Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
21 verses
1اور صدقیاہؔ بن یوسیاہؔ م جسکو شاہِ بابلؔ نبوکدؔ رضر نے ملک یہوداہؔ پر بادشاہ مُقر ر کیا تھا کُونیاہؔ بن یہویقیمؔ کی جگہ بادشاہی کرنے لگا۔
2لیکن نہ اُن نے نہ اُسکے مُلازموں نے نہ ملک کے لوگوں نے خداوند کی وہ باتیں سُنیں جو اُس نے یرمیاہؔ نبی کی معرفت فرمائی تھیں ۔
3اور صدقیاہؔ بادشاہ نے یہوکلؔ بن سلمیاہؔ اور صفنیاہؔ بن معسیاہؔ کاہن کی معرفت یرمیاہؔ نبی کو کہلابھیجا کہ اب ہمارے لئے خداوند ہمارے خدا سے دُعا کر ۔
4ہنوزیرمیاہؔ لوگوں کے درمیان آیا جایا کرتا تھا کیونکہ اُنہوں نے ابھی اُسے قید خانہ میں نہیں ڈالا تھا۔
5اِس وقت فرعونؔ کی فوج نے مصرؔ سے چڑھائی کی اور جب کسدیوں نے یروشلیم کا محاصرہ کئے تھے۔ اِسکی شہرت سُنی تو وہاں سے چلے گئے ۔
6تب خداوند کا یہ کلام یرمیاہ ؔ نبی پر نازل ہُوا۔
7کہ خداوند اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تم شاہِ یہوداہؔ سے جس نے تم کو میری طرف بھیجا کہ مجھ سے دریافت کرو یوں کہنا کہ دیکھ فرعونؔ کی فوج جو تمہاری مدد کو نکلی ہے اپنے ملک مصرؔ کو لوٹ جائیگی ۔
8اور کسدی واپس آکر اِس شہر سے لڑینگے اور اِسے فتح کرکے آگ سے جلا ئینگے ۔
9خداوند یوں فرماتا ہے کہ تم یہ کہکر اپنے آپکو فریب نہ دو کہ کسدی ضرور ہمارے پاس سے چلے جائینگے کیونکہ وہ نہ جائینگے ۔
10اور اگرچہ تم کسدیوں کی تمام فوج کو جو تم سے لڑتی ہے اَیسی شکست دیتے کہ اُن میں سے صرف زخمی باقی رہتے تو بھی وہ سب اپنے اپنے خیمہ سے اُٹھتے اور اِس شہر کو جلا دیتے ۔
11اور جب کسدیوں کی فوج فرعون ؔ کی فوج کے ڈر سے یروشلیم کے سامنے سے کوچ کر گئی ۔
12تو یرمیاہؔ یروشلیم سے نکلا کہ بینمین کے علاقہ میں جا کر وہاں لوگوں کے درمیان اپناحصہ لے۔
13اور جب وہ بنیمین کے پھاٹک پر پہنچا تو وہاں پہرے والوں کا داروغہ تھا جسکا نا م اِریاہؔ یرمیاہؔ کو پکڑااور کہا کہ کسدیوں کی طرف بھاگا جاتا ہے ۔
14تب یرمیاہؔ نے کہا کہ یہ جھوٹ ہے ۔ میں کسدیوں کی طرف بھاگا نہیں جاتا ہوں پر اُس نے اُسکی ایک نہ سُنی پس اِریاہؔ یرمیاہؔ کو پکڑ کر اُمرا کے پاس لایا ۔
15اور اُمرا یرمیاہؔ پر غضبناک ہوئے اور اُسے مارا اور ےُونتینؔ منشی کے گھر میں اُسے قید کیا کیونکہ اُنہوں نے اُس گھر کو قید خانہ بنا رکھا تھا۔
16جب یرمیاہؔ قید خانہ میں اور اُسکے تہ خانوں میں داخل ہو کر بہت دِنوں تک وہاں رہ چکا ۔
17تو صدقیاہؔ بادشاہ نے آدمی بھیج کر اُسے نکلو ایا اور اپنے محل میں اُس خفیہ طور سے دریافت کیا کہ کیا خداوند کی طرف سے کوئی کلا م ہے؟ اور یرمیاہؔ نے کہا کہ ہے کیونکہ اُس نے فرمایا ہے کہ تو شاہِ بابلؔ کے حوالہ کیا جائیگا ۔
18اور یرمیاہؔ نے صدقیاہؔ بادشاہ سے کہا کہ میں نے تیرا اور تیرے مُلازموں کا اور اِن لوگوں کا کیا گناہ کیا ہے کہ تم نے مجھے قید خانہ میں ڈالا ہے؟۔
19اب تمہارے نبی کہاں ہیں جو تم سے نبوت کرتے اور کہتے تھے کہ شاہِ بابلؔ تم پر اور اِس ملک پر چڑھائی نہیں کریگا ؟۔
20اب اَے بادشاہ میرے آقا! میری سُن ۔ میری درخواست قبول فرما اور مجھے ےُونتنؔ منشی کے گھر میں واپس نہ بھیج اَیسا نہ ہو کہ میں وہاں مر جاؤں ۔
21تب صدقیاہؔ بادشاہ نے حکم دیا اور اُنہوں نے یرمیاہ ؔ کو قید خانہ کے صحن میں رکھا اور ہر روز اُسے نانبائیوں کے محلہ سے ایک روٹی لیکر دیتے رہے جب تک کہ شہر میں روٹی مل سکتی تھی ۔ پس یرمیاہؔ قید خانہ کے صحن میں رہا۔