس طومار کو نگل جا اور جا کر اسرائیل کے خاندان سے کلام کر۔
2تب میں نے منہ کھولا اور اس نے وہ طومار میرے مجھے کھلایا۔
3پھر اس نے مجھے کہا اے آدمزاد اس طومار کو جو میں تجھے دیتا ہوں کھا جا اور اس سے اپنا پیٹ بھر لے۔ تب میں نے وہ کھایا اور وہ میرے منہ میں شہد کی مانند میٹھا تھا۔
4پھر اس نے مجھے فرمایا اے آدمزاد تو بنی اسرائیل کے پاس جا اور میری یہ باتیں ان سے کہہ۔
5کیونکہ تو ایسے لوگوں کی طرف نہیں بھیجا جاتا جن کی زبان بیگانہ اور جن کی بولی سخت ہے بلکہ اسرائیل کے خاندان کی طرف۔
6نہ بہت سی امتوں کی طرف جن کی زبان بیگانہ اور جن کی بولی سخت ہے ۔جن کی بات تو سمجھ نہیں سکتا۔ یقینا اگر میں تجھے ان کے پاس بھیجتا تو وہ تیری سنتیں۔
7لیکن بنی اسرائیل تیری بات نہ سنیں گے کیونکہ وہ میری سننا نہیں چاہتے کیونکہ سب بنی اسرائیل سخت پیشانی اور سنگ دل ہیں۔
8دیکھ میں نے ان کے چہرے کے مقابل تیرا چہرہ درشت کیا ہے اور تیری پیشانی ان کی پیشانیوں کے مقابل سخت کر دی ہے۔
9میں نے تیری پیشانی کو ہیرے کی مانند چقماق سے بھی زیادہ سخت کر دیا ہے ۔ ان سے نہ ڈر اور ان کے چہرے سے ہراسان نہ ہواگر چہ وہ باغی خاندان ہیں۔
10پھر اس نے مجھ سے کہا اے آدمزاد میری سب باتون کو جو میں تجھ ے کہوں گا اپنے دل سے قبول کر اور اپنے کانوں سے سن۔
11اب اٹھ اسیروں یعنی اپنی قوم کے لوگوں کے پاس جا اور ان سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے خواہ وہ سنیں خواہ نہ سنیں۔
12اور روح نے مجھے اٹھا لیا اور میں نے اپنے پیچھے ایک بڑی کڑک آواز سنی جو کہتی تھی کہ خداوند کا جلال اس کے مسکن سے مبارک ہو۔
13اور جانداروں کے پروں کے آیک دوسرے سے لگنے کی آواز اور ان کے مقابل پہیوں کی آواز اور ایک بڑے دھڑاکے کی آواز سنائی دی۔
14اور روح مجھے اٹھا کر لے گئی۔ سو میں تلخ دل اور غضبناک ہو کر روانہ ہوا اور خداوند کا ہاتھ مجھ پر غالب تھا۔
15اور میں تل ابیب میں اسیروں کے پاس جو نہر کبار کے کنارے بستے تھے پہنچا اور جہاں وہ رہتے تھے میں سات دن تک ان کے درمیان پریشان بیٹھا رہا۔
16اور سات دن کے بعد خداوند کاکلام مجھ پر نازل ہوا۔
17کہ اے آدمزاد میں نے تجھے نبی اسرائیل کا نگہبان مقرر کیا ۔ پس تو میرے منہ کا کلام سن اور میری طرف سے ان کو آگاہ کر دے۔
18جب میں شریر سے کہوں کہ تو یقینا مرے گا اور تو اسے آگاہ نہ کرے اور شریر سے نہ کہے کہ وہ اپنی بری روش سے خبردار ہو تاکہ وہ اس سے باز آکر اپنی جان بچائے تو وہ شریر اپنی شرارت میں مرے گا لیکن میں اسکے خون کی باز پرس تجھ سے کروں گا۔
19لیکن اگر تو نے شریر کو آگاہ کر دیا اور وہ اپنی شرارت اور ب��ی روش سے باز نہ آیا تو وہ اپنی بد کرداری میں مرے گا پر تو نے اپنی جان کو بچا لیا۔
20اور اگر راستباز اپنی راستبازی چھوڑ دے اور گناہ کرے اور میں اس کے آگے ٹھکر کھلانے والا پتھر رکھوں تو وہ مر جائے گا۔ اس لئے کہ تو نے اسے آگاہ نہیں کیا تو وہ اپنے گناہ میں مرے گا اور اس کی صداقت کے کاموں کا لحاظ نہیں کیا جائے گا پر میں اس کے خون کی باز پرس تجھ سے کروں گا۔
21لیکن اگر تو اس راستباز کو آگاہ کر دے تاکہ گناہ نہ کرے اور وہ گناہ سے باز رہے تو وہ یقینا جئے گا اسلئے کہ نصیحت پذیر ہوا اور تو نے اپنی جان بچا لی۔
22اور وہاں خداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا اور اس نے مجھے فرمایا اٹھ میدان میں نکل جا اور وہاں میں تجھ سے باتیں کروں گا۔
23تب میں اٹھ کر میدان میں گیا اور کیا دیکھتا ہوں کہ خداوند کا جلال اس شوکت کی مانند جو میں نہرکبار کے کنارے دیکھی تھی کھڑا ہے اور میں منہ کے بل گرا۔
24تب روح مجھ میں داخل ہوئی اور اس نے مجھے میرے پاﺅں پرکھڑا کیا اور مجھ سے ہمکلام ہو کر فرمایا کہ اپنے گھر جا اور دروازہ بند کر کے اندر بیٹھ رہ۔
25اور اے آدمزاد دیکھ وہ تجھ پر بندھن ڈالیں گے اور ان سے تجھے باندھیں گے اور تو ان کے درمیان باہر نہ جائے گا۔
26اور میں تیری زبان تیرے تالو سے چپکا دوں گا کہ تو گونگا ہو جائےاور ان کے لئے نصیحت گو نہ ہو کیونکہ وہ باغی خاندان ہیں۔
27لیکن جب میں تجھ سے ہمکلام ہوں گا تو تیرا منہ کھولوں گا تن تو ان سے کہے گا کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے جو سنتا ہے سنے اور جو نہیں سنتا نہ سنے کیونکہ وہ باغی خاندان ہیں۔