Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
33 verses
1تو بھی اَے ایوب ؔ ذرا میری تقریر سُن لے اور میری سب باتوں پر کان لگا۔
2دیکھ میں نے اپنا منہ کھولا ہے ۔میری زبان نے میرے منہ میں سخن آرائی کی ہے ۔
3میری باتیں میرے دِل کی راستباز ی کوظاہر کرینگی اور میرے لب جو کچھ جانتے ہیں اُسی کو سچائی سے کہینگے ۔
4خدا کی رُوح نے مجھے بنایا ہے اور قادِر مطلق کا دم مجھے زندگی بخشتا ہے ۔
5اگر تو مجھے جواب دے سکتا ہے تو دے اور اپنی باتوں کو میرے سامنے ترتیب دیکر کھڑا ہو جا ۔
6دیکھ! خدا کے حُضُور میں تیرے برابر ہُوں ۔میں بھی مٹّی سے بناہُوں ۔
7دیکھ! میرا رُعب تجھے ہراسان نہ کریگا ۔میرا دباؤ تجھ پر بھاری نہ ہوگا ۔
8یقیناًتونے میرے سُنتے کہا ہے اور میں نے تیری باتیں سُنی ہیں
9کہ میں صاف اور بے تقصیر ہُوں ۔میں بے گناہ ہُوں اور مجھ میں بدی نہیں ۔
10وہ میرے خلاف موقع ڈھونڈتا ہے۔وہ مجھے اپنا دُشمن سمجھتا ہے ۔
11وہ میرے دونوں پاؤں کو کاٹھ میں ٹھونک دیتا ہے ۔وہ میری سب راہوں کی نگرانی کرتا ہے۔
12دیکھ میں تجھے جواب دیتا ہُوں ۔اِس بات میں تو حق پر نہیں کیونکہ خدا اِنسان سے بڑا ہے ۔
13تو کیوں اُس جھگڑتا ہے؟ کیونکہ وہ اپنی باتوں میں سے کسی کا حساب نہیں دیتا ۔
14کیونکہ خدا ایک بار بولتا ہے بلکہ دوبار ۔ خواہ اِنسان اِسکا خیال نہ کرے ۔
15خواب میں ۔ رات کی رویا میں جب لوگوں کو گہری نیند آتی ہے اور بستر پر سوتے وقت ۔
16تب وہ لوگوں کے کان کھولتا ہے اور اُنکی تعلیم پر مہر لگاتا ہے
17تاکہ اِنسان کو اُسکے مقصود سے روکے اور غروُر کو اِنسان سے دُور کرے ۔
18وہ اُسکی جان کو گڑھے سے بچاتا ہے اور اُسکی زندگی تلوار کی مار سے۔
19وہ اپنے بستر پر درد سے تنبیہ پاتا ہے اور اُسکی ہڈّیوں میں دائمی جنگ ہے۔
20یہانتک کہ اُسکا جی روٹی سے اور اُسکی جان لذیذ کھانے سے نفرت کرنے لگتی ہے۔
21اُسکا گوشت اَیسا سُوکھ جاتا ہے کہ دکھائی نہیں دیتا اور اُسکی ہڈّیاں جو دِکھائی نہیں دیتی تھیں نکل آتی ہیں ۔
22بلکہ اُسکی جان گڑھے کے قریب پہنچتی ہے اور اُسکی زندگی ہلاک کرنے والوں کے نزدیک ۔
23وہاں اگر اُسکے ساتھ کوئی فرشتہ ہو یا ہزار میں ایک تعبیر کرنے والا جو اِنسان کو بتائے کہ اُسکے لئے کیا ٹھیک ہے
24تو وہ اُس پر رحم کرتا اور کہتا ہے کہ اُسے گڑھے میں جانے سے بچائے۔مجھے فدیہ مل گیا ہے۔
25تب اُسکا جسم بچےّ کے جسم سے بھی تازہ ہوگا اور اُسکی جوانی کے دِن لوٹ آتے ہیں ۔
26وہ خدا سے دُعا کرتا ہے اور وہ اُس پر مہربان ہوتا ہے ۔اَیسا کہ وہ خوشی سے اُسکا منہ دیکھتا ہے اور وہ اِنسا ن کی صداقت کا بحال کردیتا ہے۔
27وہ لوگوں کے سامنے گانے اور کہنے لگتا ہے کہ میں نے گناہ کیا اور حق کواُلٹ دیا اور اِس سے مجھے فائدہ نہ ہُوا ۔
28اُس نے جان کو گڑھے میں جانے سے بچا یا اور میری زندگی روشنی کو دیکھیگی ۔
29دیکھو! خدا آدمی کے ساتھ یہ سب کام دوبار بلکہ تین بار کرتا ہے
30تا کہ اُسکی جان کو گڑھے سے لوٹا لائے اور وہ زندوں کے نو ر سے منُّور ہو۔
31اَے ایوب ؔ ! توجہ سے میری سُن ۔ خاموش رہ اور میں بولونگا ۔
32اگر تجھے کچھ کہنا ہے تو مجھے جواب دے ۔بول کیونکہ میں تجھے راست ٹھہرانا چاہتا ہُوں ۔
33اگر نہیں توتُو میری سُن ۔ خاموش رہ اور میں تجھے دانائی سکھاؤنگا ۔