Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
40 verses
1تب خداوند نے ایوب ؔ کو بگولے میں سے یوں جواب دیا:۔
2یہ کون ہے جو نادانی کی باتوں سے مصلحت پر پردہ ڈالتا ہے؟
3مرد کی مانند اب اپنی کمر کس لے کیونکہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تو مجھے بتا ۔
4تو کہاں تھا جب میں نے زمین کی بنیاد ڈالی ؟تو دانشمند ہے تو بتا ۔
5کیا تجھے معلوم ہے کس نے اُسکی ناپ ٹھہرائی ؟ یا کس نے اُس پر سُوت کھینچا؟
6کس چیز پر اُسکی بنیاد ڈالی گئی ؟یا کس نے اُسکے کونے کا پتھر بٹھایا
7جب صبح کے ستارے ملکر گاتے تھے اور خدا کے سب بیٹے خوشی سے للکارتے تھے ؟
8یا کس نے سمندر کو دروازوں سے بند کیا جب وہ اَیسا پُھوٹ نکلا گویا رَحیم سے ۔
9جب میں نے بادل کو اُسکا لباس بنایا اور گہری تاریکی کو اُسکا لپٹینے کا کپڑا
10اور اُسکے لئے حدّ ٹھہرائی اور بینڈے اور کواڑ لگائے
11اور کہا یہانتک تو آنا پر آگے نہیں اور یہاں تیری بپھرتی ہُوئی موجیں رُک جائینگی ؟
12کیا تو نے اپنی عمر میں کبھی صبح پر حکمرانی کی اور کیا تونے فجر کو اُسکی جگہ بتائی
13تاکہ وہ زمین کے کناروں پر قبضہ کرے اور شریر لوگ اُس میں جھاڑ دِئے جائیں ؟
14وہ اَیسے بدلتی ہے جیسے مہر کے نیچے چکنی مٹی اور تمام چیزیں کپڑے کی طرح نمایاں ہوجاتی ہیں ۔
15اور شریروں سے اُنکی روشنی روک لی جاتی ہے اور بلند بازو توڑا جاتا ہے ۔
16کیا تو سمندر کے سوتوں میں داخل ہُوا ہے؟یا گہراؤ کی تھاہ میں چلا ہے؟
17کیا موت کے پھاٹک تجھ پر ظاہر کر دِئے گئے ہیں ؟یا تو نے موت کے سایہ کے پھاٹکوں کو دیکھ لیا ہے؟
18کیا تو نے زمین کی چوڑائی کو سمجھ لیا ہے ؟اگر تو یہ سب جانتا ہے تو بتا ۔
19نور کے مسکن کا راستہ کہاں ہے ۔رہی تاریکی ۔ سو اُسکا مکان کہاں ہے
20تاکہ تو اُسے اُسکی حدّ تک پہنچا دے اور اُسکے مکان کی راہوں کو پہچانے؟
21بے شک تو جانتا ہوگا کیونکہ تو اُسو قت پیدا ہُوا تھا اور تیرے دِنوں کا شمار بڑا ہے!
22کیا تو برف کے مخزنوں میں داخل ہُوا ہے یا اولوں کے مخزنوں کو تو نے دیکھا ہے
23جنکو میں نے تکلیف کے وقت کے لئے اور لڑائی اور جنگ کے دِن کی خاطر رکھ چھوڑا ہے ؟
24روشنی کس طریق سے تقسیم ہوتی ہے یا مشرقی ہوا زمین پر پھیلائی جاتی ہے؟
25سیلاب کے لئے کس نے نالی کاٹی یا رعد کی بجلی کے لئے راستہ
26تاکہ اُسے غیر آباد زمین پر برسائے اور بیابان پر جس میں اِنسان نہیں بستا
27تاکہ اُجڑی اور سُوئی زمین کو سیراب کرے اور نرم نرم گھاس اُگائے؟
28کیا بارش کا کوئی باپ ہے؟ یا شبنم کے قطرے کس سے تولُّد ہُوئے ؟
29یخ کس کے بطن سے نکلا اور آسمان کے سفید پالے کو کس نے پیدا کیا؟
30پانی پتھر سا ہوجاتا ہے اور گہراؤ کی سطح جم جاتی ہےَ
31کیا تو عقدِثرُیاّؔ کو باندھ سکتا یا جباّرؔ کے بندھن کو کھول سکتا ہے ؟
32کیا تو منطقتہ الُبرُوج کو اُنکے وقتوں پر نکال سکتا ہے؟یا بناتُ النعشّ کی اُنکی سہیلیوں کے ساتھ رہبری کرسکتا ہے؟
34کیا تو بادلوں تک اپنی آواز بلند کرسکتا ہے تاکہ پانی کی فراوانی تجھے چھپالے ؟
35کیا تو بجلی کو روانہ کرسکتا ہے کہ وہ جائے اور تجھ سے کہے میں حاضر ہُوں ؟
36باطن میں حکمت کس نے رکھی ؟اور دِل کو دانش کس نے بخشی ؟
37بادلوں کو حکمت سے کون گن سکتا ہے؟یا کون آسمان کی مشکوں کو اُنڈیل سکتا ہے
38جب گرد ملکر تودہ بن جاتی ہے اور ڈھیلے باہم سٹ جاتے ہیں !
39کیا تو شیرنی کے لئے شکار مار دیگا یا ببر کے بچوں کو آسُودہ کردیگا
40جب وہ اپنی ماندوں میں بیٹھے ہوں اور گھات لگائے آڑ میں دبکے ہوں ؟
41پہاڑی کُّوے کے لئے کون خوراک مُہیا کرتا ہے جب اُسکے بچے خدا سے فریاد کرتے اور خوراک نہ ملنے سے اُڑتے پھرتے ہیں ؟