Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
23 verses
1دیکھو خداوند زمین کو خالی اور سر نگوں کر کے ویران کرتاہے اور اسکے باشندوں کر تِتر بِتر کر دیتا ہے۔
2اور یوں ہو گا کہ جیسا رعیت کا حال ہو گا ویسا ہی کاہن کا۔ جیسا نوکر کا ویسا ہی اسکے صاحب کا ۔ جیسا لونڈی کاویسا ہی اسکی بی بی کا۔ جیسا خریدار کا ویسا ہی بیچنے والے کا جیسا قرض دینے والے کا ویسا ہی فرض لینے والے کا ۔ جیسا سود دینے والے کا ویسا ہی سود لینےوالے کا۔
3زمین بالکل خالی کی جائیگی اوربہ شدت غارت ہو گی کیونکہ یہ کلام خداوند کا ہے ۔
4زمین غمگین ہوتی اور مرجھاتی ہے جہان بےتاب اور پژمردہ ہوتاہے ۔ زمین کے عالی قدر لوگ ناتوان ہوتےہیں۔
5زمین اپنے باشندوں سے نجس ہوئی کیونکہ انہوں نے شریعت کو عدول کیا ۔ آئین سے منحرف ہوئے ۔ عہد ابدی کو توڑا۔
6اس سبب سے لعنت نے زمین کو نگل لیا اور اسکے باشندے مجرم ٹھہرے اور اسکی لیے زمین کے لوگ بھسم ہوئے اورتھوڑے سے آدمی بچ گئے ۔
7نئی مے غمزدہ اور تاک پژمردہ ہے اور سب جو دلشاد تھے آہ بھرتے ہیں ۔
8ڈھولکوں کی خوشی بند ہو گئی ۔ خوشی منانےوالوں کا غل و شور تمام ہوا۔ بربط کی شادمانی جاتی رہی ۔
9وہ پھر گیت کے ساتھ مے نہیں پیتے ۔ پینے والوں کو شراب تلخ معلوم ہو گی۔
10سنسان شہر ویران ہو گیا ہر ایک گھر بند ہو گیا کہ کوئی اندر نہ جا سکے ۔
11مے کے لیے بازاروں میں واویلا ہو رہا ہے۔ ساری خوشی پر تایکی چھا گئی ۔ ملک کی عشرت جاتی رہی۔
12شہر میں ویرانی ہی ویرانی ہے اور پھاٹک توڑ پھوڑدئیے گئے۔
13کیونکہ زمین میں لوگوں کے درمیان یوں ہو گا جیسا زیتون کا ڈرخت جھاڑا جائے ۔ جیسے انگور توڑے نے بعد خوشہ چینی ۔
14وہ اپنی آواز بلند کرینگے وہ گیت گائینگے۔ خداوند کے جلال کے سبب سے سمندر للکاریں گے۔
15پس تم مشرق میں خداوند کی اور سمندر کے جزیروں میں خداوند کے نام کی جو اسرائیل کا خدا ہے تمجید کرو۔
16انتہایِ زمین سے نغموں کی آواز ہم کو سنائی دیتی ہے۔ جلال و عظمت صادق کے لیے ! پر میں نے کہا میں گداز ہو گیا۔ میں ہلاک ہوا مجھ پر افسوس دغابازوں نے دغا کی۔ ہاں دغابازوں نے بڑی دغا کی۔
17اے زمین کے باشندے خوف اور گڑھااور دام تجھ پر مسلط ہیں۔
18اور یوں ہو گا کہ جو کوئی خوفناک آواز سن کر بھاگے گڑھے میں گرے گا اور گڑھے سے نکل آئے دام میں پھنسے گا کیونکہ آسمان کی کھڑکیاں کھل گئ اور زمین کی بنیادیں ہل رہی ہیں۔
19زمین بالکل اجڑ گئی ۔ زمین یکسر شکستہ ہوئی اور شدت سے ہلائی گئی۔
20وہ متوالے کی مانند ڈگمگائیگی اور جھونپڑی کی طرح آگے پیچھے سرکائی جائیگی کیونکہ اسکے گناہ کا بوجھ اس پر بھاری ہوا۔ وہ گریگی اور پھر نہ اٹھیگی۔
21اور اس وقت یوں ہو گا کہ خداوند آسمانی لشکر کو آسمان پر اور زمین کے بادشاہوں ہو زمین پر سزا دے گا۔
22اور وہ ان قیدیوں کی مانند جو گڑھے میں ڈالے جائیں جمع کیے جائیں گے اور وہ قید خانے میں قید کیے جائیں گے اور بہت دنوں کے بعد ان کی خبر لی جائیگی۔
23اور جب رب الافواج کوہ صیون پر اور یروشلیم میں اپنے بزرگ بندوں کے سامنے حشمت کے ساتھ سلطنت کریگا تو چاند مضطرب اور سورج شرمندہ ہو گا۔