Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
18 verses
1صور کی بابت بار نبوت۔ اے ترسیس کے جہازو واویلا کرو کیونکہ وہ اجڑ گیا وہاں کوئی گھر اور کوئی داخل ہونے کی جگہ نہیں۔ کتیم کی زمین سے انکو یہ خبر پہنچی ہے۔
2اے ساحل کے باشندہ جنکو صیدانی سوداگروں نے جو سمندر کے پار آتےجاتےتھے مالا مال کر دیا خاموش رہا۔
3سمندر کے پار سے سیحور کا غلہ اوروادیِ نیل کی فصل کی آمدنی تھی۔ سو وہ قوموں کی تجارت گاہ بنا ۔
4اے صیدا تو شرما کیونکہ سمندر نے کہا سمندر کی گڑھی نہ کہا مجھے دردزہ نہیں لگا اور میں نے بچے نہیں جنے میں جوانوں کو نہیں پالتی اور کنواریوں کی پرورش نہیں کرتی ہوں۔
5جب اہل مصرکو یہ خبر پہنچے گی تو وہ صور کی خبر سے بہت غمگین ہونگے۔
6اے ساحل کے باشندہ تم زارزار روتے ہوئے ترسیس کو چلے جاؤ ۔
7کیا یہ تمہاری شادمان بستی ہے جسکی ہستی قدیم سے ہے ؟ اُسی کے پاؤں اُسے دور دور لے جاتے ہیں کہ پردیس میں رہے۔
8کس نے یہ منصوبہ صور کے خلاف باندھا جو تاج بخش ہے ۔ جسکے سوداگر اُمرا اور جس کے بیوپاری دنیا بھرکے عزت دار لوگ ہیں ؟ ۔
9رب الافواج نے یہ ارادہ کیا ہے کہ ساری حشمت کے گھمنڈ کو نیست کرے اوردنیا بھر کے عزت داروں کو ذلیل کرے۔
10اے دُخترِ ترسیس! دریایِ نیل کی طرح اپنی سر زمین پر پھیل جا ۔ اب کوئی بند باقی نہیں رہا۔
11اس نے سمندر پر اپنا ہاتھ بڑھایا ۔ اس نےمملکتوں کو ہلا دیا۔ خداوند نے کنعان کے حق میں حکم کیا ہے کہ اسکے قلعے مسمار کیے جائیں۔
12اور اس نے کہا اے مظلوم کنواری دختر صیدا! تو پھر کبھی فخر نہ کریگی ۔ اٹھ کتیم میں چلی جا۔ تجھے وہاں بھی چین نہ ملے گا ۔
13کسدیوں کے ملک کو دیکھ یہ قوم موجود نہ تھی ۔ اسور نےاسے بیابان میں رہنے والوں کاحصہ ٹھہرایا۔ انہوں نے اپنے برج بنائے انہوں نے اسکے محل غارت کیے اور اسے ویران کیا۔
14اے ترسیس کے جہاز واویلا کرو کیونکہ تمہارا قلعہ اڑا گیا۔
15اوراُس وقت یوں ہو گاکہصور کسی بادشاہ کے آیام کے مطابق ستر برس تک فراموش ہو جائیگا اورستر برس کے بادشاہ صور کی حالت فاحشہ کےگیت کے مطابق ہو گی ۔
16اے فاحشہ تو جو فراموش ہو گئی ہے بربط اٹھا کے اور شہر میں پھرا کر ۔ راگ کو چھیڑ اور بہت سی غزلیں گا کہ لوگ تجھے یاد کریں۔
17اور ستر برس کےبعد یوں ہو گا کہ خداوند صور کی خبر لےگا اوروہ اجرت پر جائیگی اوررویِ زمین پر کی تمام مملکتوں سے بدکاری کریگی ۔
18لیکن اسکی تجارت اور اسکی اجرت خداوند کے لئےمقدس ہو گی اور اسکا مال نہ ذخیرہ کیا جائیگا اور نہ جمع رہیگا بلکہ اسکی تجارت کا حاصل انکے لیےہو گا جو خداوند کے حضوررہتے ہیں کہ کھا کر سیر ہوں اورنفیس پوشاک پہنیں۔