Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
16 verses
1وہ کلام جو خداوند کی طرف یرمیاہؔ پر نازل ہوا اِسکے بعد کہ جلوداروں کے سردار نبُوزرادان ؔ نے اُسکو رامہؔ سے روانہ کر دیا جب اُس نے اُسے ہتھکڑیوں سے جکڑا ہوا اُن سب اسیروں کے درمیان پایا جو یروشلیم اور یہوداہؔ کے تھے جنکو اسیر کر کے بابلؔ کو لے جا رہے تھے۔
2اور جلوداروں کے سردار نے یرمیا ہؔ کو لیکر اُس سے کہا کہ خداوندتیرے خدا نے اِس بلا کی جو اِس جگہ پر آئی خبر دی تھی ۔
3سو خداوند نے اُسے نازل کیا اور اُس نے اپنے قول کے مطابق کیا کیونکہ تم لوگوں نے خداوند کا گناہ کیا اور اُسکی نہیں سُنی اِسلئے تمہارا یہ حال ہوا۔
4اور دیکھ آج میں تجھے اِن ہتھکڑیوں سے جو تیرے ہاتھوں میں ہیں رہائی دیتا ہوں ۔ اگر میرے ساتھ بابلؔ چلنا تیری نظر میں بہتر ہو تو چل اور میں تجھ پر خوب نگاہ رکھو نگا اور اگر میرے ساتھ بابلؔ چلنا تیری نظر میں بُرا لگے تویہیں رہ تمام ملک تیرے سامنے ہے ۔ جہاں تیرا جی چاہئے اور تو مناسب جانے وہیں چلا جا ۔
5وہ وہیں تھا کہ اُس نے پھر کہا تو جدلیاہؔ بن اخیقامؔ بن سا فنؔ کے پاس جسے شاہِ بابلؔ نے یہوداہؔ کے شہروں کا حاکم کیا ہے چلا جا اور لوگوں کے درمیان اُسکے ساتھ رہ ورنہ جہاں تیری نظر میں بہتر ہو وہیں چلا جا ۔ اور جلوداروں کے سردار نے اُسے خوراک اور اِنعام دیکر رُخصت کیا۔
6تب یرمیاہؔ جدلیاہؔ بن اخیقامؔ کے پاس مصفاہؔ میں گیا اور اُسکے ساتھ اُن لوگوں کے درمیان جو اُس ملک میں باقی رہ گئے تھے رہنے لگا۔
7جب لشکروں کے سب سرداروں نے اور اُنکے آدمیوں نے جو میدان میں رہ گئے تھے سُنا کہ شاہِ بابلؔ نے جدلیاہؔ بن اخیقامؔ کو ملک کا حاکم مُقرر کیا ہے اور مردوں اور عورتوں اور بچوں کو اور مملکت کے مسکینوں کو جو اسیرہو کر بابلؔ کو نہ گئے تھے اُسکے سُپرد کیا ہے ۔
8تو اِسمٰعیلؔ بن نتنیاہؔ اور ےُوحنانؔ اور ےُونتنؔ بنی قریح اور سرایاہؔ بن تنحومتؔ اور بنی عیفی نطوفاتی اور نیر نیاہؔ بن معکاتیؔ اپنے آدمیوں کے ساتھ جدلیاہؔ کے پاس مصفاہؔ میں آئے ۔
9اور جدلیاہؔ بن اخیقامؔ بن سافنؔ نے اُن سے اور اُنکے آدمیوں سے قسم کھا کر کہا کہ تم کسدیوں کی خدمتگذاری سے نہ ڈرو۔ اپنے ملک میں بسو اور شاہِ بابلؔ کی خدمت کرو تو تمہارا بھلا ہوگا۔
10اور دیکھو میں تو اِسلئے مصفاہؔ مے رہتا ہوں کہ جو کسدی ہمارے پاس آئیں اُنکی خدمت میں حاضر رہوں پر تم مے اور تابستانی میوے اور تیل جمع کرکے اپنے برتنوں میں رکھو اور اپنے شہروں میں جن پر تم نے قبضہ کیا ہے بسو۔
11اور اِسی طرح جب اُن سب یہودیوں نے جو موآب ؔ اور بنی عمون اور ادُوم ؔ اور تمام ممالک میں تھے سُنا کہ شاہِ بابلؔ نے یہوداہؔ کے چند لوگوں کو رہنے دیا ہے اور جدلیاہؔ بن اخیقامؔ بن سافنؔ کو اُن پر مُقرر کیا ہے ۔
12تو سب یہودی ہر جگہ سے جہاں وہ تتر بتر کئے گئے تھے لوٹ�� اور یہوداہؔ کے ملک میں مصفاہؔ میں جدلیاہؔ کے پاس آئے اور مے اور تابستانی میوے کثرت سے جمع کئے۔
13اور ےُوحنانؔ بن قریح ؔ اور لشکروں کے سب سردار جو میدانوں میں تھے مصفاہؔ میں جدلیاہؔ کے پاس آئے۔
14اور اُس سے کہنے لگے کیا تو جانتا ہے کہ بنی عمون کے بادشاہ بعلیسؔ نے اِسمٰعیل ؔ بن نتنیاہؔ کو اِسلئے بھیجا ہے کہ تجھے قتل کرے؟ پر جدلیاہؔ بن اخیقامؔ نے اُنکا یقین نہ کیا ۔
15اور یوحنان بن قریح ؔ نے مصفاہؔ میں جدلیاہؔ سے تنہائی میں کہا کہ اجازت ہو تو میں اِسمٰعیل بن نتنیاہؔ کو قتل کروں اور اِسکو کوئی نہ جائیگا ۔ وہ کیوں تجھے قتل کرے اور سب یہودی جو تیرے پاس جمع ہوئے ہیں پراگندہ کئے جائیں اور یہوداہ ؔ کے باقی ماندہ لوگ ہلاک ہوں؟ ۔
16پر جدلیاہ ؔ بن اخیقامؔ نے یوحنانؔ بن قریح ؔ سے کہا تو ایسا کام ہر گز نہ کرنا کیونکہ تو اِسمٰعیل کی بابت جھوٹ کہتا ہے ۔