Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
28 verses
1ان باتوں کے بعد شاہ فارس ارتخششتا کے دور سلطنت میں عزرا بن سرایاہ بن عزریاہ بن خلقیاہ
2بن سلوم ببن صدوق بن اخیطوب۔
3بن امریاہ بن عزریاہ بن مرایوت۔
4بن زراخیاہ بن عزی بن بفی۔
5بن ابیسوع بن فینحاس بن الیعزر بن ہارون سردار کاہن۔
6یہی عزرابابل سے گیا اور وہ موسی کی شریعت میں جست خداوند اسرائیل کے خدا نے دیا تھا ماہر فقیہہ تھا اور چونکہ خداوند اس کےخدا کا ہاتھ اس پر تھا بادشاہ نے اس کی سب درخواستیں منظور کیں۔
7اور بنی اسرائیل اور کاہنوں اور لاویوں اور گانے والوں اور دربانوں اور نتنیم میں سے کچھ لوگ ارتخششتا بادشاہ کے ساتویں سال ریوشلم میں آئے۔
8اور وہ بادشاہ کی سلطنت کے ساتویں برس کے پانچویں مہینے یروشلم میں پہنچا۔
9کیونکہ پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو تو وہ بابل سے چلا اور پانچویں مہینے کی پہلی تاریخ کو یروشلم میں آپہنچا کیونکہ اس کے خدا کی شفقت کا ہاتھ اس پر تھا۔
10اس لئے کہ عزرا آمادہ ہو گیا تھا کہ خداوند کی شریعت کا طالب ہو اور اس پر عمل کرے اور اسرائیل میں آئین اور احکام کی تعلیم دے۔
11اور عزرا کاہن اور فقیہہ یعنی خداوند کے اسرائیل کو دے ہوئے احکام اور آئین کی باتوں کے فقیہہ کو جو خط ارتخششتا بادشاہ نے عنایت کیا اس کی نقل یہ ہے۔
12ارتخششتا شاہنشاہ کے طرف سے عزرا کاہن یعنی آسمان کے خدا کی شریعت کے فقیہہ کامل وغیرہ وغیرہ کو۔
13میں یہ فرمان جاری کرتا ہوں کہ اسرائیل کے جو لوگ اور ان کے کاہن اور لاوی میری مملکت میںہیں ان میں ہے جتنے اپنی خوشی سے یروشلم کو جانا چاہتے ہیں تیرے ساتھ جائیں۔
14کیونکہ تو بادشاہ اور اس کے ساتویں مشیروں کی طرف سے بھیجا جاتا ہے تاکہ اپنے خدا کی شریعت کے مطابق جو تیرے ہاتھ میں ہے یہوداہ اور یروشلم کا حال دریافت کرے۔
15اور جو چاندی اور سونا بادشاہ اور اس کے مشیروں نے اسرائیل کے خدا کو جس کا مسکن یروشلم میں ہے اپنی خوشی سے نذر کیا ہے لے جائے۔
16اور جس قدر چاندی سونا بابل کے سارے صوبہ سے تجھے ملے گا اور جو خوشی کے ہدئے لوگ اور کاہن اپنے خدا کے گھر کے لئے جویروشلم میں ہے اپنی خوشی سے دیں ان کو لے جائے۔
17اس لئے اس روپے سے بیل اور مینڈھے اور حلوان اور ان کی نذر کی قربانیاں اور ان کے تپاون کی چیزیں تو بڑی سے خریدنا اور ان کو اپنے خدا کے گھر کے مذبح پر جو یروشلم میں ہے چڑھانا۔
18اور تجھے اور تیرے بھایئوں کو باقی چاندی سونے کے ساتھ جو کچھ کرنا مناسب معلوم ہو وہی اپنے خدا کی مرضی کے مطابق کرنا۔
19اور جو برتن تجھے تیرے خدا کے گھر کی جماعت کے لئے سونپے جاتے ہیں ان کو یروشلم کے خدا کے حضور دے دینا۔
20اور جو کچھ اور تیرے خدا کے گھر کے لئے ضروری ہو جو تجھے دینا پڑے اسے شاہی خزانہ سے دینا۔
21اور میں ارتخسستا بادشاہ خود دریا پار کے سب خزانچیوں کو حکم کرتا ہوں کہ جو کچھ عزرا کاہن آسمان کے خدا کی شریعت کا فقیہہ تم سے چاہے وہ بلا توقف کیا جائے۔
22یعنی سو قنطار چاندی اور سو کر گیہوں اور سو بت مے اور سوبت تیل تک اور نمک بے اندازہ ۔
23جو کچھ آسمان کے خدا نے حکم کیا ہے سو ٹھیک ویسا ہی آسمان کے خدا کے گھر کے لئے کیا جائے کیونکہ بادشاہ اور شاہزادوں کی مملکت پر غضب کیوں بھڑکے؟۔
24اور تم کو ہم آگاہ کرتے ہیں کہ کاہنوں اور لاویوں اور گانے والوں اور دربانوں اور نتنیم اور خدا کے اس گھر کے خادموں می سے کسی پر خراج چنگی یا محصول لگانا جائز نہ ہاگا۔
25اور اے عزرا تو اپنے خدا کی اس دانش کے مطابق جو تجھ کو عنایت ہوئی حاکموں اور قاضیوں کو مقرر کرتا کہدریا پار کے سب لوگوں کا جو تیرے خدا کی شریعت کو جانتے ہیں ��نصاف کریں اور تم اس کو جو نہ جانتا ہو سکھاؤ۔
26اور جو کوئی تیرے خدا کی شریعت پر اور بادشاہ کے فرمان پر عمل نہ کرے اس کو بلا توقف قانونی سزا دی جائ۔خواہ موت یا جلاوطنی یا مال کی ضبطی یا قید کی
27خداوند ہمارے باپ دادا کا خدا مبارک ہو جس نے یہ بات بادشاہ کے دل میں ڈالی کہ خداوند کے گھر کو جو یروشلم میں ہے آراستہ کرے۔
28اور بادشاہ اور اس کے مشیروں کے حضور اور بادشاہ کےسب عالی قدر سرداروں کے آگے اپنی رحمت مجھ پر کی اور میں نے خداوند اپنے خدا کے ہاتھ سے جو مجھ پر تھا تقویت پائی اور میں نے اسرائیل میں سے خاص لوگوں کو اکٹھا کیا کہ وہ میرے ہمراہ چلیں۔