Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
22 verses
1ان ہی دنوں میں حزقیاہ ایسا بیمار پڑا کہ مرنے کے قریب ہو گیا اور یسعیاہ نبی آموص کے بیٹے نے اسکے پاس آ کر اس سےکہا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اپنے گھر کا انتظام کر دے کیونکہ تو مر جائے گا اوربچنے کا نہیں ۔
2تب حزقیاہ نے اپنے منہ دیوارکی طرف کیا اورخداوند سے دعا کی۔
3اور کہا اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں یاد فرما کہ میں تیرے حضور سچائی اورپورے دل چلتا رہا ہوں اور جو تیر ی نظر میں بھلا ہے وہی کیا اورحزقیاہ زارزار رویا۔
4تب خداوند کا یہ کلام یسعیاہ پر نازل ہوا ۔
5کہ جا اورحزقیاہ سےکہہ کے خداوند تیرے باپ داؤد کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میں نے تیری دعا سنی ۔ میں نے تیرے آنسو دیکھے ۔ سودیکھ میں تیری عمر پندرہ برس اور بڑھا دونگا۔
6اور میں تجھ کو اور اس شہر کو شاہ اسور کے ہاتھ سے بچا لونگا اور میں اس شہر کی حمایت کرونگا۔
7اورخداوند کی طرف سے تیرے لئے یہ نشان ہو گا کہ خداوند اس بات کو جو اس نے فرمائی پورا کریگا ۔
8دیکھ میں آفتاب کے ڈھلے ہوئے سایہ کے درجوں میں سے آخز کی دھوپ گھڑی کے مطابق دس درجے پیچھے کو لوٹا دونگا۔ چنانچہ آفتاب جن درجوں سے ڈھل گیا تھا ان میں کے دس درجے پھر لوٹ گیا۔
9شاہ یہوادہ حزقیاہ کی تحریر جب وہ بیمار تھا اور اپنی بیماری سے شفا یاب ہوا۔
10میں نے کہا کہ میں اپنی آدھی عمر میں پاتال کے پھاٹکوں میں داخل ہونگا۔ میری زندگی کے باقی برس مجھ سے چھین لئے گئے۔
11میں کہا میں خداوند کو ہاں خداوند زندوں کی زمین میں پھر کبھی نہ دیکھونگا۔ انسان اوردنیا کے باشندے مجھے پھر دکھائی نہ دینگے۔
12میرا گھر اجڑ گیا اور گڈریے کے خیمے کی مانند مجھ سےدورکیا گیا۔ میں نے جلاہے کی مانند اپنی زندگانی کو لپیٹ لیا ۔ وہ مجھ کو تانت سے کاٹ ڈالیگا۔ صبح سے شام تک تو مجھ کو تمام کر ڈالتا ہے۔
13میں نے صبح تک تحمل کیا ۔ تب وہ شیر ببر کی مانند میری سب ہڈیاں چور کر ڈالتا ہے ۔ صبح سے شام تک تو مجھے تمام کر ڈالتا ہے۔
14میں ابابیل اورسارس کی طرح چیں چیں کرتا رہا۔ میں کبوتر کی طرح کڑھتا رہا ۔ میری آنکھیں اوپر دیکھتے دیکھتےپتھرا گئیں۔ اے خداوند میں بے کس ہوں تو میرا کفیل ہو۔
15میں کہا کہوں؟ اس نے تو مجھ سے وعدہ کیا اور اسی نے پورا کیا۔ میں اپنی باقی عمر اپنی جان کی تلخی کے سبب سے آہستہ آہستہ پوری کرونگا۔
16اے خداوند ان ہی چیزوں سے انسان کی زندگی ہے اور ان ہی میں میری روح کی حیات ہے۔ سو تو ہی شفا بخش اورمجھے زندہ رکھ۔
17دیکھ میرا سخت رنج راحت میں تبدیل ہوا۔ اورمیری جان پر مہربان ہو کر تو نے اسے نیستی کے گڑھے سے رہائی دی۔ کیونکہ تو نے میرے گناہوں کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔
18اس لیے کہ پاتال تیری ستایش نہیں کر سکتا اور موت سے تیری حمد نہیں ہو سکتی۔ وہ جو گور میں اترنے والے ہیں تیری سچائی کے امیدوار نہیں ہو سکتے ۔
19زندہ ہاں زندہ ہی تیری ستایش کریگا جیسا آج کے دن میں کرتا ہوں۔ باپ اپنی اولاد کو تیری سچائی کی خبر دیگا۔
20خداوند مجھے بچانے کو تیار ہے اس لیے ہم اپنےتاردار سازوں کے ساتھ عمر بھر خداوند کے گھر میں سرود خوانی کرتے رہینگے۔
21یسعیاہ نے کہا تھا کہ انجیر کی ٹکیہ لیکر پھوڑے پر باندھیں اوروہ شفا پائے گا ۔
22اورحزقیاہ نے کہا تھا کہ اسکا کیا نشان ہےکہ میں خداوند کے گھر میں جاونگا؟۔