Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
67 verses
1اور ابرؔہام ضعیف اور عُمر رسیدہ ہُوا اور خُداوند نے سب باتوں میں ابرؔہام کو برکت بخشی تھی ۔
2ابرؔہام نے اپنے گھر کے سالخوردہ نوکر سے جو اُسکی سب چیزوں کا مُختار تھا کہ ا تو اپنا ہاتھ ذرا میری ران کے نِیچے رکھ کہ
3میں تجھ سے خُداوند کی جو زمین و آسمان کا خُدا ہے قسم لُوں کہ تُو کنعانیوں کی بیٹیوں میں سے جِن میں مَیں رہتا ہُوں کِسی کو میرے بیٹے سے نہیں بیاہیگا۔
4بلکہ تُو میرے وطن میں میرے رِشتہ داروں کے پاس جا کر میرے بیٹے اِضحاقؔ کے لئِے بیوی لائیگا۔
5اُس نوکر نے اُس سے کہا شاید وہ عورت اِس مُلک میں میرے ساتھ آنا نہ چاہے تو کیا مَیں تیرے بیٹے کو اُس مُلک میں جہاں سے تُو آیا پھِر لے جاؤں ؟
6تب ابؔرہام نے اُس سے کہا خبردار تپو میرے بیٹے کو وہاں ہر گز نہ لے جانا۔
7خُداوند آسمان کا خُدا جو مجھُے میرے باپ کے گھر اور میری زاد بُوم سے نِکال لایا اور جِس نے مُجھ سے باتیں کیں اور قسم کھا کر مُجھ سے کہا کہ میَں تیری نسل کو یہ مُلک دُونگا وُہی تیرے آگے آگے اپنا فرشتہ بھیجیگا کہ تُو وہاں سے میرے بیٹے کے لئِے بیوی لائے۔
8اور اگر وہ عورت تیرے ساتھ آنا نہ چاہے تو تُومیری اِس قسم سے چُھوٹٓ پر میرے بیٹے کو ہرگز وہاں نہ لے جانا۔
9اُس نوکر نے اپنا ہاتھ اپنے آقا ابرؔہام کی ران کے نیچے رکھ کر اُس س اِس بات کی قِسم کھائی۔
10تب وہ نوکر اپنے آقا کے اُنٹوں میں سے اُونٹ لیکر روانہ ہُوا اور اُسکے آقا کی اچھی اچھی چیزیں اُسکے پاس تھیں اور وہ اُٹھکر مسوؔپتامیہ میں نؔحور کے شہر کو گیا۔
11اور شام کو جس وقت عورتیں پانی بھرنے آتی ہیں اُس نے اُس شہر کے باہر باؤلی کے پاس اُونٹوں کو بِٹھایا۔
12اور کہا اَے میرے خُداوند میرے آقا برؔہام کے خُد مَیں تیری مِنت کرتا ہُوں کہ آج تُومیرا کام بنا دے اور میرے آقا ابرؔہام پر کرم کر۔
13دیکھ پانی کے چشمہ پر کھڑا ہُوں اور اِس شہر کے لوگوں کی بیٹیاں پانی بھرنے کو آتی ہیں۔
14سو اَیسا ہو کہ جِس لڑکی سے مَیں کُہوں کہ تُو ذرا اپنا گھڑا جُھکا دے تو مَیں پانی پی لُوں اور وہ کہے کہ لے پی اور مَیں تیرے اُونٹوں کو بھی پلاؤنگی تو وہ وُہی ہو جِسے تُو نے اپنے بندہ اِضحاقؔ کے لِئے ٹھہرایا ہے اور اِسی سے مَیں سمجھ لوُنگا کہ تُو نے میرے آقا پر کرم کیا ہے۔
15وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ رِبقؔہ جو ابرؔہام کے بھائی نؔحُور کی بیوی مِلؔکاہ کی بیٹے بیوؔایل سے پَیدا ہوئی تھی اپنا گھڑا کندے پر لئِے ہوءے نِکلی۔
16وہ لڑکی نہایت خُو بصورت اور کنواری اور مرد سے ناواقفِ تھی۔ وہ نیچے پانی کے چشمہ کے پاس گئی اور اپنا گھڑا بھر کر اُوپر کو آئی۔
17تب وہ نوکر اُس سے مِلنے کو دَوڑا اور کہا کہ ذرا اپنے گھڑے سے تھو��ٓ سا پانی مُجے پِلا دے۔
18اُسنے کہا پِیجئے صاحب اور فوراً گھڑے کو ہاتھ پر اُتار اُسے پانی پِلایا۔
19جب اُسے پلا چُکی تو کہنے لگی کہ مَیں تیرے اُونٹوں کو بھی پانی بھر بھر لاؤنگی جب تک وہ پی نہ چُکیں ۔
20اور فوراً اپنے گھڑے کو حَوض میں خالی کرکے پھر باؤلی کی طر پانی بھرنے دَوڑی گئی اور اُسکے سب اُونٹوں کے لئِے بِھرا۔
21وہ آدمی چُپ چاپ اُسے غور سے دیکھتا رہا تا کہ معلوم کرے کہ خُداوند نے اُسکا سفر مُبارک کیا ہے یا نہیں ۔
22جب اُونٹ پی چُکے تو اُس شخص نے نِصف مِثقال سونے کی ایک نتھ اور دس مِثقال سونے ے دو کڑے اُسکے ہاتھوں کے لئِے نِکالے ۔
23اور کہا کہ ذرا مجھے بتا کہ تُو کِس کی بیٹی ہے؟ اور کیا تیرے باپ کے گھر میں ہمارے ٹکنے کی جگہ ہے؟
24اُس نے اُس سے کہا کہ میَں بیتوؔایل کی بیٹی ہوُں۔ وہ مِلکاؔہ کا بیٹا ہے جو نؔحُور سے اُسکے ہوا۔
25اور یہ بھی اُس سے کہا کہ ہمارے پاس بُھوسا اور چارا بہت ہے اور ٹِکنے کی جگہ بھی ہے ۔
26تب اُس آدمی نے جُھک کر خُداوند کو سِجدہ کیا۔
27اور کہا خُداوند میرے آقا ابرؔہام کا خُدا مُبارک ہو جس نے میرے آقا کو پانے کرم اور راستی سے محروم نہیں رکّھا اور مُجھے تو خُداوند ٹھیک راہ پر چلا کر میرے آقا کے بھائیو ں کے گھر لایا۔
28تب اُس لڑکی نے دَوڑ کر اپنی ماں کے گھر میں یہ سب حال کہہ سُنایا ۔
29اور ربؔقہ کا ایک بھائی تھا جسکا نام لؔابن تھا ۔ وہ باہر پانی کے چشمہ کے پاس اُس آدمی کے پاس دَوڑا گیا۔
30اور یُوں ہُوا کہ جب اُس نے وہ نتھ دیکھی اور وہ کڑے بھی جو اُُسکی بہن کے ہاتھوں میں تھے اور اپنی بہن رِبقہؔ کا بیان بھی سُن لیا کہ اُس شخص نے مجُھ سے اَیسی اَیسی باتیں کہیں تو وہ اُس آدمی کے پاس آیا اور دیکھا کہ وہ چشمہ کے نزدیک ے پاس کھڑا ہے۔
31تب اُس سے کہا اَے تو جو خُداوند کی طرف سے مبارک ہے اندر چل۔ باہر کیوں کھڑا ہے؟ میں نے گھر کو اور اُونٹوں کے لئِے بھی جگہ کو تیار کر لِیا ہے ۔
32پس وہ آدمی گھر میں آیا اور اُس نے اُسکے اُونٹوں کو کھولا اور اُونٹوں کے لئِے بُھوسا اور چارا اور اُسکے اور اُسکے آدمیوں کے پاؤں بھی دُھونے کو پانی دِیا۔
33اور کھان اُسکے آگے رکّھا گیا پر اُس نے کہا کہ میں جب تک اپنا مطلب بیان نہ کر لُوں نہیں کھاؤنگا۔ اُس نے کہا اچّھا کہہ۔
34تب اُس نے کہا کہ مَیں اؔبرہام کا نوکر ہُوں ۔
35اور خُداوند نے میرے آقا کو بڑی برکت دی ہے اور وہ بہت بڑا آدمی ہو گیا ہے اور اُس نے اُسے بھیڑ بکریاں اور گائے بیل اور سونا چاندی اور لَونڈیاں اور غُلام اور اُونٹ اور گدھے بخشے ہیں ۔
36اور میرے آقا کی بیوی ساؔرہ جب وہ بُڑھیا ہوگئی اُس سے ایک بیٹا ہوا۔ اُسی کو اُس نے اپنا سب کچھ دیدیاہے ۔
37اور میرے آقا نے مُجھے قسم دیکر کہا ہے کہ تُو کنعانیوں کی بیٹیوں میں سے جِنکے مُلک میں میَں رہتا ہوں کِسی کو میرے بیٹے سے نہ بیاہنا۔
38بلکہ تُو میرے باپ کے گھر اور میرے رِشتہ داروں میں جانا اور میرے بیٹے کے لئِے بیوی لانا۔
39تب میں نے اپنے آقا سے کہا شای وہ عورت میرے ساتھ آنا نہ چاہے ۔
40تب اُس نے مُجھ سے کہا کہ خُداوند جِسکے حضور میں چلتا رہا ہوں اپنا فرشتہ تیرے ساتھ بھیجیگا اور تیرا سفر مُبارک کریگا۔ تو میرے رِشتہ داروں اور میرے باپ کے خاندان میں میرے بیٹے کے لئِے بیوی لانا۔
41اور جب تُو میرے خاندان میں جا پہنچیگا تب میری قسم سے چھُوٹا ۔
42سو مَیں آج پانی کے اُس چشمہ پر آکر کہنے لگا اَے خُداوند میرے آقا ابؔرہام کے خُدا اگر تو میرے سفر کو جو مَیں کر رہا ہوُں مُبارک کرتا ہے۔
43تو دیکھ مَیں پانی کے چشمہ کے پاس کھڑا ہوتا ہوں اور اَیسا ہو کہ جو لڑکی پانی بھرنے نِکلے اور مَیں اُس سے کہوں کہ ذرا پنے گھڑے سے تھوڑا پانی مُجھے پِلا دے ۔
44اور وہ مجُھے کہے کہ تُو بھی پی اور مَیں تیرے اُونٹوں کے لئِے بھی بھردُونگی تو وہ ہی عورت ہو جِسے خُداوند نے میرے آقا کے بیٹے کے لئِے ٹھہرایا ہے ۔
45مَیں دِل میں یہ کہ ہی رہا تھا کہ ربقہ اپنا گھڑا کندھے پر لئِے ہوئے باہر نِکلی اور نیچے چشمہ کے پاس گئی اور پانی بھرا ۔ تب مَیں نے اُس سے کہا ذرا مجھے پانی پِلا دے ۔
46اُس نے فوراً اپنا گھڑا کندھے پر سے اُتارا اور کہا لے پی اور مَیں تیرے اُونٹوں کو بھی پلا دُونگی سَو میں نے پِیا اور اُس نے میرے اُونٹوں کو بھی پِلایا ۔
47پھر میں نے اُس سے پُوچھا کہ تُو کِس کی بیٹی ہے؟ اُس نے کہا میں بیتؔو ایل کی بیٹی ہوں ۔ وہ نؔحُور کا بیٹٓ ہے جو مِلکؔاہ سے پیدا ہوا۔ پھر میں نے اُسکی ناک میں نتھ اور اُسکے ہاتھ میں کڑے پہنا دِئے ۔
48اور مَیں نے جُھک کر خُداوند کو سِجدہ کیا اور خُداوند اپنے آقا ابرؔہام کے خُدا کو مُبارک کہا جِس نے مجھے ٹھیک رہ پر چلایا کہ اپنے آقا کے بھائی کی بیٹی اُسکے بیٹے کے واسطے لیجاؤں۔
49سو اب اگر تُم کرم اور راسی سے میرے آقا کے ساتھ پیش آنا چاہتے ہو تو مُجھے بتاؤ اور اگر نہیں تو کہدو تاکہ میں دہنی یا بائیں طرف پِھر جاؤں ۔
50تب لاؔبن اور بیؔتوایل نے جواب دِیا کہ یہ بات خُداوند کی طرف سے ہُوئی ہے ۔ ہم تجھے کُچھ بُرا یا بھلا نہیں کہہ سکتے ۔
51دیکھ رِبؔقہ تیرے سامنے مَوجود ہے ۔ اُسے لے اور جا اور خُداوند کے قول کے مُطابق اپنے آقا کے بیٹے سے اُسے بیاہ دے۔
52جب ابرؔہام کے نوکر نے اُنکی باتیں سُنیں تو زمین تک جُھک کر خُداوند کو سِجدہ کیا۔
53اور نوکر نے چاندی اور سونے کے زیور اور لباس نِکال کر رِبقؔہ کو دِئے اور اُسکے بھائی اور اُسکی ماں کو بھی قیمتی چیزیں دیں۔
54اور اُس نے اور اُسکے ساتھ کے آدمیوں نے کھایا پیا اور رات بھر وہیں رہے ۔صُبح کو وہ اُٹھے اور اُس نے کہا کہ مُجھے میرے آقا کے پاس روانہ کر دو۔
55رِؔبقہ کے بھائی اور ماں نے کہا کہ لڑکی کو کُچھ روز کم سے کم دس روز ہمارے پاس رہنے دے۔ اِسکے بعد وہ چلی جائیگی ۔
56اُس نے اُن سے کہا کہ مُجے نہ روکو کیونکہ خُداوند نے میرا سفر مُبارک کیا ہے ۔ مجھے رُخصت کر دو تا کہ مَیں اپنے آقا کے پاس جاؤں ۔
57اُنہوں نے کہا کہ ہم لڑکی کو بُلا کر پُوچھتے ہیں کہ وہ کیا کہتی ہے۔
58تب اُنہوں نے رِؔبقہ کو بُلا کر اُس سے پُوچھا کیا تُو اِس آدمی کے ساتھ جائیگی؟ اُس نے کہا جاؤنگی ۔
59تب اُنہوں نے اپنی بہن رِؔبقہ اور اُسکی دایہ اور ابؔرہام کے نوکر اور اُسکے آدمیوں کو رُخصت کِیا۔
60اور اُنہوں نے رِؔبقہ کو دُعا دی اور اُس سے کہا اے ہماری بہن تُو لاکھوں کی ماں ہو اور تیری نسل اپنے کینہ رکھنے والوں کے پھاٹک کی مالِک ہو۔
61اور رِؔبقہ اور اُسکی سہیلیاں اُٹھ کر اُونٹوں پر سوار ہُوٹیں اور اُس آدمی کے پیچھے ہولیں ۔ سو وہ آدمی رِؔبقہ کو ساتھ لیکر روانہ ہُوا۔
62اور اِضحاقؔ بیرؔلحی روٹی سے ہو کر چلا آرہا تھا کیونکہ وہ جنوب کے مُلک میں رہتاس تھا۔
63اور شام کے وقت اِؔضحاق سوچنے کو مَیدان میں گیا اور اُس نے جو اپنی آنکھیں اُٹھائیں اور نظرکی تو کیا دیکھتا ہے کہ اُونٹ چلے آرہے ہیں۔
64اور رِبؔقہ نے نگاہ اور اِضؔحاق کو دیکھ کر اُونٹ پر سے اُتر پڑی۔
65اور اُس نے نوکر سے پُوچھا کہ یہ شخص کون ہے جو ہم سے مِلنے کو مَیدان میں چلا آرہا ہے ؟اُس نوکر نے کہا یہ میرا آقا ہے ۔ تب اُس نے بُرق لیکر اپنے اُوپر ڈال لیا۔
66نوکر نے جو جو کِیا تھا سب اِؔضحاق کو بتایا۔
67اور اِؔضحاق رِؔبقہکو اپنی ماں سؔارہ کے ڈیرے میں لے گیا۔ تب اُس نے رِبؔقہ سے بیاہ کر لیا اور اُس نے محبت کی اور اِضحاق نے پانی ماں کے مرنے کے بعد تسلّی پائی۔