Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
35 verses
1تب الِیفزؔ تیمائی نے جواب دیا:۔
2کیا عقلمند کو چاہئے کہ لغو باتیں جوڑ کر جواب دے اور مشر قی ہوا سے اپنا پیٹ بھرے ؟
3کے اوہ بیفاءِدہ بکواس سے بحث کرے یا اَیسی تقریروں سے جو بے سُود ہیں ؟
4بلکہ تو خوف کو برطرف کرکے خدا کے حُضور عبادت کو زائل کرتا ہے ۔
5کیونکہ تیرا گناہ تیرے منہ کا سکھاتا ہے اور تو عیّاروں کی زبان اِختیار کرتا ہے ۔
6تیرا ہی منہ تجھے ملزم ٹھہراتا ہے نہ کہ میں بلکہ تیرے ہی ہونٹ تیرے خلاف گواہی دیتے ہیں ۔
7کیا پہلا اِنسان تو ہی پیدا ہُوا ؟ یا پہاڑوں سے پہلے تیری پیدائش ہُوئی ؟
8کیا تو نے خدا کی پوشیدہ مصلحت سُن لی ہے اور اپنے لئے عقلمندی کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ؟
9تو اَیسا کیا جانتا ہے جو ہم میں نہیں جانتے؟ تجھ میں اَیسی کیا سمجھ ہے جو ہم میں نہیں ؟
10ہم لوگوں میں سفید سرا اور بڑے بُوڑھے بھی ہیں جو تیرے باپ سے بھی بہت زیادہ عمر کے ہیں ۔
11کیا خدا کی تسلی تیرے نزدیک کچھ کم ہے اور وہ کلام جو تجھ سے نرمی کے ساتھ کیا جاتا ہے ؟
12تیرا دِل کیو ں تجھے کھینچ لے جاتا ہے اور تیری آنکھیں کیوں اِشارہ کرتی ہیں
13کہ تو اپنی رُوح کو خدا کی مخالف پر آمادہ کرتا ہے اور وہ اپنے منہ سے اَیسی باتیں نکلنے دیتا ہے؟
14اِنسان ہے کیا کہ وہ پاک ہو؟ اور وہ جو عورت سے پیدا ہُوا کیا ہے کہ صادق ہو؟
15دیکھ! وہ اپنے قُدسیوں کا اعتبار نہیں کرتا بلکہ آسمان بھی اُسکی نظر میں پاک نہیں ۔
16پھر بھلا اُسکا کیا ذکر جو گھنونا اور خراب ہے یعنی وہ آدمی جو بدی کو پانی کی طرح پیتا ہے ؟
17میں تجھے بتاتا ہوں ۔ تُو میری سُن اور جو میں نے دیکھا ہے اُسکا بیا ن کُرونگا ۔
18(جسے عقلمندوں نے اپنے باپ دادا سے سُنکر بتایا ہے اور اُسے چھپایا نہیں
19صرف اُن ہی کو ملک دیا گیا تھا اور کوئی پردیسی اُنکے درمیان نہیں آیا)۔
20شریر آدمی اپنی ساری عمر درد سے کراہتا ہے ۔یعنی سب برس جو ظالم کے لئے رکھے گئے ہیں ۔
21ڈراونی آوازیں اُسکے کان میں گُونجتی رہتی ہیں ۔اِقبالمندی کے وقت غارتگر اُس پر آپڑیگا ۔
22اُسے یقین نہیں کہ وہ اندھیرے سے باہر نکلیگا اور تلوار اُسکی مُنتظر ہے۔
23وہ روٹی کے لئے مارامارا پھرتا ہے کہ کہاں ملیگی ۔وہ جانتا ہے کہ اندھیرے کا دِن پاس ہی ہے ۔
24مصیبت اور سخت تکلیف اُسے ڈراتی ہیں ۔اَیسے بادشاہ کی طرح جو لڑائی کے لئے تیار ہو وہ اُس پر غالب آتی ہیں۔
25اِسلئے کہ اُس نے خدا کے خلاف اپنا ہاتھ بڑھایا ہے اور قادِرمطلق کے خلاف بے باکی کرتا ہے۔
26وہ اپنی ڈھالوں کی موٹی موٹی گُلمیخوں کے ساتھ گردن کش ہو کر اُس پر لپکتا ہے ۔
27اِسلئے کہ اُسکے منہ پر مُٹا پا چھا گیا ہے اور اُسکے پہلُوؤں پر چرب�� کی تہیں جم گئی ہیں ۔
28اور وہ ویران شہروں میں بس گیا ہے ۔اَیسے مکانوں میں جن میں کوئی آدمی نہ بسا اور جو کھنڈر ہونے کو تھے ۔
29وہ دَولتمند نہ ہوگا ۔ اُسکا مال بنا نہ رہیگا اور اَیسوں کی پیداوار زمین کی طرف نہ جُھکیگی ۔
30وہ اندھیرے سے کبھی نہ نکلیگا ۔ شعلے اُسکی شاخوں کو خشک کر دینگے اور وہ خدا کے منہ کے دم سے جاتا رہیگا ۔
31وہ اپنے آپ کو دھوکا دیکر بطالت کا بھروسا نہ کرے کیو نکہ بطالت ہی اُسکا اجر ٹھہریگی ۔
32یہ اُسکے وقت سے پہلے پُورا ہو جائیگا اور اُسکی شاخ ہر ی نہ رہیگی ۔
33تاک کی طرح اُسکے انگور کچّے ہی جھڑ جائینگے اور زیتون کی طرح اُسکے پُھول گرجائینگے ۔
34کیونکہ بے خدا لوگوں کی جماعت بے پھل رہیگی اور رِشوت کے ڈیروں کو آگ بھسم کر دیگی ۔
35وہ شرارت سے باردار ہوتے ہیں اور بدی پیدا ہوتی ہے اور اُنکا پیٹ دغا کو تیار کرتا ہے ۔