Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
27 verses
1پھر سفطیا ہؔ بن متانؔ اور جد لیاہؔ بن فشحورؔ اور یوکلؔ بن سلمیاہؔ اور فشحورؔ بن ملکیاہؔ نے وہ باتیں جو یرمیاہ ؔ سب لوگوں سے کہتا تھا سُنیں ۔ وہ کہتا تھا ۔
2خداوند یوں فرماتا ہے کہ جو کوئی اِس شہر میں رہیگا وہ تلوار اور کال اور وبا سے مریگا اور جو کسدیوں میں جا ملیگا وہ زندہ رہیگا اور اُسکی جان اُسکے لئے غنیمت ہو گی اور وہ جیتا رہیگا ۔
3خداوند یوں فرماتا ہے کہ یہ شہر یقیناًشاہِ بابلؔ کی فوج کے حوالہ کر دیا جائیگا اور وہ اِسے لے لیگا۔
4اِسلئے اُمرا نے بادشاہ سے کہا ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ اِس آدمی کو قتل کروا کیونکہ یہ جنگی مردوں کے ہاتھوں کو جو اِس شہر میں باقی ہیں اور سب لوگوں کے ہاتھوں کو اُن سے ایسی باتیں کہکر سُست کرتا ہے کیونکہ یہ شخص اِن لوگوں کا خیر خواہ نہیں بلکہ بدخواہ ہے ۔
5تب صدقیاہؔ بادشاہ نے کہا وہ تمہارے قابو میں ہے کیونکہ بادشاہ تمہارے خلاف کچھ نہیں کرسکتا ۔
6تب اُنہوں نے یرمیاہؔ کو پکڑکر ملکیاہؔ شاہزادہ کے حوض میں قید خانہ کے صحن میں تھاڈالدیا اور اُنہوں نے یرمیاہؔ کو رسے سے باندھکر لٹکا یا اور حوض میں کچھ پانی نہ تھا بلکہ کیچ تھی اور یرمیاہؔ کیچ میں دھس گیا۔
7اور جب عبدملک کوشی نے جو شاہی محل کے خواجہ سراؤں میں سے تھا سُنا کہ اُنہوں نے یرمیاہ ؔ کو حوض میں ڈالدیا ہے جبکہ بادشاہ بنیمین کے پھاٹک میں بیٹھا تھا ۔
8تو عبدؔ ملک بادشاہ کے محل سے نکلا اور بادشاہ سے یوں عرض کی ۔
9کہ اَے بادشاہ میرے آقا! اِن لوگوں نے یرمیاہؔ نبی سے جو کچھ کیا بُرا کیا کیونکہ اُنہوں نے اُسے حوض میں ڈالدیا ہے اور وہ وہاں بھوک سے مرجائیگا کیونکہ شہر میں روٹی نہیں ہے۔
10تب بادشاہ نے عبدملکؔ کو شی کو یوں حکم دیا کہ تو یہاں سے تیس آدمی اپنے ساتھ لے اور یرمیاہؔ نبی کو پیشتر اِس سے کہ مر جائے حوض میں سے نکال ۔
11اور عبدؔ ملک اُن آدمیوں کو جو اُسکے پاس تھے اپنے ساتھ لیکر بادشاہ کے محل میں خزانہ کے نیچے گیا اور پُرانے چتھڑے اور پُرانے سڑے ہوئے لتے وہاں سے لئے اور اُنکورسیوں کے وسیلہ سے حوض میں یرمیاہؔ کے پاس لٹکایا ۔
12اور عبدؔ ملک کوشی نے یرمیاہ ؔ سے کہا کہ اِن پُرانے چتھڑوں اور سڑے ہوئے لتوں کو رسّی کے نیچے اپنی بغل تلے رکھ اور یرمیاہؔ نے ویسا ہی کیا ۔
13اور اُنہوں نے رسّیوں سے یرمیاہؔ کو کھینچا اور حوض سے باہر نکالا اور یرمیاہؔ قیدخانہ کے صحن میں رہا۔
14تب صدقیاہؔ بادشاہ نے یرمیاہؔ نبی کو خداوند کے گھر کے تیسرے مدخل میں اپنے پاس بُلوایا اور بادشاہ نے یرمیاہؔ سے کہا میں تجھ سے ایک بات پُوچھتا ہوں۔ تو مجھ سے کچھ نہ چھپا ۔
15اور یرمیاہ ؔ نے صدقیاہؔ سے کہا کہ اگر میں تجھ سے کھو لکر بیان کروں تو کیا تو مجھے یقیناًقتل نہ کریگا ؟اور اگر میں تجھے صلاح دُوں توتو نہ مانیگا ۔
16تب صدقیاہؔ بادشاہ نے یرمیاہ کے سامنے تنہائی میں کہا زندہ خداوند کی قسم جو ہماری جانوں کا خالق ہے کہ نہ میں تجھے قتل کرونگا اور نہ اُنکے حوالہ کرونگا جو تیری جان کے خواہاں ہیں ۔
17تب یرمیاہؔ نے صدقیاہؔ سے کہا کہ خداوند لشکروں کا خدا اِسراؔ ئیل کا خدا یوں فرماتا ہے یقینااگر تو نکلکر شاہِ بابلؔ کے اُمرا کے پاس چلا جائیگا تو تیری جان بچ جائیگی اور یہ شہر آگ سے جلایا نہ جائیگا اور تو اور تیرا گھرانا زندہ رہیگا ۔
18پر اگر تو شاہِ بابلؔ کے اُمرا کے پاس نہ جائیگا تو یہ شہر کسدیوں کے حوالہ کر دیا جائیگا اور وہ اِسے جلادینگے اور تو اُنکے ہاتھ سے رہائی نہ پائیگا ۔
19اور صدقیاہؔ بادشاہ نے یرمیاہ ؔ سے کہا کہ میں اُن یہودیوں سے ڈرتا ہوں جو کسدیوں سے جا ملے ہیں۔ اَیسا نہ ہو کہ وہ مجھے اُنکے حوالہ کریں اور وہ مجھ پر طعنہ ماریں ۔
20اور یرمیاہ ؔ نے کہا وہ تجھے حوالہ نہ کرینگے ۔ میں تیری منت کرتا ہوں تو خداوند کی بات جو میں تجھ سے کہتا ہوں مان لے ۔ اِ س سے تیرا بھلا ہوگا اور تیری جان بچ جائیگی ۔
21پر اگر تو جانے سے اِنکار کرے تو یہی کلام ہے جو خداوند نے مجھ پر ظاہر کیا ۔
22کہ دیکھ وہ سب عورتیں جو شاہِ یہوداہؔ کے محل میں باقی ہیں شاہِ بابلؔ کے اُمرا کے پاس پہنچائی جائینگی اور کہینگی کہ تیرے دوستوں نے تجھے فریب دیا اور تجھ پر غالب آئے ۔ جب تیرے پاؤں کیچ میں دھس گئے تو وہ اُلٹے پھر گئے۔
23اور وہ تیری سب بیویوں اور تیرے بیٹوں کو کسدیوں کے پاس نکال لے جائینگے اور تو بھی اُنکے ہاتھ سے رہائی نہ پائیگا بلکہ شاہِ بابلؔ کے ہاتھ میں گرفتار ہو گا اور تو اِس شہر کے آگ سے جلائے جانے کا باعث ہوگا۔
24تب صدقیاہؔ نے یرمیاہ ؔ سے کہا کہ اِ ن باتوں کو کوئی نہ جانے توتو مارا نہ جائیگا ۔
25پر اگر اُمرا سن لیں کہ میں نے تجھ سے بات چیت کی اور تیرے پاس آکر کہیں کہ جو کچھ تو نے بادشاہ سے کہا اورجو کچھ بادشاہ نے تجھ سے کہا اب ہم پر ظاہر کر ۔ ہم سے نہ چھپا اور ہم تجھے قتل نہ کرینگے ۔
26تب تو اُن سب باتوں کے مطابق جو بادشاہ نے فرمائی تھیں اُنکو جواب دیا اور وہ اُسکے پاس سے چپ ہو کر چلے گئے کیونکہ اصل مُعاملہ اُنکو معلوم نہ ہوا۔
27اور جس دِن تک یروشلیم فتح نہ ہوا یرمیاہؔ قیدخانہ کے صحن میں رہا اور جب یروشلیم فتح ہوا تو وہ وہیں تھا ۔