Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
18 verses
1فشحور بن امیر کاہن نے جو خداوند کے گھر میں سردار ناظم تھا یر میاہ ؔ کو یہ باتیں نبوت سے کہتے سنا ۔
2تب فشحور نے یرمیاہ نبی کو مارا اور اُسے اُس کاٹھ میں ڈالا جو بینمین کے بالائی پھاٹک میں خداوند کے گھر میں تھا۔
3اور دُوسرے دن یوں ہوا کہ فشحور نے یرمیاہ ؔ کوکاٹھ سے نکالا ۔ تب یرمیاہؔ نے اُسے کہا کہ خداوند نے تیرا نام فشحور نہیں بلکہ مجور مسابیب رکھا ہے۔
4کیونکہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں تجھکو تیرے لئے اور تیرے سب دوستوں کے لئے دہشت کا باعث بناؤنگا اور وہ اپنے دُشمنوں کی تلوار سے قتل ہونگے اور تیری آنکھیں دیکھینگی اور میں تمام یہوداہؔ کو شاہ بابل کے حوالہ کردؤنگا اور وہ اُنکواِسیر کرکے بابل میں لے جائیگا اور اُنکو تلوار سے قتل کریگا۔
5اور میں اِس شہر کی ساری دولت اور اِسکے تمام محاسل اور اسکی سب نفیس چیزوں کو اور یہوداہؔ کے بادشاہوں کے سب خزانوں کو دے ڈالونگا ۔ ہاں میں اُنکو اُنکے دُشمنوں کے حوالہ کردُونگا جو اُنکو لُوٹینگے اور بابلؔ کو لے جائینگے ۔
6اور اَے فشخورؔ تو اور تیرا سارا گھرانا اسیری میں جاؤگے اور تو بابلؔ میں پہنچیگا اور وہاں مریگا اور وہیں دفن کیا جائیگا ۔ تو اور تیرے سب دوست جن سے تو نے جھوٹی نبوت کی۔
7اَے خداوند ! تو نے مجھے ترغیب دی ہے اورمیں نے مان لیا۔ تو مجھ سے توانا تھا اور تو غالب آیا ۔ میں دن بھر ہنسی کا باعث بنتا ہوں ۔ ہرایک میری ہنسی اُڑاتا ہے ۔
8کیونکہ جب جب میں کلام کرتا ہوں زور سے پُکارتا ہوں۔ میں نے غضب اور ہلاکت کا اعلان کیا کیونکہ خداوند کا کلام دن بھر میری ملامت اور ہنسی کا باعث ہوتا ہے ۔
9اور اگر میں کہوں کہ میں اُسکا ذکر نہ کرونگا نہ پھر کبھی اُسکے نام سے کلام کرونگا تو اُسکا کلام میرے دل جلتی آگ کی مانند ہے جو میری ہڈیوں میں پوشیدہ ہے اور میں ضبط کرتے کرتے تھک گیا اور مجھ سے رہا نہیں جاتا ۔
10کیونکہ میں نے بہتوں کی تہمت سُنی ۔چاروں طرف دہشت ہے۔ اُسکی شکایت کرو۔وہ کہتے ہیں ہم اُسکی شکایت کرینگے ۔میرے سب دوست میرے ٹھوکر کھائے ۔ تب ہم اُس پر غالب آئینگے اور اُس سے بدلہ لینگے۔
11لیکن خداوند مہیب بہادر کی مانند میری طرف ہے۔اِسلئے مجھے ستانے والوں نے ٹھوکر کھائی اور غالب نہ آئے ۔وہ نہایت شرمندہ ہُوئے اِسلئے کہ اُنہوں نے اپنا مقصد نہ پایا ۔اُنکی شرمندگی ہمیشہ تک رہیگی ۔ کبھی فراموش نہ ہوگی ۔
12پس اَے ربُّ الافواج ! تو جو صادقوں کو آزماتا اور دل ودماغ کو دیکھتا ہے اُن سے بدلہ لیکر مجھے دکھا اِسلئے کہ میں نے اپنا دعویٰ تجھ پر ظاہر کیا ہے۔
13خداوند کی مدح سرائی کرو۔ خداوند کی ستائش کرو کیونکہ اُس نے مسکین کی جان کوبدکرداروں کے ہاتھ سے چھڑایا ہے ۔
14لعنت اُس دن پر جس میں ��یں پیدا ہوا ۔وہ دن جس میں میری ماں نے مجھکو جنم دیا ہرگز مُبارک نہ ہو۔
15لعنت اُس آدمی پر جس نے میرے باپ کو یہ کہکر خبر دی کہ تیرے ہاں بیٹا پیدا ہُوا اور اُسے بہت خوش کیا۔
16ہاں وہ آدمی اُن شہروں کی مانند ہو جنکو خداوند نے شکست دی اور افسوس نہ کیا اور وہ صُبح کو خوفناک شور سُنے اور دوپہر کے وقت بڑی للکار ۔
17اِسلئے کہ اُس نے مجھے رحم ہی میں قتل نہ کیا کہ میری ماں میری قبر ہوتی اور اُسکا رحم ہمیشہ تک بھرارہتا ۔
18میں پیدا ہی کیوں ہوا کہ مشقت اور رنج دیکھوں اور میرے دِن رُسوائی میں کٹیں ؟۔