Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
22 verses
1اور حزقیاہ بادشاہ کی سلطنت کے چودھویں برس یوں ہوا کہ شاہ اسور سنحیرب نے یہوادہ کے سب فصیلدار شہروں پر چڑھائی کی اور انکو لے لیا۔
2اورشاہ اسور نے ربشاقی کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ لکیس سے حزقیاہ کے پاس یروشلیم کو بھیجا اور اس نے اوپر کے تالاب کی نالی پر دھوبیوں کےمیدان کی راہ میں مقام کیا۔
3تب الیاقیم بن خلقیاہ جو گھر کا دیوان تھا اور شبناہ منشی اور محرر یوآخ بن آسف نکل کر اسکے پاس آئے ۔
4اور ربشاقی نے انکے سے کہا تم حزقیاہ سے کہو کہ ملک معظم شاہ اسور فرماتا ہے کہ تو کیا اعتماد کیے بیٹھا ہے؟۔
5کیا مشورت اور جنگ کی قوت منہ کی باتیں ہی ہیں؟ آخر کس کے برتے پر تو نے مجھ سے سرکشی کی ہے؟۔
6دیکھ تجھے اُس مسلے ہوئے سرکنڈے کے عصا یعنی مصر پر بھروسہ ہے اس پر اگر کوئی ٹیک لگائے تو وہ اس کے ہاتھ میں گڑجائیگا اور اسے چھید دیگا ۔ شاہ مصر فرعون ان سب کے لیے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں ایسا ہی ہے ۔
7پر اگر تو مجھ سے یوں کہے کہ ہمارا توکل خداوند ہمارے خدا پر ہے تو کیا وہ وہی نہیں ہے جس کے اونچے مقاموں اور مذبحوں کو ڈھا کر حزقیاہ نے یہوادہ اوریروشلیم سے کہا کہ تم اس مذبح کے آگے سجدہ کیا کرو ؟۔
8اس لیے اب ذرا میرے آقا شاہ اسور کے ساتھ شرط باندھ اورمیں تجھے دو ہزار گھوڑے دونگا بشرطیکہ تو اپنی طرف سے ان پر سوارچڑھا سکے ۔
9بھلا پھر تو کیونکر میرے آقا کے کمترین ملازموں میں سے ایک سردار کا بھی منہ پھیر سکتا ہے؟ اورتو رتھوں اورسواروں کے لیے مصر پر بھروسہ کرتاہے ؟ ۔
10اور کیا اب میں نے خدا کے بے کہے ہی اس مقام کو غارت کرنے کے لیے چڑھائی کی ہے ؟ خداوند نے ہی تو مجھ سے کہا کہ اس ملک پر چڑھائی کر اور اسے غارت کر دے ۔س
11تب الیاقیم اور شبناہ اور یوآخ نے ربشاقی سے عرض کی کہ اپنے خادموں سے آرامی زبان میں بات کر کیونکہ ہم اسے سمجھتے ہیں اوردیوار پر کے لوگوں کے سنتےہوئے یہودیوں کی زبان میں ہم سے بات نہ کر۔
12لیکن ربشاقی نے کہا کیا میرے آقا نے مجھے یہ باتیں کہنے کو تیرے آقا کے پاس یا تیرے پاس بھیجا ہے ؟ کیا اس نے مجھے ان لوگوں کے پاس نہیں بھیجا جو تمہارے ساتھ اپنی ہی نجاست کھانے اوراپنا ہی قارورہ پینے کو دیوار پر بیٹھے ہیں؟ ۔
13پھر ربشاقی کھڑا ہو گیا اور یہودیوں کی زبان میں بلند آواز سے کہنے لگا کہ ملک معظم شاہ اسور کا کلام سنو۔
14با��شاہ یوں کہتاہے کہ حزقیاہ تم کو فریب نہ دے کیونکہ وہ تم کو چھڑا نہیں سکیگا ۔
15اور نہ وہ یہ کہہ کر تم سے خداوند پر بھروسہ کرائے کہ خداوند ضرور ہم کو چھڑائے گا اور یہ شہر شاہ اسور کے حوالہ نہ کیا جائیگا۔
16حزقیاہ کی نہ سنو کیونکہ شاہ اسور یوں فرماتا ہے کہ تم مجھ سے صلح کر لو اورنکل کر میرے پاس آؤ اور تم میں سے ہر ایک اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کا میوہ کھاتا اور اپنے حوض کا پانی پیتا رہے۔
17جب تک کہ میں تم کو آکر ایک ایسے ملک میں نہ لے جاؤں جو تمہارے ملک کی مانند غلہ اور مے کا ملک روٹی اور تاکستانوں کا ملک ہے ۔
18خبردار ایسا نہ ہو کہ حزقیاہ تم کو یہ کہہ کر ترغیب دے کہ خداوند ہم کو چھڑائیگا کیا قوموں کے معبودوں میں سے کسی نے بھی اپنے ملک کو شاہ اسور کے ہاتھ سے چھڑایا ہے؟ ۔
19حمات اور ارفاد کے دیوتا کہاں ہیں؟ سفر وائیم کے دیوتا کہاں ہیں؟ کیا انہوں نے سامریہ کو میرے ہاتھ سے بچا لیا؟ ۔
20ان ملکوں کے تمام دیوتاؤں میں سے کس کس نے اپنے ملک کو میرے ہاتھ سے چھڑا لیا جو خداوند بھی یروشلیم کو میرے ہاتھ سے چھڑائیگا؟ ۔
21لیکن وہ خاموش رہےاوراسکے جواب میں انہوں نے ایک بات بھی نہ کہی کیونکہ بادشاہ کا حکم یہ تھا کہ اسے جواب نہ دینا۔
22اورالیاقیم بن خلقیاہ جو گھر کا دیوان تھا اورشبناہ منشی اور یوآخ بن آسف محرر اپنے کپڑے چاک کیے ہوئے حزقیاہ کے پاس آئے اورربشاقی کی باتیں اسے سنائیں۔