Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
29 verses
1خداوند یوں فرماتا ہے کہ شاہِ یہوداہؔ کے گھر جا اور وہاں یہ کلام سُنا۔
2اور کہہ اَے شاہِ یہوداہؔ جو داؤدؔ کے تخت پر بیٹھا ہے ! خداوند کا کلام سن ۔تو اور تیرے ملازم اور تیرے لوگ جوان دروازوں سے داخل ہوتے ہیں ۔
3خداوند یوں فرماتا ہے کہ عدالت اور صداقت کے کام کرو اور مظلوم کو ظالم کے ہاتھ سے چھڑاؤ اور کسی سے بدسلوکی نہ کرو اور مسافر ویتیم اور بیوہ پر ظلم نہ کرو اِس جگہ بے گناہ کو خون نہ بہاؤ۔
4کیونکہ اگر تم اِس پر عمل کرو گے تو داؤدؔ کے جانشین بادشاہ رتھوں پر اور گھوڑوں پر سوار ہو کر اس گھر کے پھاٹکوں سے داخل ہونگے ۔ بادشاہ اور اُسکے مُلازم اور اُسکے لوگ ۔
5پر اگر تم اِن باتوں کو نہ سُنو گے تو خداوند فرماتا ہے مجھے اپنی ذات کی قسم یہ گھر ویران ہو جائیگا ۔
6کیونکہ شاہِ یہوداہؔ کے گھرانے کی بابت خداوند یوں فرماتا ہے کہ اگرچہ تو میرے لئے جلعاد ؔ ہے اور لُبنانؔ کی چوٹی تو بھی میں یقیناًتجھے اُجاڑ دُونگا اور غیر آباد شہر بناؤنگا ۔
7اور میں تیرے خلاف غارت گروں کومقررہ کرونگا ۔ ہر ایک کو اُسکے ہتھیاروں سمیت اور وہ تیرے نفیس دیوراروں کو کا ٹینگے اور اُنکو آگ میں ڈالینگے ۔
8اور بہت سی قومیں اِس شہر کی طرف سے گذرینگی اور اُن میں سے ایک دوسرے سے کہیگا کہ خداوند نے اِس بڑے شہر سے ایسا کیوں کیا ہے ؟۔
9تب وہ جواب دینگے اِسلئے کہ اُنہوں نے خداوند اپنے خدا کے عہد کو ترک کیا اور غیر معبودوں کی عبادت اور پر ستش کی ۔
10مُردہ پر نہ رونہ نُوحہ کرو مگر اُس پر جو چلا جاتا ہے زار زار نالہ کرو کیونکہ وہ پھر نہ آئیگا نہ اپنے وطن کو دیکھیگا ۔
11کیونکہ شاہِ یہوادہؔ سلُوم بن یوسیاہؔ کی بابت جو اپنے باپ یوسیاہؔ کا جانشین ہوا اور اِس جگہ سے چلا گیا خداوند یوں فرماتا ہے کہ وہ پھر اِس طرف نہ آئیگا ۔
12بلکہ وہ اُسی جگہ مریگا جہاں اُسے اسیر کرکے لے گئے ہیں اور اِس ملک کو پھر نہ دیکھیگا ۔
13اُس پرجو افسوس جو اپنے گھر کو بے اِنصافی سے اور اپنے بالا خانوں کو ظلم سے بناتا ہے ۔ جو اپنے پڑوسی سے بیگار لیتا ہے اور اُسکی مُزدُوری اُسے نہیں دیتا ۔
14جو کہتا ہے میں اپنے لئے بڑا مکان اور ہوا دار بالا خانہ بناؤنگا اور وہ اپنے لئے جھنجھریاں بناتا ہے اور دیودار کی لکڑی کی چھت لگاتا ہے اور اُسے شنگر فی کرتا ہے۔
15کیا تو اِسی لئے سلطنت کریگا کہ تجھے دیودار کے کام کا شوق ہے؟ کیا تیرے باپ نے نہیں کھایا پیا اور عدالت وصداقت نہیں کی جِس سے اُسکا بھلا ہوا؟
16اس نے مسکین اور محتاج کا اِنصاف کیا۔ اِسی سے اُسکا بھلا ہوا ۔کیا یہی میرا عرفان نہ تھا ؟ خداوند فرماتا ہے۔
17پر تیری آنکھیں اور تیرا دِل فقط لالچ اور بے گناہ کا خون بہانے اور ظلم وستم پر لگے ہیں ۔
18اِسی لئے خداوند یہو یقیمؔ شاہِ یہوادہؔ بن یوسیاہؔ کی بابت یوں فرماتا ہے کہ اُس پر ہائے میرے بھائی !یا ہائے بہن !کہکر ماتم نہیں کرینگے ۔اُسکے لئے ہائے آقا!یا ہائے مالک !کہکر نَوحہ نہیں کرینگے ۔
19اُسکا دفن گدھے کا سا ہوگا ۔اُسکو گھسیٹ کر یروشیلم کے پھاٹکوں کے باہر پھینک دینگے۔
20تو لُبنان پر چڑھ جا اور چلا اور بسن ؔ میں اپنی آواز بلند کر اور عیاریم ؔ پر سے نالہ کر کیونکہ تیرے سب چاہنے والے مارے گئے ۔
21میں نے تیری اِقبالمندی کے ایام میں تجھ ساکلام کیا پر تو نے کہا میں نہ سنونگی ۔ تیری جوانی سے تیری یہی چال ہے کہ تو میری آواز کو نہیں سُنتی ۔
22ایک آندھی تیرے چرواہوں کو اُڑ لے جائیگی اور تیرے عاشق اِسیری میں جائینگے ۔تب تو اپنی ساری شرارت کے لئے شرمسار اور پشیمان ہو گی ۔
23اَے لبنانؔ کی بسنے والی جو اپنا آشیانہ نہ دیوداروں پر بناتی ہے تو کیسی عاجزہو گی جب تو زچہ کی مانند دردزہ میں مبتلا ہو گی ۔
24خداوند فرماتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم اگرچہ تو اَے شاہِ یہوداہؔ کونیاہؔ بن یہویقیم ؔ میرے دہنے ہاتھ کی انگوٹھی ہوتا تو بھی میں تجھے نکال پھینکتا ۔
25اور میں تجھکو تیرے جانی دُشمنوں کے جن سے توڈرتا ہے یعنی شاہِ بابلؔ بنوکدؔ رضر اور کسدیوں کے حوالہ کرونگا ۔
26ہاں میں تجھے اور تیری ماں کو جس سے تو پیدا ہوا غیر ملک میں جو تمہاری زاد بوم نہیں ہے ہانک دُونگا اور تم وہیں مروگے ۔
27جس ملک میں وہ واپس آنا چاہتے ہیں ہرگز لوٹ کر نہ آئینگے ۔
28کیا یہ شخص کونیاہؔ ناچیز ٹوٹا برتن ہے یا ایسا برتن جسے کوئی نہیں پوچھتا؟ وہ اور اُسکی اَولاد کیوں نکال دِئے گئے اور اَیسے ملک میں جلا وطن کئے گئے جسے وہ نہیں جانتے؟۔
29اے زمین زمین زمین !خداوند یوں فرماتا ہے کہ اِس آدمی کو بے اَولاد لکھو جو اپنے دِنوں میں اقبالمندی کامنہ نہ دیکھیگا کیونکہ اُسکی اَولاد میں سے کبھی کوئی ایسا اِقبالمند نہ وہ گا کہ داؤدؔ کے تخت پر بیٹھے اور یہوداہؔ پر سلطنت کرے۔