Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
30 verses
1کیا تو جانتا ہے پہاڑ کی جنگلی بکریاں کب بچے دیتی ہیں ؟یا جب ہرنیاں بیاتی ہیں تو کیا تو دیکھ سکتا ہے ؟
2کیا تو اُن مہینوں کو جنہیں وہ پُورا کرتی ہیں گن سکتا ہے؟یا تجھے وہ وقت معلوم ہے جب وہ بچے دیتی ہیں ؟
3وہ جھک جاتی ہیں ۔وہ اپنے بچے دیتی ہیں اور اپنے درد سے رہائی پاتی ہیں ۔
4اُنکے بچے موٹے تازہ ہوتے ہیں ۔وہ کھلے میدان میں بڑھتے ہیں ۔وہ نکل جاتے ہیں اور پھر نہیں لوٹتے ۔
5گورخر کو کس نے آزاد کیا؟ جنگلی گدھے کے بند کس نے کھولے ؟
6بیابان کو میں نے اُسکا مکان بنایا اور زمین شور کو اُسکا مسکن ۔
7وہ شہر کے شور وغل کو ہیچ سمجھتا ہے اور ہانکنے والے کی ڈانٹ کو نہیں سُنتا ۔
8پہاڑوں کا سلسلہ اُسکی چراگاہ ہے اور وہ ہریالی کی تلاش میں رہتا ہے۔
9کیا جنگلی سانڈ تیری خدمت پر راضی ہوگا؟کیا وہ تیری چرنی کے پاس رہیگا ؟
10کیا تو جنگلی سانڈ کو رسیّ سے باندھکر ریگھاری میں چلاسکتا ہے؟یا وہ تیرے پیچھے پیچھے وادیوں میں ہینگا پھیریگا؟
11کیا تو اُسکی بڑی طاقت کے سبب سے اُس پر بھروسا کریگا؟یا کیا تو اپنا کام اُس پر چھوڑ دیگا؟
12کیا تو اُس پر اعتماد کریگا کہ وہ تیرا غلّہ گھر لے آئے اور تیرے کھلیہان کا اناج اِکٹھا کرے ؟
13شُتر مُرغ کے بازُو آسودہ ہیں لیکن کیا اُسکے پر وبال سے شفقت ظاہر ہوتی ہے؟
14کیونکہ وہ تو اپنے انڈے زمین پر چھوڑ دیتی ہے اور ریت سے اُنکو گرمی پہنچاتی ہے
15اور بھول جاتی ہے کہ وہ پاؤں سے کچلے جائینگے یا کوئی جنگلی جانور اُنکو رَوند ڈالیگا ۔
16وہ اپنے بچوں سے اَیسی سخت دِلی کرتی ہے گویا وہ اُسکے نہیں ۔خواہ اُسکی محنت رایگاں جائے اُسے کچھ خوف نہیں ۔
17کیونکہ خدا نے اُسے عقل سے محروم رکھا اور اُسے سمجھ نہیں دی ۔
18جب وہ تنکر سیدھی کھڑی ہوجاتی ہے تو گھوڑے اور اُسکے سوار دونوں کو ناچیز سمجھتی ہے۔
19کیا گھوڑے کو اُسکا زور تو نے دیا ہے ؟ کیا اُسکی گردن کو لہراتی ایال سے تو نے مُلبسّ کیا ؟
20کیا اُسے ٹِڈّی کی طرح تونے کدایا ہے ۔اُسکے فرّانے کی شان مُہیب ہے ۔
21وہ وادی میں ٹاپ مارتا ہے اور اپنے زور میں خوش ہے۔ وہ مُسلّح آدمیوں کا سامنا کرنے کو نکلتا ہے۔
22وہ خوف کو ناچیز جانتا ہے اور گھبراتا نہیں اور وہ تلوار سے منہ نہیں مورتا ۔
23ترکش اُس پر کھڑکھڑاتا ہے ۔چمکتا ہُوا بھالا اور سانگ بھی۔
24وہ تُندی اور قہر مین زمین پیمائی کرتا ہے اور اُسے یقین نہیں ہوتا کہ یہ تُرہی کی آواز ہے۔
25جب جب تُرہی بجتی ہے وہ ہِن ہِن کرتا ہے اور لڑائی کو دُور سے سُونگھ لیتا ہے۔سرداروں کی گرج اور للکار کو بھی ۔
26کیا باز تیری حکمت سے اُڑتا ہے اور جنوب کی طرف اپنے بازُو پھیلاتا ہے؟
27کیا عقاب تیرے حکم سے اُوپر چڑھتا ہے اور بلند ی پر اپنا گھونسلا بناتا ہے؟
28وہ چٹان پر رہتا اور وہیں بسیرا کرتا ہے ۔یعنی چٹان کی چوٹی پر اور پناہ کی جگہ میں ۔
29وہیں سے وہ شکار تاڑ لیتا ہے اُسکی آنکھیں اُسے دُور سے دیکھ لیتی ہیں ۔
30اُسکے بچے بھی خون چوُستے ہیں اور جہاں مقتول ہیں وہاں وہ بھی ہے۔