Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
21 verses
1دسویں برس کے دسویں مہینے کی بارھویں تارےخ کو خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
2کہ اے آدمزاد تو شاہِ مصر فرعون کے خلا ف ہو اور اس کے اور تمام ملکِ مصر کے خلاف نبوت کر ۔
3کلام کر اور کہہ خداوند خدا یو ں فرماتا ہے کہ دیکھ اے شاہِ مصر فرعون میں تےرا مخالف ہوں ۔اس بڑے گھڑےال کا جو اپنے درےاﺅں میں لیٹ رہتا ہے اور کیتا ہے کہ میرا درےا میرا ہی ہے اور میںنے سے اپنے لئے بناےا ہے ۔
4لیکن میں تےرے جبڑوں میں کانٹے اٹکاﺅنگا اور تےرے درےائں کی مچھلیاں تےری کھال پر چمٹاﺅنگا اور تجھے تےرے درےاﺅں سے باہر کھینچ نکالونگا اور تےرے درےاﺅں کی سب مچھلیاں تےری کھال پر چمٹی ہو نگی۔
5اور میں تجھ کو اور تےرے درےاﺅں کی مچھلیوں کو بیابان میں پھےنک دونگا ۔تو کھلے میدان میں پڑا رہیگا ۔تو نہ بٹورا جائےگا نہ جمع کیا جائےگا ۔میں نے تجھے میدان کے درندوں اور آسمان کے پرندوں کی خوراک کر دےا ہے ۔
6اور مصر کے تمام باشندے جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔اسلئے کہ وہ بنی اسرائیل کےلئے فقط سر کنڈے کا عصا تھے ۔
7جب انہوں نے تجھے ہاتھ میں لیا تو تو ٹوٹ گےا اور ان سب کے کندھے زخمی کر ڈالے ۔پھر جب انہوں نے تجھ پر تکیہ کیا تو تو ٹکڑے ٹکڑے ہو گےا اور ان سب کی کریں ہل گئیں ۔
8اسلئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میںایک تلوار تجھ پر لاﺅنگا اور تجھ میں انسان اور حیوان کو کاٹ ڈالونگا ۔
9اور ملکِ مصر اجاڑ اور وےران ہو جائےگا اور وہ جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔چونکہ ا س نے کہا ہے کہ درےا میرا ہی ہے اور میں نے ہی سے بنایا ہے ۔
10اسلئے دیکھ میں تےرا اور تےرے درےاﺅں کا مخالف ہوں اور ملکِ مصر کو مجدال سے اسوان بلکہ کوش کی سرحد تک محض وےران اور اجاڑ کردونگا ۔
11کسی انسان کا پاﺅں ادھر نہ پڑے گا اور نہ اس میں کسی حیوان کے پاﺅں کا گذر ہوگا کیونکہ وہ چالیس برس تک آباد نہ ہوگا۔
12اور میں ویران ملکوں کے ساتھ ملک مصر کو ویران کرونگا اور اجڑے شہروں کے ساتھ اس کے شہر چالیس برس تک اجاڑ رہینگے اور مصریوں کو قوموں میں پراگندہ اور مختلف ممالک میں تتر بتر کرونگا ۔
13کیونکہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چالیس برس کے آخر میں میں مصریوں کو ان قوموں کے درمیان سے جہاں وہ پرابندہ ہوئے جمع کرونگا ۔
14اور میں مصر کے اسےروں کو واپس لاﺅنگا اور ان کو فتروس کی زمین ان کے وطن میں واپس پہنچاﺅنگا اور وہ وہاں حقیر مملکت ہونگے ۔
15یہ مملکت تمام مملکتوں سے زیادہ حقےر ہوگی اور پھر قوموں پر اپنے تئےں بلند نہ کرےگی کیونکہ میں ان کو پست کرونگا تاکہ پھر قوموں پر حکمرانی نہ کریں۔
16اور وہ آیندہ کو بنی اسرائیل کی تکیہ گاہ نہ ہوگی ۔ جب وہ ان کی طرف دیکھنے لگےں تو انکی بدکرداری یاد دلائےنگے اور جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔
17سستائےسویں برس کے پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
18کہ اے آدمزاد شاہِ بابل نبو کد رضر نے اپنی فوج سے صور کی مخالف میں بڑی خدمت کروائی ہے ۔ہر ایک سر بے بال ہو گےا اور ہر ایک کا کندھا چھل گےا پر یہ نہ اس نے اور نہ اس کے لشکر نے صور سے اس خدمت کے واسطے جو اس نے اس کی مخالفت میں کی تھی کچھ اجرت پائی ۔
19اس لئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں ملکِ مصر شاہِ بابل نبو کد رضر کے ہاتھ میں کردونگا ۔وہ اس کے لوگوں کو پکڑ لے جائےگا اور اس کو لوٹ لے گا اور اس کی غنیمت کو لے لےگا اور یہ اس کے لشکر کی اجرت ہو گی ۔
20میں نے ملکِ مصر اس محنت کے صلہ میں جو اس نے کی اسے دیا کیونکہ انہوں نے مےرے لئے مشقت کھینچی تھی خداوند خدا فرماتاہے ۔
21میں اس وقت اسرائیل کے خاندان کا سینگ اگاﺅنگا اور ان کے درمیان تےرا منہ کھولونگا اور وہ جانےنگے کہ میں خداوند ہوں ۔