Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1پھر اُس نے اپنے گھر کےمنُتِظم کو حُکم کیا کہ اِن آدمیوں کے بوروں میں جِتنا اناج وہ لے جاسکیں بھر دے اور ہر شخص کی نقدی اُسی کے بورے کے مُنہ میں رکھ دے۔
2اور میرا چاندی کا پیالہ سب سے چھوڑے کے بورے کے مُنہ میں اُسکی نقدی کے ساتھ رکھنا ۔ چنانچہ اُس نے یُوؔسف کے فرمانے کے مطُابق عمل کیا۔
3صُبح روشنی ہوتے ہی یہ آدمی اپنے گدوں کے ساتھ رخصت کر دیئے گئے۔
4وہ شہر سے نِکل کر ابھی دُور بھی نہیں گئے تھعے کہ یُوؔسف نے اپنے گھر کے منتظم سے کہا کہ جا اِن لوگوں کا پیچھا کر اور جب تک اُنکو جالے تو اُن سے کہنا کہ نیکی کے عوض تُم نے بدی کیوں کی ؟۔
5کیا یہ وہی چیز نہیں جِس سے میرا آقا پِیتا اور اِسی سے ٹھیک فال بھی کھولا کرتا ہے ۔؟ تُم نے جو یہ کیا سو بُرا کیا۔
6اور اُس نے اُنکو جا لِیا اور یہی باتیں اُن سے کہیں ۔
7تب اُنہوں نے اُس سے کہا کہ ہمارا خُداوند اَیسی باتیں کِیوں کہتا ہے ؟ خُدا نہ کر کہ تیرے خادِم اَیسا کام کریں ۔
8بھلا جو نقدی ہمکو اپنے بوروں کے مُنہ میں مِلی اُسے تو ہم مُلکِ کنعان سے تیرے پاس واپس لے آُئے ۔ پھر تیرے آقا کے گھر سے چاندی یا سونا کیونکر چُراسکتے ہیں ؟۔
9سو تیرے خادِموں میں سے جس کسی کے پاس وہ نکلے وہ مار دِیا جائے اور ہم بھی اپنے خُداوند کے غلام ہو جائینگے۔
10اُس نے کہا کہ تُمہارا ہی کہنا سہی۔ جسکے پاس وہ نِکل آئے وہ میرا غلام ہو گا اور تُم بے گناہ ٹھہرو گے۔
11تب اُنہوں نے جلدی کی اور ایک ایک نے اپنا بورا زمین پر اُتار لیا اور ہر شخص نے اپنا بورا کھول دِیا ۔
12سو وہ ڈُھونڈنے لگا اور سب سے بڑے سے شروع کرکے سب سے چھوٹے پر تلاشی ختم کی اور پیالہ بینؔمین کے بورے میں مِلا ۔
13تب اُنہوں نے اپنے پیراہن چاک کئِے اور ہر ایک اپنے گدھے کو لاد اُلٹا شہر کو پِھرا ۔
14اور یُؔہوداہ اور اُسکےبھائی یُوؔسف کے گھر آئے ۔ وہ اب تک وہیں تھا ۔ سو وہ اُسکےآگے زمین پر گرِے۔
15تب یُوؔسف نے اُن سے کہا تم نے یہ کیسا کام کیا؟ کیا تمکو معلوم نہیں کہ مجھ سا آدمی ٹھیک فال کھولتا ہے؟۔
16یؔہوداہ نے کہا کہ ہم اپنے خُداوند سے کیا کہیں؟۔ ہم کیا بات کریں یا کیونکر اپنے کو بری ٹھہرائیں ؟ خُدا نے تیرے خادِموں کی بدی پکڑ لی۔ سو دیکھ! ہم بھی اور وہ بھی جِسکے پاس پیالہ نِکلا دونوں اپنے خُداوند کے غلام ہیں ۔
17اُس نے کہا خُدا نہ کرے کہ میَں ایسا کروں ۔ جس شخص کے پاس یہ پیالہ نِکلا وُہی میرا غُلام ہوگا اور تُم اپنے باپ کے پاس سلامت چلے جاؤ۔
18تب یہؔوداہ اُسکے نزدیک جا کر کہنے لگا اے میرے خُداوند ذرا اپنے خادم کو اجازت دے کہ اپنے خُداوند کے کان میں ایک بات کہے اور تیرا غضب تیرے خادِم پر نہ بھڑکے کیونکہ تو فرؔعون کی مانند ہے۔
19میرے خُداوند نے اپنے خادِموں سے سوال کیا تھا کہ تمہارا باپ یا تُمہارا بھائی ہے؟۔
20اور ہم نے اپنے خُداوند سے کہا تھا کہ ہمارا ایک بوڑھا باپ ہے اور اُس کے بڑھاپے کا ایک چھوٹا لڑکا بھی ہے۔ اور اُسکا بھائی مرگیاہے اور وہ اپنی ماں کا ایک ہی رہ گیا ہے۔ سو اُسکا باپ اُس پر جان دیتا ہے۔
21تب تو نے اپنے خادموں سے کہا کہ اُسے میرے پاس لے آؤ کہ میَں اُسے دیکھوں ۔
22ہم نے اپنے خُداوند کو بتایا کہ وہ لڑکا اپنے باپ کو چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ اگر وہ اپنے باپ کو چھوڑے تو اُسکا باپ مر جائیگا۔
23پھر تو نے اپنے خادِموں سے کہا کہ جب تک تُمہارا چھو ٹا بھائی تمہارے ساتھ نہ آئے تُم پھر میرا مُنہ نہ دیکھو گے۔
24اور یُوں ہُؤا کہ جب ہم اپنے باپ کے پاس جو تیرا خادِم ہے پہنچے تو ہم نے اپنے خُداوند کی باتیں اُس سے کہیں۔
25ہمارے باپ نے کہا پھر جا کر ہمارے لئِے کچھ اناج مول لاؤ۔
26ہم نے کہا ہم نہیں جاسکے ۔ اگر ہمارا سب سے چھوٹا بھائی ہمارے ساتھ ہو تو ہم جائینگے کیونکہ جب تک ہمارا سب سے چھوٹا بھائی ہمارے ساتھ نہ ہو ہم اُس شخص کا مُنہ نہ دیکھینگے ۔
27اور تیرے خادِم میرے باپ نے ہم سے کہا تُم جانتے ہو کہ میری بیوی کے مُجھ سے دو بیٹے ہوئے۔
28ایک تو مجُھے چوڑ ہی گیا اور میَں نے خیال کیا کہ وہ ضرور پھاڑ ڈالا گیا ہوگا اور میَں نے اُسے اُس وقت سے پھر نہیں دیکھا ۔
29اب اگر تُم میرے سفید بالوں کو غم کے ساتھ قبر میں اُتاروگے۔
30سو اب اگر میں تیرے خادم اپنے باپ کے پاس جاؤں اور یہ لڑکا ہمارے ساتھ نہ ہو تو چونکہ اُسکی جان اس لڑکے کی جان کے ساتھ وابستہ ہے۔
31وہ یہ دیکھ کر کہ لڑکا نہیں آیا مر جائیگا اور تیرے خادم اپنے باپ کے جو تیرا خادم ہے سفید بالوں کو غم کے ساتھ قبر میں اُتارینگے۔
32اور تیرا خادم اپنے باپ کے سامنے اس لڑکے کا ضامن بھی ہو چُکا ہے۔ اور یہ کہا ہے کہ اگر میَں اُسے تیرے پاس واپس نہ پہنچادُوں تو میَں ہمیشہ کے لئِے اپنے باپ کا گہنگار ٹھہرؤنگا۔
33اِسلئے اب تیرے خادِم کو اجازت ہو کہ وہ اِس لڑکے کے بڈلے اپنے خُداوند کا غُلام ہو کر رہ جائے اور یہ لڑکا اپنے بھائیوں کے ساتھ چلا جائے ۔
34کیونکہ لڑکے کے بغیر میَں کیا مُنہ لیکر اپنے باپ کے پاس جاؤں ۔؟ کہیں اَیسا نہ ہو کہ مجُھے وہ مُصیبت دیکھنی پڑے جو اَیسے حال میں میرے باپ پر آئیگی۔