Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
37 verses
1اِسکے علاوہ اِلیہوُؔ نے یہ بھی کہا :۔
2اَے تم عقلمند لوگو! میری باتیں سُنو اور اَے تم جو اہل معرفت ہو ! میری طرف کان لگا ؤ
3کیونکہ کان باتوں کو پرکھتا ہے جیسے زبان کھانے کو چکھتی ہے ۔
4جو کچھ ٹھیک ہے ہم اپنے لئے چُن لیں ۔جو بھلا ہے ہم آپس میں جان لیں ۔
5کیونکہ ایوب ؔ نے کہا میں صادق ہُوں اور خدا نے میری حق تلفی کی ہے ۔
6اگرچہ میں حق پر ہُوں تو بھی جھوٹا ٹھہرتا ہُوں ۔گو میں بے تقصیر ہُوں ۔ میرا زخم لاعلاج ہے۔
7ایوب ؔ سا بہادر کون ہے جو تمسخر کو پانی کی طرح پی جاتا ہے ؟
8جو بدکرداروں کی رفافت میں چلتا اور شریرلوگوں کے ساتھ پھرتا ہے۔
9کیونکہ اُس نے کہا ہے کہ آدمی کو کچھ فائدہ نہیں کہ وہ خدا میں مسرور رہے ۔
10اِسلئے اَے اہل خرد میری سُنو۔یہ ہر گز ہو نہیں سکتا کہ خدا شرارت کا کام کرے اور قادِرمطلق بدی کرے ۔
11وہ اِنسان کو اُسکے اعمال کے مطابق جزادیگا اور اَیسا کریگا کہ ہر کسی کو اپنی ہی راہوں کے مطابق بدلہ ملیگا ۔
12یقیناخدا بُرائی نہیں کریگا ۔ قادِرمطلق سے بے اِنصافی نہ ہوگی۔
13کس نے اُسکو زمین پر اختیار دیا ؟یا کس نے ساری دُنیا کا اِنتظام کیا ہے؟
14اگر وہ اِنسان سے اپنا دِل لگائے ۔اگر وہ اپنی رُوح اور اپنے دم کو واپس لے لے
15تو تمام بشر اِکٹھے فنا ہوجائینگے اور اِنسان پھر مٹّی میں مل جائیگا ۔
16سو اگر تجھ میں سمجھ ہے تو اِسے سُن لے اور میری باتوں پر توجہ کر۔
17کیا وہ جو حق سے عداوت رکھتا ہے حکومت کریگا ؟اور کیا تو اُسے جو عادل اور قادِر ہے ملزم ٹھہرائیگا۔
18وہ تو بادشاہ سے کہتا ہے تو ذیل ہے اور شریفوں سے تم شریر ہو ۔
19وہ اُمرا کی طرفداری نہیں کرتا اور امیر کو غریب سے زیادہ نہیں مانتا کیونکہ وہ سب اُسی کے ہاتھ کی کاریگری ہیں ۔
20وہ دم بھر میں آدھی رات کو مر جاتے ہیں ۔لوگ ہلائے جاتے اور گذر جاتے ہیں ۔اور زبردست لوگ بغیر ہاتھ لگائے اُٹھالئے جاتے ہیں ۔
21کیونکہ اُسکی آنکھیں آدمی کی راہوں پر لگی ہیں اور وہ اُسکی سب روِشوں کو دیکھتا ہے ۔
22نہ کوئی اَیسی سب تاریکی نہ موت کاسایہ ہے جہاں بدکردار چھپ سکیں ۔
23کیونکہ اُسے ضرور نہیں کہ آدمی کا زیادہ خیال کرے تاکہ وہ خدا کے حُضُور عدالت میں جائے ۔
24وہ بلا تفتیش زبردستوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرتا اور اُنکی جگہ اَوروں کو برپا کرتا ہے۔
25اِسلئے وہ اُنکے کاموں کا خیال رکھتا ہے اور وہ اُنہیں رات کو اُلٹ دیتا ہے اَیسا کہ وہ ہلاک ہوجاتے ہیں ۔
26وہ اَوروں کے دیکھتے ہُوئے اُنکو اَیسا مارتا ہے جیسا شریروں کو
27اِسلئے کہ وہ اُسکی پیروی سے پھرگئے اور اُسکی کسی راہ کا خیال نہ کیا ۔
28یہانتک کہ اُنکے سبب ��ے غریبوں کی فریاد اُسکے حُضُور پہنچی اور اُس نے مصیبت زدوں کی فریاد سُنی ۔
29جب وہ راحت بخشے تو کون اُسے دیکھ سکتا ہے؟ جب وہ منہ چھپالے تو کون اُسے دیکھ سکتا ہے؟خواہ کوئی قوم ہو یا آدمی ۔دونوں کے ساتھ یکساں سلُوک ہے ۔
30تاکہ بے دین آدمی سلطنت نہ کرے اور لوگوں کو پھندے میں پھنسانے کے لئے کوئی نہ ہو۔
31کیونکہ کیا کسی نے خدا سے کہا ہے میں نے سزا اُٹھالی ہے ۔ میں اب بُرائی نہ کرُونگا ۔
32جو مجھے دِکھائی نہیں دیتا وہ تو مجھے سکھا ۔اگر میں نے بدی کی ہے تو اب اَیسا نہیں کرونگا ۔
33کیا اُسکا اجر تیری مرضی پر ہوکہ تو اُسے نامنظور کرتا ہے؟ کیونکہ تجھے فیصلہ کرنا ہے نہ کہ مجھے ۔اِسلئے جو کچھ تو جانتا ہے کہدے ۔
34اہل خرو مجھ سے کہینگے بلکہ ہر عقلمند جو میری سُنتا ہے کہیگا
35ایوب ؔ نادانی سے بولتا ہے او راُسکی باتیں حکمت سے خالی ہیں ۔
36کاشکہ ایوب ؔ آخر تک آزمایا جاتا کیونکہ وہ شریروں کی طرح جواب دیتا ہے ۔
37اِسلئے کہ وہ اپنے گناہ پر بغاوت کو بڑھاتا ہے ۔ وہ ہمارے درمیان تالیا ں بجاتا ہے اور خدا کے خلاف بہت سی باتیں بناتا ہے۔