Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
18 verses
1شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ کے نویں برس کے دسویں مہینے میں شاہِ بابلؔ نبوکدرضرؔ اپنی تمام فوج لیکر یروشلیم پر چڑھ آیا اور اُسکا محاصرہ کیا ۔
2صدقیاہؔ کے گیارھویں برس کے چوتھے مہینے کی نویں تاریخ کو شہر کی فصیل میں رخنہ ہو گیا ۔
3اور شاہِ بابلؔ کے سب سردار یعنی نیرکلؔ سراضرؔ مجوسیوں کا سردار اور شاہِ بابلؔ کے باقی سردار داخل ہوئے اور درمیانی پھاٹک پر بیٹھے ۔
4اور شاہِ یہوداہؔ صدقیاہؔ اور سب جنگی مرد اُنکو دیکھکر بھاگے اور دونوں دیواروں کے درمیان جو پھاٹک شاہی باغ کے برابر تھا اُس سے وہ رات ہی رات بھاگ نکلے اور بیابان کی راہ لی ۔
5لیکن کسدیوں کی فوج نے اُنکا پیچھا کیا اور یریحو کے میدان میں صدقیاہ ؔ کو جا لیا اور اُسکو پکڑ کر ربلہ ؔ میں شاہِ بابلؔ نبوکدرضرؔ کے پاس حمایت کے علاقہ میں لے گئے اور اُس نے اُس پر فتویٰ دیا۔
6اور شاہِ بابلؔ نے صدقیاہؔ کے بیٹوں کو ربلہ میں اُسکی آنکھوں کے سامنے ذبح کیا اور یہوداہؔ کے سب شرفا کو بھی قتل کیا ۔
7اور اُس نے صدقیاہ ؔ کی آنکھیں نکال ڈالیں اور بابلؔ کو لے جانے کے لئے اُسے زنجیروں سے جکڑا ۔
8اور کسدیوں نے شاہی محل کو اور لوگوں کے گھروں کو آگ سے جلا دیا اور یروشلیم کی فصیل کو گرادیا ۔
9اِسکے بعد جلوداروں کا سردار نبوزؔ رادان باقی لوگوں کو جو شہر میں رہ گئے تھے اور اُنکو جو اُسکی طرف ہو کر اُسکے پاس بھاگ آئے تھے یعنی قوم کے سب باقی لوگوں کو اسیر کرکے بابلؔ کو لے گیا۔
10پر قوم کے مسکینوں کو جنکے پاس کچھ نہ جلوداروں کے سردار نبوزرادانؔ نے یہوداہؔ کے ملک میں رہنے دیا اور اُسی وقت اُنکو تاکستان اور کھیت بخشے ۔
11اور شاہِ بابل ؔ نبوکدرضرؔ نے یرمیاہؔ کی بابت جلوداروں کے سردار نبوزرادانؔ کو تاکید کرکے یوں کہا ۔
12کہ اُسے لیکر اُس پر خوب نگاہ رکھ اور اُسے کچھ دُکھ نہ دے بلکہ تواُس سے وہی کر جو وہ تجھے کہے۔
13سو جلوداروں کے سردار نبوزارادانؔ نبوشزبان خواجہ سراؤں کے سردار اور نیرکل ؔ سراضر مجوسیوں کے سردار اور بابلؔ کے سب سرداروں نے آدمی بھیج کر ۔
14یرمیاہؔ کو قید خانہ کے صحن سے نکلو الیا اور جدلیاہؔ بن اخیقامؔ بن سافن ؔ کے سپرد کیا کہ اُسے گھر لے جائے ۔ سو وہ لوگوں کے ساتھ رہنے لگا۔
15اور جب یرمیا ہؔ قید خانہ کے صحن میں بند تھا خداوند کا یہ کلام اُس پر نازل ہوا۔
16کہ جا عبد ملک ؔ کوشی سے کہہ کہ ربُّ الافواج اِسراؔ ئیل کا خدایوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اپنی باتیں اِس شہر کی بھلائی کے لئے نہیں بلکہ خرابی کے لئے پُوری کُرونگا اور وہ اُس روز تیرے سامنے پُوری ہونگی ۔
17پر اُس دِن میں تجھے رہائی دُونگا خداوند فرماتا ہے اور تو اُن لوگ��ں کے حوالہ نہ کیا جائیگا جن سے تو ڈرتا ہے۔
18کیونکہ میں تجھے ضرور بچاؤنگا اور تو تلوار سے مارا نہ جائیگا بلکہ تیری جان تیرے لئے غنیمت ہو گی اِسلئے کہ تو نے مجھ پر توکل کیا خداوند فرماتاہے۔