Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
30 verses
1اب میں اپنے محبوب کے لیے اپنے محبوب کا ایک گیت اُس کےتاکستان کےلیےگاونگا۔ میرے محبوب کا تاکستان ایک زرخیز پہاڑ پر تھا۔
2اور اُس نے اُسے کھودا اور اُس میں سے پتھر نکال دئیے اور اچھی سے اچھی تاکیں اُس میں لگائی ارو اُس میں برج بنایااور ایک کولھو بھی اُس میں لگایا اور انتظار کیا کہ اُس میں اچھے انگور لگیں لیکن اُسمیں جنگلی انگور لگے۔
3اب اےیروشلیم کے باشندہ اور یہوداہ کے لوگو میرے اور میرے تاکستان میں تم ہی انصاف کرو۔
4کہ میں اپنے تاکستان کے لیے اور کیا کر سکتا تھا جومیں نےنہ کیا؟ اوراب جو میں اچھے انگوروں کی اُمیدکی تو اس میں جنگلی انگور کیوں لگے؟۔
5میں تم کو بتاتا ہوں کہ اب میں اپنے تاکستان سے کیا کرونگا میں اُسکی باڑ گرادونگا اور وہ چراگاہ ہو گا۔ اُس کا احاطہ توڑڈالونگا اوروہ پامال کیا جائیگا۔
6اورمیں اُسے بالکل ویران کردونگا۔ وہ نہ چھانٹا جائیگا نہ نرایا جائیگا۔ اُس میں اونٹ کٹارے اور کانٹ اگیں گے اور میں بادلوں کو حکم کرونگا کہ اس پر مینہ نہ برسائیں۔
7سو رب الافواج کا تاکستان اسرائیل کا گھرانہ ہے اور بنی یہوادہ اُس کا خوشمنا پودا ہے اُس نےانصاف کا انتظار کیا پر خونریزی دیکھی وہ داد کا مُنتظر رہاپر فریاد سُنی۔
8اُن پر افسوس جو گھر سے گھر اور کھیت سے کھیت ملا دیتے ہیں یہاں تک کہ کوئی جگہ باقی نہ بچےاور وہی مُلک میں اکیلےبسیں۔
9رب الافواج نےمیرے کان میں کہا یقیناً بہت سےگھر اجڑ جائیں گے اور بڑے بڑے عالیشان اور خوبصورت مکان بھی بے چراغ ہونگے۔
10کیونکہ پندرہ بیگھے تاکستان سے صرف ایک بت مے نکلے گی اور ایک خومر بیج سے ایکایفہ غلہ۔
11اُن پر افسوس جو صبح سویرے اٹھتے ہیں تاکہ نشہ بازی کے درپے ہو اور رات کو جاگتے ہیں جب کہ شراب اُن کو بھڑکا نہ دے ۔
12اور اُن کے جشن کی محفلوں میں ستار، بربط اور دف اور بین اور شراب ہیں لیکن وہ خدا کے کام کو نہیں سوچتے اور اُس کے ہاتھوں کی کایگری پر غور نہیں کرتے۔
13اس لیے میرے لوگ جہالت کے سبب سے اسیری میں جاتے ہیں اُن کے بزرگ بھوکوں مرتے اورعوام پیاس میں جلتے ہیں۔
14بس پاتال اپنی ہوس بڑھاتا ہے اور اپنا منہ بے انتہا پھاڑتاہے اور ان کے شریف اور عام لوگ اور غوگائی اور جو کوئی ان میں فخر کرتاہے اُس میں اُتر جائینگے۔
15اورچھوٹا آدمی جھکایا جائیگا اوربڑا آدمی پست ہو گا اور مغرورں کی آنکھیں نیچی ہو جائیں گی۔
16لیکن رب الافواج عدالت میں سر بُلند ہو گا اور خدائے قدوس کی تقدیس صداقت سے کی جائیگی۔
17تب برے گویا اپنی چراگاہوں میں چریں گے اوردولتمندوں کے ویران کھیت پردیسیوں کے گلے کھائیں گے۔
18اُن پر افسوس جو بطالت کے طنابوں سے بدکرداری کو اور گویاگاڑی کے رسوں سے گناہ کو کھینچ لاتے ہیں ۔
19اور جو کہتے ہیں کہ وہ جلدی کرےاور پُھرتی سے اپنا کام کرےکہ ہم دیکھیں اور اسرائیل کے قُدوُس کی مشورت نزدیک ہو اورآن پہنچے تاکہ ہم اسے جانیں۔
20اُن پر افسوس جو بدی کو نیکی اور نیکی کو بدی کہتےہیں اور نور کی جگہ تاریکی کو او ر تاریکی کی جگہ نور کر دیتے ہیں اور شیرینی کے بدلے تلخی اور تلخی کے بدلے شیرینی رکھتے ہیں۔
21اُن پر افسوس جو اپنی نظر میں دانشمند اوراپنی نگاہ میں صاحب امتیاز ہیں۔
22اُن پر افسوس جو مے پینے میں زور آوراور شراب ملانے میں پہلوان ہیں۔
23جو رشوت لے کر شریروں کو صادق اورصادقوں کو شریر ٹھہراتے ہیں۔
24پس جس طرح آگ بھوسے کو کھا جاتی ہے اور جلتاہوا پھوُس بیٹھ جاتا ہے اُسی طرح اُن کی جڑ بوسیدہ ہوگی اوراُن کی کلی گرد کی طرح اُڑ جائیگی کیونکہ انہوں نے رب الافواج کی شریعت کو ترک کیا اوراسرائیل کے قُدوس کے کلام کو حقیر جانا۔
25اس لیے خداوند کا قہر اُس کے لوگوں پر بھڑکا اور اُس نے اُن کے خلاف اپنا ہاتھ بڑھایا اوراُنکو مارا چنانچہ پہاڑ کانپ گئے اوراُن کی لاشیں بازاروں میں غلاظت کی مانند پڑی ہیں۔ باوجود اُس کا قہر ٹل نہیں گیا بلکہ اُس کا ہاتھ ہنوز بڑھا ہوا ہے ۔
26اور وہ قوموں کے لیے دورسےجھنڈا کھڑا کریگا اوراُن کو زمین کی انتہا سے سُسکار کر بُلائیگا اور دیکھ وہ دوڑےچلے آئینگے۔
27نہ کوئی اُن میں تھکے گا اور نہ پھسلے گا۔ نہ کوئی اونگھیگا اورنہ سوئیگا۔ نہ اُن کا کمر بند کھُلے گا اور نہ جوتیوں کا تسمہ ٹوٹے گا۔
28اُنکے تیر تیز ہیں اور اُن کی سب کمانیں کشیدہ ہونگی۔ اُنکے گھوڑوں کےسم چقماق اوراُنکی گاڑیاں گردباد کی مانند ہونگی۔
29وہ شیرنی کی مانند گرجیں گے ہاں وہ جوان شیروں کی مانند دھاڑیں گے وہ غُرا کر شکار پکڑینگے اوراُسے بےروک ٹوک لےجائیں گے اورکوئی بچانے والا نہ ہوگا۔
30اور اُس روز وہ اُن پر ایسا شور مچائیں گے جیساسمندر کا شورہوتاہے اور اگر کوئی اس ملک پر نظر کرے تو تو بس اندھیرا اور تنگ حالی ہے اورروشنی اُسکے بادلوں سےتاریک ہو جاتی ہے ۔