Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
36 verses
1ارتخششتا بادشاہ کے دور سلطنت میں جو لوگ میرے ساتھ بابل سے نکلے ان کے آبائی خاندانوں کے سردار یہ ہیں اور ان کا نسب نامہ یہ ہے
2اپنی فینحاس میں سے جیرسوم بنی اتمر میں سے دانی ایل بنی داؤد میں سے حطوش۔
3بنی سکنیاہ کی نسل کے بنی پر عوص میں سے زکریاہ اور اس کے ساتھ ڈیڑھ سو مرد نسب نامہ کی رو سے گنے گئے تھے۔
4بنی پخت موآب میں سے الیہوعینی بن زراخیاہ اور اس کے ساتھ دو سو مرد۔
5اور بنی سکنیاہ میں سے یحزی ایل کا بیٹا اور اس کے ساتھ تین سو مرد۔
6اور بنی عدین میں سے عہد بن یونتن اور اس کے ساتھ پچاس مرد۔
7اور بنی عیلام میں سے یسعیاہ بن عتلیاہ اور اس کے ساتھ مرد۔
8اور بنی سفطیاہ میں سے زبدیاہ بن میکاایل اور اس کے ساتھ اسی مرد۔
9اور بنی یوآب میں سے عبدیاہ بن یحی ایل اور اس کے ساتھ دو سو اٹھارہ مرد۔
10اور بی سلومیت میں سے یوسفیاہ کا بیٹا اور اس کے ساتھ ایک سو ساٹھ مرد۔
11اور بنی ببی میں سے زکریا بن ببی اور اس کے ساتھ اٹھائیس مرد۔
12اور بنی عزجاد میں سے یوحنان بن ہقاطان اور اس کے ساتھ ایک سو دا مرد۔
13اور بنی ادونقام میں سے جو سب سے پیچھے گئے ان کے نام یہ ہیں الیفلط اور یعنی ایل اور سمعیاہ اور ان کے ساتھ ساٹھ مرد۔
14اور بنی بگوی میں سے عوطی اور زبود اور ان کے ساتھ ستر مرد۔
15پھر میں نے ان کو اس دریا کے پاس جو اہاوا کی سمت کو بہتا ہے اکٹھا کیا اور وہاں ہم تین دن خیموں میں رہے اور میں نے لوگوں اور کاہنوں کا ملا خطہ کیا پر بنی لاوی میں سے کسی نہ پایا۔
16تب میں نے الیعزر اور ارییل اور سمعیاہ اور الناتن اور یریب اور الناتن اور الناتن اور زکریاہ اور مسلام کو جوریئس تھے اور یویریب اور الناتن کو جو معلم تھے بلوایا۔
17اور میں نے ان کو کسیفیا نام ایک مقام میں اؤد سردار کے پاس بھیجا اور جو کچھ ان کو ادو اور اس کے بھایئوں نتنیم سے کسیفیا میں کہنا تھا بتایا کہ وہ ہمارے خدا کے گھر کے لئے خدمت کرنے والے ہمارے پاس لے آئیں۔
18اور چونکی ہمارے خدا کی شفقت کا ہاتھ ہم پر تھا اس لئے وہ محلی بن لاوی بن اسرائیل کی اولاد میں سے ایک دانش اٹھارہ آدمیوں کو۔
19اور حسبیاہ کو اور اس کے ساتھ بنی مراری میں سے یسعیاہ کو اور اس کے بھائیوں اور ان کے بیٹوں یعنی بیس آدمیوں کو۔
20اور نتنیم میں سے جن کو داؤد اور امیروں نے لاویوں کی خدمت کے لئے مقرر کیا تھا دو سو بیس نتنیم کو لے آئے۔ان سبھوں کے نام بنادئے گئے تھے۔
21تب میں نے اہاوا کے دریا پر روزہ کی منادی کرائی تاکہ ہم اپنے خدا کے حضور اس اپنے اور اپنے بال بچوں اور اپنے مال کے لئے سیدھی راہ طلب کرنے کو فروتن بنیں۔
22کیونکہ میں نے شرم کے باعث بادشاہ سے سپاہیوں کے جتھے اور سواروں کے لئے درخواست نہ کی تھی تاکہ وہ راہ می دشمن کے مقابلہ میں ہماری مدد کریں کیونکہ ہم نے بادشاہ سے کہاتھا کہ ہمارے خدا کا ہاتھ بھلائی کے لئے ان سب کے ساتھ ہے جو اس کے طالب ہیں اور اس کا زور اور قہران اب کے خلاف ہے جو اسے ترک کرتے ہیں۔
23سو ہم نے روزہ رکھ کر اس بات کے لئے اپنے خدا سے منت کی اور اس نے ہماری سنی۔
24تب میں نے سردار کاہنوں میں سے بارہ کو یعنی سربیاہ اور حسبیاہ اور ان کے ساتھ ان کے بھویئوں میں سے دس کو الگ کیا۔
25اور ان کو وہ چاندی سونا اور ظروف یعنی وہ ہدیہ جو ہمارے خدا کے گھر کے لئے بادشاہ اور اس کے وزیروں اور امیروں اور تمام اسرائیل نے جو وہاں حاضر تھے نذر کیا تھا تول دیا۔
26میں ہی نے ان کے ہاتھ میں ساڑھے چھ سو قنطار چاندی کے برتن اور قنطار سونا۔
27اور سونے کے بیس پیالے جو ہزار درہم کے تھے اور چوکھے چمکتے ہوئے پیتل کے دو برتن جو سونے کی طرح قیمتی تھے تول کر دئے۔
28اور میں نے ان سے کہا کہ تم خداوند کے لئے مقدس ہو اور یہ برتن بھی مقدس ہیں اور یہ چاندی اور سونا خداوند تمہارے باپ دادا کے لئے رضا کی قربانی ہے۔
29سو ہوشیار رہنا جب تک یروشلم میں خداوند کے گھر کی کوٹھریوں میں سردار کاہنوں اور لاویوں اور سرائیل کے آبائی خاندانوں کے امیروں کے سامنے ان کو تول نہ دا ان کی حفاظت کرنا۔
30سو کاہنوں اور لاویوں نے سونے اور چاندی اور برتنوں کو تول کر لیا تاکہ ان کو یروشلم میں ہمارے خدا کے گھر میں ہینائیں۔
31پھر ہم پہلے مہینے کی بارھویں تاریخ کو اہاوا کے دریا سے روانہ ہوئے کہ یروشلم کو جائیں اور ہمارے خدا کا ہاتھ ہمارے ساتھ تھا اور اس نے ہم کو دشمنوں اور راستہ میں گھات لگانے والوں کے ہاتھ سے بایا۔
32اور ہم یروشلم پہنچ کر تین دن تک ٹھہرے رہے۔
33اور چوتھے دن وہ چاندی اور سونا اور برتن ہمارے خدا کے گھر میں تول کر کاہن مریموت بن اوریاہ کے ہاتھ میں دئے گئے اور اس کے ساتھ الیعزر بن فینحاس تھا اور ان کے ساتھ یہ لاوی تھے یعنی یوزابا د بن یشوع اور نوعیدیاہ بن بنوی۔
34سب چیزوں کو گن کر اور تول کر پورا وزن اسی وقت لکھ لیاگیا۔
35اور اسیری میں سے ان لوگوں نے جو جلا وطنی سے لوٹ آئے تھے اسرائیل کے خدا کے لئے سوختنی قربانیاں چڑھائیں یعنی سارے اسرائیل کے لئے بارہ بچھڑے اور چھیانوے مینڈھے اور ستتر برے اور خطا کی قربانی کے لئے بارہ بکرے۔ یہ سب خداوند کے لئے سوختنی قربانی تھی۔
36اور انہوں نے باشاہ کے فرمانوں کوبادشاہ کے نائبوں اور دریا پار کے حاکموں کے حوالہ کیا اور انہوں نے لوگوں کلی اور خدا کے گھر کی حمایت کی۔(