Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
38 verses
1جب حزقیاہ بادشاہ نے یہ سنا تو اپنے کپڑے پھاڑے اور ٹاٹ اوڑھکر خداوند کے گھر میں گیا۔
2اوراس نے گھر کے دیوان الیاقیم اور شبناہ منشی اورکاہنوں کے بزرگوں کو ٹاٹ اوڑھا کر آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی کے پاس بھیجا ۔
3اورانہوں نے اس سے کہا کہ حزقیاہ یوں کہتاہے کہ آج کا دن دکھ اور ملامت اورتوہین کا دن ہے کیونکہ بچے پیدا ہونے پر ہیں اور ولادت کی طاقت نہیں۔
4شاید خداوند تیرا خدا ربشاقی کی باتیں سنے گا جسے اسکے آقا شاہ اسور نے بھیجا ہے کہ زندہ خدا کی توہین کرے اورجو باتیں خداوند تیرے خدانے سنیں ان پر وہ ملامت کریگا پس تو اس بقیہ کے لیے جو موجود ہے دعا کر۔
5پس حزقیاہ بادشاہ کے ملازم یسعیاہ کے پاس آئے ۔
6اور یسعیاہ نے ان سے کہا تم اپنے آقا سے یوں کہنا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تو ان باتوں سے جو تونے سنی ہیں جس سے شاہ اسورکے ملازموں نے میری تکفیر کی ہے ہراسان نہ ہو۔
7دیکھ میں اس میں ایک روح ڈال دونگا اوروہ ایک افواہ سن کر اپنے ملک کو لوٹ جائیگا اور میں اسے اسی کے ملک میں تلوار سے مروا ڈالونگا۔
8سو ربشاقی لوٹ گیا اور اس نے شاہ اسورکو لبناہ سے لڑتے پایا کیونکہ اس نے سنا تھا کہ وہ لکیس سے چلا گیا ہے۔
9اور اس نے کوش کے بادشاہ ترہاقہ کی بابت سنا کہ وہ تجھ سے لڑنے کو نکلا ہے اورجب اس نے یہ سنا تو حزقیاہ کے پاس ایلچی بھیجے اور کہا ۔
10شاہ یہوادہ حزقیاہ سے یوں کہنا کہ تیرا خدا جس پر تیرا بھروسہ ہے تجھے یہ کہکر فریب نہ دے کہ یروشلیم شاہ اسورکے قبضہ میں نہ کیا جائے گا۔
11دیکھ تو نے سنا ہے کہ اسور کے بادشاہ نےتمام ممالک کو غارت کر کے انکا کیا حال بنایا ہے سو کیا تو بچا رہیگا؟ ۔
12کیا ان قوموں کے دیوتاؤں نے انکو یعنی جوزان اور حاران اوررصف اور بنی عدن کو جو تلسار میں تھے جنکو ہمارے باپ دادا نے ہلاک کیا چھڑایا؟ ۔
13حمات کا بادشاہ اورارفاد کا بادشاہ اور شہر سفر وائیم اور ہینع اور عواہ کا بادشاہ کہاں ہیں؟۔
14حزقیاہ نے ایلچیوں کے ہاتھ سے نامہ لیا اور اسے پڑھا اور حزقیاہ نے خداوند کے گھر جا کر اسکے خداوند کے حضورپھیلا دیا ۔
15اور حزقیاہ نے خداوند سے یوں دعا کی ۔
16اے خداوند رب الافواج اسرائیل کے خدا ۔ کروبیوں کے اوپر بیٹھنے والے ! تو ہی اکیلا زمین کی سب سلطنتوں کا خدا اے۔ تو ہ�� نے آسمان اوت زمین کو پیدا کیا۔
17اے خداوند کان لگا اور سن ۔ اے خداوند اپنی آنکھیں کھول اوردیکھ اور سنحیرب کی ان سب باتوں کو جو اس نے زندہ خدا کی توہین کرنے کے لیے کہلا بھیجی ہیں سن لے۔
18اے خداوند در حقیقت اسور کے بادشاہ نے سب قوموں کو انکے ملکوں سمیت تباہ کیا۔
19اور انکے دیوتاؤں کو آگ میں ڈالا کیونکہ وہ خدا نہ تھے بلکہ آدمیوں کی دستکاری تھے۔ لکڑی اورپتھر۔ اس لیے انہوں نے انکو نابود کیا۔
20سو اب اے خداوند ہمارے خدا تو ہمکو اس کے ہاتھ سےبچا لے تاکہ زمین کی سب سلطنتیں جان لیں کہ تو ہی اکیلا خداوند ہے۔
21تب یسعیاہ بن آموص نے حزقیاہ کو کہلا بھیجا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے چونکہ تو نے شاہ اسور سنحیرب کے خلاف مجھ سے دعا کی ہے ۔
22اس لیے خداوند نے اسکے حق میں یوں فرمایا کہ کنواری دخترِ صیون نے تیری تحقیر کی اورتیرا مضحکہ اڑایا۔ یروشلیم کی بیٹی نے تجھ پر سر ہلایا ہے۔
23تو نے کس کی توہین و تکفیر کی ہے ؟ تونے کس کے خلاف اپنی آواز بلند کی اور اپنی آنکھیں اوپر اٹھائیں؟ اسرائیل کے قدوس کے خلاف؟ ۔
24تو نے اپنے خادموں کے ذریعے سے خداوند کی توہین کی اورکہا کہ میں اپنے بہت سے رتھوں کو لیکر پہاڑوں کی چوٹیوں پر بلکہ لبنان کے وسطی حصہ تک چڑھ آیا ہوں اور میں اسکے اونچے اونچے دیوداروں اور اچھے سے اچھے صنوبر کے درختوں کو کاٹ ڈالونگا اورمیں اسکے چوٹی پر کے زرخیز جنگل میں جا گھسونگا۔
25میں نے کھود کھود کر پانی پیا ہے اور میں اپنے پاؤں کے تلوے سے مصر کی سب ندیاں سکھا ڈالونگا ۔
26کیا تو نے یہ نہیں سنا کہ مجھے یہ کیے ہوئے مدت ہوئی اورمیں نے قدیم آیام سے ٹھہرا دیا تھا ؟ اب میں نے اسی کو پورا کیا ہے کہ تو فصیلدار شہروں کو اجاڑ کر کھنڈر بنا دینے کے لیے برپا ہو۔
27اسی سبب سے انکے باشندے کمزورہوئے اور گھبرا گئے اور شرمندہ ہوئے ۔ وہ میدان کی گھاس اور پود چھتوں پر کی گھاس اور کھیت کے اناج کی مانند ہو گئی جو ابھی بڑھا نہ ہو۔
28لیکن میں تیری نشست اور آمدورفت اورتیرا مجھ پر جھنجھلانا جانتا ہوں۔
29تیرے مجھ پر جھنجھلانے کے سبب سے اور اس لیے کہ تیرا گھمنڈ میرے کانوں تک پہنچا میں اپنی نکیل تیرے ناک میں اور اپنی لگام تیرے منہ میں ڈالونگا اورتو جس راہ سے آیا ہے میں تجھے اسی راہ سے واپس لوٹا دونگا۔
30اورتیرے لئے یہ نشان ہو گا کہ تم اس سال وہ چیزیں جو خود اگتی ہیں اوردوسرے سال وہ چیزیں جو ان سے پیدا ہوں کھاؤ گے اورتیسرے سال تم بونا اورکاٹنا اورتاکستان لگا کر ان کا پھل کھانا۔
31اوروہ بقیہ جو یہوادہ کے گھرانے سے بچ رہا ہے پھر نیچے کی طرف جڑ پکڑے گا اور اوپر کی طرف پھل لائیگا۔
32کیونکہ ایک بقیہ یروشلیم میں سے اور وہ جو بچ رہے ہیں کوہ صیون سے نکلینگے۔ رب الافواج کی غیوری یہ کر دکھائیگی۔
33سو خداوند شاہ اسور کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ وہ اس شہر میں آنے یا یہاں تیر چلانے نہ پائے گا ۔ وہ نہ تو سپر کے کر اسکے سامنے آنے اور نہ اسکے مقابل دمدمہ باندھنے پائے گا۔
34بلکہ خداوند فرماتا ہے کہ جس راہ سے وہ آیا اسی سے لوٹ جائیگا اور اس شہر میں آنے نہ پائیگا۔
35کیونکہ میں اپنی خاطر اپنے بندہ داؤد کی خاطر اس شہر کی حمایت کر کے اسے بچاونگا۔
36پس خداوند کے فرشتہ نے اسوریوں کی لشکر گاہ میں جا کر ایک لاکھ پچاسی ہزار آدمی جان سے مار ڈالے اورصبح کو جب لوگ سویرے اٹھے کہ وہ سب مرے پڑے ہیں۔
37تب شاہ اسور سنحیرب کوچ کر کے وہاں سے چلا گیا اورلوٹ کر نینوہ میں رہنے لگا۔
38اور جب وہ اپنے دیوتا نسروک کےمندر میں پوجا کر رہا تھا تو ادرملک اورشراضر اسکے بیٹوں نے اسکے تلوار سے قتل کیا اوراراراط کی سرزمین کو بھاگ گئے اوراسکا بیٹا اسرحدون اسکی جگہ بادشاہ ہوا۔