Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
37 verses
1پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازِل ہوا اور اُس نے فرمایا کہ ۔
2تو جا اور یروشیلم کے کان میں پُکار کر کہہ کہ خداوند یو ں فرماتا ہے کہ میں تیری جوانی کی اُلفت اور تیرے بیاہ کی محبت کو یاد کرتا ہوں کہ تو بیابان یعنی بنجر زمین میں میرے پیچھے پیچھے چلی۔
3اِسرائیل خداوند کا مقدس اور اُسکی افزایش کا پہلا پھل تھا۔ خداوند فرماتا ہے اُسے نگلنے والے سب مجرم ٹھہر ینگے اُن پر آفت آئیگی ۔
4اَے اہل یعقوب اور اہل اِسرائیل کے سب خاندانو! خداوند کا کلام سُنو۔
5خداوند یوں فرماتا ہے کہ تمہارے باپ دادا نے مجھ میں کونسی بے اِنصافی پائی جسکے سبب سے وہ مجھ سے دُور ہوگئے اور بُطلان کی پیروی کرکے باطل ہوئے؟۔
6اور اُنہوں نے یہ نہ کہا کہ خداوند کہاں ہے جو ہمکو ملک مصر سے نکال لایا اور بیابان اور بنجر اور گڑھوں کی زمین میں سے خشکی اور موت کے سایہ کی سر زمین میں سے جہاں سے نہ کوئی گذرتا اور نہ کوئی بودوباش کرتا تھا ہمکو لے آیا ؟۔
7اور میں تمکو باغوں والی زمین میں لایا کہ تم اُسکے میوے اور اُسکے اچھےّ پھل کھاؤ لیکن جب تم دِاخل ہوئے تو تم نے میری زمین کو ناپاک کردیا اور میری میراث کو مُکروہ بنایا ۔
8کاہنوں نے نہ کہا کہ خداوند کہاں ہے؟اور اہل شریعت نے مجھے نہ جانا اور چرواہوں نے مجھ سے سر کشی کی اور نبیوں نے بعل کے نام سے نبوّت کی اور اُن چیزوں کی پیروی کی جن سے کچھ فائدہ نہیں۔
9اِسلئے خداوند فرماتا ہے میں پھر تم سے جھگڑونگا اور تمہارے بیٹوں کے بیٹوں سے جھگڑا کرونگا۔
10کیونکہ پار گذر کر کتیم کے جزیروں میں دیکھو اور قیدار میں قاصد بھیج کر دریافت کرو اور دیکھو کہ اَیسی بات کہیں ہوئی ہے؟۔
11کیا کسی قوم نے اپنے معبودوں کو حالانکہ وہ خدانہیں بدل ڈالا؟ پر میری قوم نے اپنے جلال کو بے فائدہ چیز سے بدلا۔
12خداوند فرماتا ہے اَے آسمانو! اِس سے حیران ہو ۔ شدت سے تھرتھراؤ اور بالکل ویران ہو جاؤ۔
13کیونکہ میرے لوگوں نے دو برائیاں کیں ۔ اُنہوں نے مجھ آبِ حیات کے چشمہ کو ترک کر دیا اور اپنے لئے حوض کھودے ہیں ۔ شکستہ حوض جن میں پانی نہیں ٹھہر سکتا۔
14کیا اِسرائیل غلام ہے؟ کیا وہ خانہ زاد ہے ؟ وہ کس لئے لوٹا گیا ؟۔
15جو ان شیر ببر اُس پر غرائے اور گرجے اور اُنہوں نے اُسکا ملک اُجاڑ دِیا ۔ اُسکے شہر جل گئے ۔ وہاں کوئی بسنے والا نہ رہا۔
16بنی نوف اور بنی تحفنیس نے بھی تیری کھوپڑی پھوڑی ۔
17کیا تو خود ہی یہ اپنے اُوپر نہیں لائی کہ تو نے خداوند اپنے خدا کو ترک کیا جبکہ وہ تیری راہبری کرتا تھا؟۔
18اور اب سیحور کا پانی پینے کو اسور کی راہ میں تیرا کیا مطلب ؟۔
19تیری ہی شرارت تیری تادیب کریگی اور تیری برگشتگی تجھ کو سزا دیگی ۔ خداوند رب الافواج فرماتا ہے دیکھ اور جان لے کہ یہ بُرا اور بے نہایت بیجا کام ہے کہ تو نے خداوند اپنے خدا کو ترک کیا اور تجھکو میرا خوف نہیں۔
20کیونکہ مُدّت ہوئی کہ تو نے اپنے جوئے کو توڑ ڈالا اور اپنے بندھنوں کے ٹکڑے کر ڈالے اور کہا کہ میں تابع نہ رہونگی ۔ہاں ہر ایک اُونچے پہاڑ پر اور پر ایک ہرے درخت کے نیچے تو بدکاری کے لئے لیٹ گئی۔
21میں نے تو تجھے کامل تاک لگا یا اور عمدہ بیج بویا تھا پھر تو کیونکہ کر میرے لئے بے حقیقت جنگلی انگور کا درخت ہو گئی ؟۔
22ہر چند تو اپنے کو مّجی سے دھوئے اور بہت سا صابون اِستعمال کرے تو بھی خداوند خدا فرماتا ہے تیری شرارت کا داغ میرے حضور عیان ہے۔
23تو کیونکہ کر کہتی ہے میں ناپاک نہیں ہوں۔ میں نے بعلیم کی پیروی نہیں کی ؟ وادی میں اپنی روش دیکھ اور جو کچھ تو نے کیا ہے معلوم کر ۔ تو تیز رو اُونٹنی کی مانند ہے جو اِدھر اُدھر دوڑتی ہے۔
24مادہ گور خر کی مانند جو بیابان کی عادی ہے۔ جو شہوت کے جوش میں ہوا کر سُو نگھتی ہے۔ اُسکی مستی کی حالت میں کون اُسے روک سکتا ہے؟اُسکے طالب ماندہ نہ ہو نگے ۔اُسکی مستی کے ایام میں وہ اُسے پالینگے ۔
25تو اپنے پاؤں کو برہنگی سے اور اپنے حلق کو پیاس سے بچا لیکن تو نے کہا کہ کچھ اُمید نہیں ۔ ہرگز نہیں کیونکہ میں بیگانوں پر عاشق ہوں اور اُن ہی کے پیچھے جا ؤنگی ۔
26جس طرح چور پکڑاجانے پر رسوا ہوتا ہے اُسی طرح اِسرائیل کا گھرانا رُسوا ہوا ۔وہ اور اُسکے بادشاہ اور اُمر ا اور کاہن اور بنی ۔
27جو لکڑی سے کہتے ہیں کہ تو میرا باپ ہے اور پتھر سے کہ تو نے مجھے جنم دیا کیونکہ اُنہوں نے میری طرف منہ نہ کیا بلکہ پیٹھ کی پر اپنی مُصیبت کے وقت وہ کہینگے کہ اُٹھ کر ہم کو بچا ۔
28لیکن تیرے بُت کہا ں ہیں جنکو تو نے اپنے لئے بنایا ؟ اگر وہ تیری مصیبت کے وقت تجھے بچا سکتے ہیں تو اُٹھیں کیونکہ اَے یہوداہ ! جتنے تیرے شہر ہیں اُتنے ہی تیرے معبود ہیں۔
29تم مجھ سے کیوں حجت کرو گے؟ تم سب نے مجھ سے بغاوت کی ہے خداوند فرماتا ہے۔
30میں نے بے فائدہ تمہارے بیٹوں کو پیٹا ۔ وہ تربیت پذیر نہ ہوئے ۔ تمہاری ہی تلوار پھاڑنے والے شیر ببر کی طرح تمہارے نبیوں کو کھا گئی ۔
31اَے اِس پُشت کے لوگو! خداوند کے کلام کا لحاظ کرو۔ کیا میں اِسرائیل کے لئے بیابان یا تا ریکی کی زمین ہوا؟ میرے لوگ کیوں کہتے ہیں ہم آزاد ہو گئے ۔ پھر تیرے پاس نہ آئینگے ؟۔
32کیا کنواری اپنے زیویا دُلہن اپنی آرایش بُھول سکتی ہے؟ پر میرے لوگ تو مدت مدیر سے مجھکو بھول گئے۔
33تو طلب عشق میں اپنی راہ کو کیسی آراستہ کرتی ہے ! یقیناًتو نے فاحشہ عورتوں کو بھی اپنی راہیں سکھائی ہیں۔
34تیر ے ہی دامن پر بے گناہ مسکینوں کا خون بھی پایا گیا ۔ تونے اُنکو نقب لگاتے نہیں پکڑا بلکہ اِن ہی سب باتوں کے سبب سے ۔
35تو بھی تو کہتی ہے میں بے قصور ہوں ۔ اُسکا غضب یقیناًمجھ پر سے ٹل جائیگا ۔ دیکھ میں تجھ پر فتوی دونگا کیونکہ تو کہتی ہے میں نے گناہ نہیں کیا۔
36تو اپنی راہ بدلنے کو اَیسی بے قرار کیوں پھرتی ہے؟تو مصر سے بھی شرمندہ ہوگی جیسے اسور سے ہوتی ۔
37وہاں سے بھی تو اپنے سر پر ہاتھ رکھکر نکلیگی کیونکہ خداوند نے اُنکو جن پر تو نے اعتماد کیا حقیر جانا اور تو اُن سے کامیاب نہ ہوگی۔