Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
26 verses
1اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2کہ اے آدمزاد نبت کر اور کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چلا کر کہو افسوس اس رو ز پر!
3اسلئے کہ وہ روز قرےب ہے ہاں خداوند کا روز یعنی بادلوں کا روز قریب ہے ۔وہ قوموں کی سزا کا وقت ہو گا ۔
4کیونکہ تلوار مصر پر آئےگی اور جب لوگ مصر میں قتل ہونگے اور اسیری میں جائینگے اور اس کی بنیادیں برباد کی جائینگی تو اہلِ کوش سخت درد میں مبتلا ہونگے ۔
5کوش اور فوط اور لود اور تمام ملے جلے لوگ اورر کوب اور اس سرزمین کے رہنے والے جنہوں نے معاہدہ کیا ہے ان کے ساتھ تلوار سے قتل ہو نگے ۔
6خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ مصر کے مدد گار گر جائےنگے اور اس کے زور کا گھمند جاتا رہیگا ۔مجدال سے اسوان تک اور اس میں تلوار سے قتل ہونگے خداوند خدا فرماتا ہے ۔
7اور وہ ویران ملکوں کے ساتھ ویران ہو نگے اور اسکے شہر اجڑے شہروں ک ساتھ اجاڑ رہینگے ۔
8اور جب میں مصر میں آگ بھڑکاﺅنگا اور اس کے سب مد د گار ہلاک کئے جائےنگے تو وہ معلوم کرےنگے کہ خداوند میں ہوں ۔
9اس روز بہت سے ایلچی جہازوں پر سوار ہو کر میری طرف سے روانہ ہو نگے کہ غافل کو شیوں کو ڈرائیں اور وہ سخت درد میں مبتلا ہونگے جےسے مصر کی سزا کے وقت کیونکہ دیکھ وہ روز آتا ہے ۔
10خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں مصر کے انبوہ کو شاہِ بابل نبو کد رضر کے ہاتھ سے نیست و نابودکر دونگا ۔
11وہ اور اس کے ساتھ اس کے لوگ جو قوموں میں ہیبتناک ہیں ملک اجا ڑنے کو بھیجے جائےنگے اور وہ مصر پر تلوار کھینچیں گے اور ملک کو مقتولوں سے بھر دےنگے ۔
12اور میں ندےوں کو سکھا دونگا اور ملک کو شرےروں کے ہاتھ بیچونگا اور میں اس سرزمین کو اور اس کی تمام معموری کو اجنبیوں کے ہاتھ سے ویران کر ونگا ۔میں کداوند نے فرماےا ہے ۔
13خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ میں بتوں کو بھی نےست کرونگا اور نوف میں سے مورتو ں کو ہٹا ڈالونگا اور اائیندہ کو ملک مصر سے کوئی بادشاہ برپا نہ ہو گا اور میں ملک مصر میں دہشت ڈالونگا ۔
14اور فتروس کو ویران کرونگا اور صنعن میں آگ بھڑکاﺅنگا اور نو پر فتویٰ دونگا ۔
15اور میں سین پر جو مصر کا قلعہ ہے اپنا قہر نازل کرونگا اور نو کے انبوہ کو کاٹ ڈالونگا ۔
16اور میں مصر میں آگ لگاﺅ نگا سین کو سخت درد دونگا اور نو میں رخنے ہو جائےنگے اور نوف پر ہر روز مصےبت ہو گی ۔
17آون اور فی بست کے جوان تلوار سے قتل ہونگے اور یہ دونوں بستےاں اسیری میں جائینگی ۔
18اور تحفنحیس میں بھی دن ندھےرا ہو گا جس وقت میں وہاں مصر کے جوﺅں کو توڑ ونگا اور اس کی قوت کی شوکت مٹ جائےگی اور اس پر گھٹا چھا جائےگی اور اس کی بےٹےاں اسےر ہو کر جائینگی ۔
19اسی طرح سے مصر کو سزا دونگا اور وہ جانے��گے کہ میں خدا ہوں ۔
20گےارھویں بر س کے پہلے مہینے کی ساتویں تارےخ کو خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
21کہ اے آدمزاد میں نے شاہِ مصر فرعون کا بازو توڑا اور دیکھ وہ باندھا نہ گےا ۔دوا لگا کر اس پر پٹےاں نہ کسی گئےں کہ تلوار پکڑنے کے لئے مضبوط ہو۔
22اسلئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں شاہِ مصر کا مخالف ہوں اور اس کے بازﺅں کو یعنی مضبوط اور ٹوٹے کو توڑونگا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گرا دوں گا ۔
23اور مصرےوں کو قوموں میں پراگندہ اور ممالک میں تتر بتر کرونگا ۔
24اور میںشاہِ بابل کے بازﺅوں کو قوت بخشونگا اور اپنی تلوار اس کے ہاتھ میں دونگا لیکن فرعون کے بازوﺅں کو توڑونگا اور وہ اس کے آگے گھائل کی مانند جومرنے پرہو آہیں مارےگا ۔
25ہاں شاہِ بابل کے بازوﺅں کو سہارا دونگا اور فرعون کے بازو گر جائےنگے اور جب میں اپنی تلوات شاہِ بابل کے ہاتھ میں دونگا اور اس کو ملکِ مصر پر چلائیگا تو وہ جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔
26اور میں مصرےوں کو قوموں میں پراگندہ اور ممالک میں تتر بتر کردونگا اور وہ جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔