Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
22 verses
1تب ایوب ؔ نے جواب دیا:۔
2اَیسی بہت سی باتیں میں سُن چُکا ہُوں ۔ تم سب کے سب نکمےّ تسلی دینے والے ہو۔
3کیا لغو باتیں کبھی ختم ہونگی ؟ تو کون سی بات سے جھڑک کر جواب دیتا ہے ؟
4میں بھی تمہاری طرح بات بنا سکتا ہُوں ۔ اگر تمہاری جان میری جان کی جگہ ہوتی تو میں تمہارے خلاف باتیں گھڑ سکتا اور تم پر اپنا سر ہلا سکتا ۔
5بلکہ میں اپنی زبان سے تمہیں تقویت دیتا اور میرے لبوں کی غمگساری تم کو تسلی دیتی ۔
6اگرچہ میں بولتا ہُوں پر مجھ کو تسلی نہیں ہوتی اور گوچُپکا بھی ہو جاتا ہُوں پر مجھے کیا راحت ہوتی ہے؟
7پر اُس نے تو مجھے بیزار کر ڈالا ہے ۔تو نے میرے سارے جتھے کو تباہ کردیا ہے۔
8تو نے مجھے مضبوطی سے پکڑلیا ہے ۔یہی مجھ پر گواہ ہے ۔ میری لاغری میرے خلاف کھڑی ہو کر میرے منہ پر گواہی دیتی ہے ۔
9اُس نے اپنے غضب میں مجھے پھاڑ اور میرا پیچھا کیا ہے ۔اُ سنے مجھ پر دانت پیسے ۔میرا مُخالف مُجھے آنکھیں دِکھاتا ہے۔
10اُنہوں نے مجھ پر منہ پسارا ہے ۔اُنہوں نے طنزا مجھے گال پر مارا ہے ۔وہ میرے خلاف اِکٹھے ہوتے ہیں ۔
11خدا مجھے بے دینوں کے حوالہ کرتا ہے اور شریروں کے ہاتھوں میں مجھے سُپرد کرتا ہے۔
12میں آرام سے تھا اور اُس نے مجھے چُور چُور کر ڈالا ۔اُس نے میری گردن پکڑ لی او ر مجھے پٹک کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ۔اور اُس نے مجھے اپنا نشانہ بنا کر کھڑا کر لیا ہے۔
13اُسکے تیر انداز مجھے چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں ۔وہ میرے گُردوں کو چیرتا ہے اور رحم نہیں کرتا اور میرے پت کو زمین پر بہا دیتا ہے۔
14وہ مجھے زخم پر زخم لگا کر خستہ کرتا ہے ۔وہ پہلوان کی طرح مجھ پر دھاوا کرتا ہے۔
15میں نے اپنی کھال پر ٹا ٹ کو سی لیا ہے اور اپنا سینگ خاک میں راکھ دیا ہے۔
16میرا منہ روتے روتے سُوج گیا ہے اور میری پلکوں پر موت کاسایہ ہے۔
17اگرچہ میرے ہاتھوں میں ظلم نہیں اور میری دُعا بے ریا ہے۔
18اے زمین ! میرے خون کو نہ ڈھانکنا اور میری فریاد کو آرام کی جگہ نہ ملے ۔
19اب بھی دیکھ ! میرا گواہ آسمان پر ہے اور میرا ضامن عالمِ بالا پر ہے ۔
20میرے دوست میری حقارت کرتے ہیں پر میری آنکھ خدا کے حُضور آنسو بہاتی ہے۔
21تا کہ وہ آدمی کے حق کو اپنے ساتھ اور آدم زاد کے حق کو اُسکے پڑوسی کے ساتھ قائم رکھے ۔
22کیونکہ جب چند سال نکل جائینگے تو میں اُس راستہ سے چلا جاؤ نگا جس سے پھر لَوٹنے کا نہیں