Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
22 verses
1پھر خُدا نے نُوحؔ کو اور کُل جانداروں اور کُل چوپایوں کو جو اُسکے ساتھ کشتی میں تھے یاد کِیا اور خُدا نے زمین پر ایک ہوا چلائی اور پانی رُک گیا۔
2اور سمندر کے سوتے اور آسمان کے دریچے بند کئے گءے اور آسمان سے جو بارِش ہورہی تھی تھم گئی۔
3اور پانی زمین پر سے گھٹتے گھٹتے ایک سو پچاس چِن کے بعدکم ہُوا۔
4اور ساتویں مہینے کی سترھویں تاریخ کو کشتی ارؔارط کے پہاڑوں پر ٹِک گئی ۔
5اور پانی دسویں مہینے تک برابر گھٹتا رہا اور دسویں مہینے کی پہلی تاریخ کو پہاڑوں کی چوٹیا نظر آئیں ۔
6اور چالیس دِن کے بعد یُوں ہوا کہ نُوحؔ نے کشتی کی کھڑکی جو اُس نے بنائی تھی کھولی۔
7اور اُس نے ایک کوّے کو اُڑا دِیا۔ سو وہ نِکلا اور جب تک زمین پر سے پانی سُکھ نہ گیا اِدھر اُدھر پِھرتا رہا۔
8پھر اُس نے ایک کبُوتری کو اپنے پاس سے اُڑا دی تاکہ دیکھے کہ زمین پر پانی گھٹا یا نہیں ۔
9پر کُبوتری نے پنجہ ٹیکنے کی جگہ نہ پاءی اور اُنکے پاس کشتی کو لَوٹ آئی کیونکہ تمام رُویِ زمین پر پانی تھا ۔ تب اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُسے لے لِیا اور پنے پاس کشتی میں رِکھّا۔
10اور سات دِن ٹھہر کر اُس نے اُس کُبوتری کو پھر کشتی سے اُڑا دیا۔
11اور وہ کُبوتری شام کے وقت اُسکے پاس لَوٹ آئی اور دیکھا تو زَیتون کی ایک تازہ پتّی اُسکی چونچ میں تھی۔ تب نُوحؔنے معلوم کِیا کہ پانی زمین پر سے کم ہوگیا۔
12تب وہ سات دِن اور ٹھہرا۔ اِسکے بعد پھر اُس کبُوتری کو اُڑایا پر وہ اُسکے پاس پھر کبھی نہ لَوٹی۔
13اور چھ سَو پہلے برس کے پہلے مہینے کی پہلی تارِیخ کو یُوں ہوا کہ زمین پر سے پانی سُکھ گیا اور نوُحؔ نے کشتی کی چھت کھولی اور دیکھا کہ زمین کی سطح سُکھ گئی ہے ۔
14اور دُوسرے مہینے کی ستائیسوں تاریک کو زمین بالکل سُوکھ گئی۔
15تب خُدا نے نُوحؔ سے کہا کہ ۔
16کشتی سے باہر نِکل آ۔ تُو اور تیرے ساتھ تیری بیوی اور تیرے بیٹے اور تیرے بیٹوں کی بیویاں۔
17اور اُن جانداروں کو بھی باہر نِکال لا جو تیرے ساتھ ہیں کیا پرندے کیا چَوپائے کِیا زمین کے رینگنے والے جاندار تاکہ وہ زمین پر کثرت سے بچےّ دیں اور بارورہوں اور زمین پر بڑھ جائیں۔
18تب نُوحؔ اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں اور اپنے بیٹوں کی بیویوں کے ساتھ باہر نِکلا۔
19اور سب جانور سب رینگنے والے جاندار۔ سب پرندے اور سب جو زمین پر چلتے ہیں اپنی اپنی جِنس کے ساتھ کشتی سے نِکل گئے۔
20تب نُوحؔ نے خُداوند کے لِئے ایک مذبح بنایا اور سب پاک چَوپایوں اور پاک پرندوں میں سے تھوڑے سے لیکر اُس مذبح پر سوُختنی قربانیاں چڑھائیں۔
21اور خُداوند نےاُنکی راحت انگیز خوشُبولی اور خُداوند نے اپنے دل میں کہا کہ اِنسان کے سبب سے مَیں پھر کبھی زمین پر لعنت نہیں بھیجوُنگا کیونکہ اِنسان کے دِل کا خیال لڑکپن سے بُر اہے اور نہ پھر سب جانداروں کو جَیسا اب کیا ہے مارونگا۔
22بلکہ جب تک زمین قائمِ ہے بیج بونا اور فصل کاٹنا ۔ سردی اور تپش ۔ گرمی اور جاڑا دِن اور رات موقوف نہ ہونگے۔