Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1اس وقت روبینیوں اور جدیوں اور منسی کے آدھے قبیلہ کو بلا کر ۔
2ان سے کہا کہ سب کچھ جو خداوند کے بندہ موسیٰ نے تم کو فرمایا تم نے مانا اور جو کچھ میں نے تم کو حکم دیا اس میں تم نے میری بات مانی ۔
3تم نے اپنے بھائیوں کو اس مدت میں آج کے دن تک نہیں چھوڑا بلکہ خداوند اپنے خدا کے حکم کی تاکید پر عمل کیا ۔
4اور اب خداوند تمہارے خدا نے تمہارے بھائیوں کو جیسا اس نے ان سے کہا تھا آرام بخشا ہے سو تم اب لوٹ کر اپنے اپنے ڈیرے کواپنی میراثی سر زمین میں جو خدا وند کے بندہ موسیٰ نے یردن کے اس پار تم کو دی ہے چلے کاﺅ ۔
5فقط اس فرمان اور شرع پر عمل کرنے کی نہایت احتیاط رکھنا جسکا حکم خداوند کے بندہ موسیٰ نے تم کو دیا کہ تم خداوند اپنے خدا سے محبت رکھو اور اس کی سب راہوں پر چلو اور اس کے حکموں کو مانو اور اس سے لپٹے رہو اور اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے اس کی بندگی کرو ۔
6اور یشوع نے برکت دے کر ان کو رخصت کیا اور وہ اپنے اپنے ڈیرے کو چلے ۔
7منسی کے آدھے قبیلہ کو تو موسیٰ نے بسن میں میراث دی تھی لیکن اس کے دوسرے آدھے کو یشوع نے ان کے بھائیوں کے درمیان یردن کے اس پار مغرب کی طرف حصہ دیا اور جب یشوع نے انکو بھی برکت دے کر ۔
8ان سے کہا کہ بڑی دولت اور بہت سے چوپائے اور چاندی اور سونا اور پیتل اور لوہا اور بہت سی پوشاک لیکر تم اپنے اپنے ڈیرے کو لوٹو اور اپنے دشمنوں کے مال غنیمت کو اپنے بھائیوں کے ساتھ بانٹ لو۔
9تب بنی روبن اور بنی جد اور منسی کا آدھا قبیلہ لوٹے اور وہ بنی اسرائیل کے پاس سے سیلا سے جو ملک کنعان میں ہے روانہ ہوئے تا کہ وہ اپنے میراثی ملک جلعاد کو لوٹ جائیں جس کے مالک وہ خداوند کے اس حکم کے مطابق ہو ئے تھے جو اس نے موسیٰ کی معرفت دیا تھا ۔
10اور جب وہ یردن کے پاس کے اس مقام میں پہنچے جو ملک کعنان میں ہے تو بنی روبن اور بنی جد اور منسی کے آدھے قبیلہ نے وہاں یردن کے پاس ایک مذبح جو دیکھنے میں بڑا مذبح تھا بنایا ۔
11اور بنی اسرائیل کے سننے میں آیا کہ دیکھو بنی روبن اور بنی جد اور منسی کے آدھے قبیلہ نے ملک کنعان کے سامنے یردن کے گرد کے مقام میں اس رخ پر جو بنی اسرائیل کا ہے ایک مذبح بنایا ہے۔
12جب بنی اسرائیل نے یہ سنا تو بنی اسرائیل کی ساری جماعت سیلا میں فراہم ہوئی تا کہ ان پر چڑھ جائے اور لڑے ۔
13اور بنی اسرائیل نے الیعزر کاہن کےے بیٹے فینحاس کو بنی روبن اور بنی جد اور منسی کے آدھے قبیلہ کے پاس جو ملک جلعاد میں تھے بھیجا ۔
14اور بنی اسرائیل کے قبیلہ سے ہر ایک کے آبائی خاندان سے ایک امیر کے حساب سے دس امیر اس کے ساتھ کئے ۔ان میں سے ہر ایک ہزار د رہزار اسرائیلیوں میں سے آبائی خاندان کا سردار تھا ۔
15سووہ بنی روبن اور بنی جد اور منسی کے آدھے قبیلہ کے پاس ملک جلعاد میں آئے اور ان سے کہاکہ ۔
16خداوند کی ساری جماعت یہ کہتی ہے کہ تم نے اسرائیل کے خدا سے یہ کیا سر کشی کی کہ آج کے دن خداوند کی پیروی سے برگشتہ ہو کر اپنے لئے ایک مذبح بنایا ور آج کے دن تم خداوند باغی ہو گئے ؟
17کیا ہمارے لئے فغوز کی بد کاری کچھ کم تھی جس سے ہم آج کے دن تک پاک نہیں ہوئے ۔ اگرچہ خداوند کی جماعت میں وبا بھی آئی کہ۔
18تم آج کے دن خداوند کی پروی سے برگشتہ ہوتے ہو؟اور چونکہ تم آج خداوند سے باغی ہوتے ہو اس لئے کل یہ ہو گا کہ اسرائیل کی ساری جماعت پر اس کا قہر نازل ہو گا ۔
19اور اگر تم��ارا میراثی ملک ناپاک ہے تو تم خداوند کے میراثی ملک میں پار آجاﺅ جہاں خداوند کا مسکن ہے اور ہمارے درمیان میراث لو لیکن خداوند ہمارے خدا کے مذبح کے سوا پنے لئے کوئی اور مذبح بنا کر نہ تو خداوند سے باغی ہو اور نہ ہم سے بغاوت کرو ۔
20کیا زارح کے بیٹے عکن کی خیانت کے سبب سے جو ا س نے مخصوص کی ہوئی چیز میں کی اسرائیل کی ساری جماعت پر غضب نازل نہ ہو؟وہ شخص اکیلا ہی اپنی بدکاری میں ہلاک نہیں ہوا ۔
21تب بنی روبن اور بنی جد اور منسی کے آدھے قبیلہ نے ہزار درہزار اسرائیلیوں کے سرداروں کو جواب دیا کہ ۔
22خداوند خداﺅں کا خدا خداوند خداﺅں کا خدا جانتا ہے اور اسرائیلی بھی جان لیں گے ۔اگر اس میں بغاوت یا خداوند کی مخالفت ہے (تو تو ہم کو آج جیتا نہ چھوڑ)۔
23اگر ہم نے آج کے دن اس لئے یہ مذبح بنایا ہو کہ خداوند سے برگشتہ ہو جائیں یا ا س پر سوختنی قربانی یا نذر کی قربانی یا سلامتی کے زبیحے چڑھائیں تو خداوند ہی اسکا حساب لے ۔
24بلکہ ہم نے اس خیال اور غرض سے یہ کیا کہ کہیں آیندہ زمانہ میں تمہاری اولاد ہماری اولاد سے یہ نہ کہنے لگے کہ تم کو خداوند اسرائیل کے خدا سے کیا لینا ہے ؟
25کیونکہ خداوند نے تو ہمارے اور تمہارے درمیان اے بنی روبن اور بنی جد یردن کو حد ٹھہرایا ہے ۔سو خداوند میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے ۔یوں تمہاری اولا د ہماری اولاد سے خداوند کا خوف چھڑا دے گی ۔
26اس لئے ہم نے کہا کہ آﺅ ہم اپنے لئے ایک مذبح بنانا شروع کریں جو نہ سوختنی قربانی کے لئے ہو اور نہ ذبیحہ کے لئے ۔
27بلکہ وہ ہمارے اور تمہارے اور ہمارے بعد ہماری نسلوں کے درمیان گواہ ٹھہرے تا کہ ہم خداوند کے حضور ا س کی عبادت اپنی سوختنی قربانیوں اور اپنے ذبیحوں اور سلامتی کے ہدیوں سے کریں اور آیندہ زمانہ میں تمہاری اولاد ہماری اولاد سے کہنے نہ پائے کہ خداوند میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ۔
28اس لئے ہم نے کہا کہ جب وہ ہم سے یا ہماری اولاد سے آیندہ زمانہ میں یوں کہینگے تو ہم ان کو جواب دینگے کہ دیکھو خداوند کے مذبح کا نمونہ جسے ہمارے باپ دادا نے بنایا ۔یہ نہ سوختنی قربانی کے لئے ہے اور نہ ذبیحہ کے لئے بلکہ یہ ہمارے اور تمہارے درمیان گواہ ہے ۔
29خدا نہ کرے کہ ہم خداوند سے باغی ہو ں اور آج خداوند کی پیروی سے برگشتہ وہ کر خداوند اپنے خدا کے مذبح کے سوا جو اس کے خیمہ کے سامنے ہے سوختنی قربانی اور نذر کی قربانی اور ذبیحہ کے لئے کوئی مذبح بنائیں ۔
30جب فینحاس کاہن اور جماعت کے امیروں یعنی ہزار در ہزار اسرائیلیوں کے سرداروں نے جو اس کے ساتھ آئے تھے یہ باتیں سنیں جو بنی روبن اور بنی جد او ر بنی منسی نے کہیں تو وہ بہت خوش ہوئے ۔
31تب الیعزر کے بیٹے فینحاس کاہن نے بنی روبن اور بنی جد اور بنی منسی سے کہا آج ہم نے جان لیا کہ خداوند ہمارے دمیان ہے کیونکہ تم سے خداوند کی یہ خطا نہیں ہوئی ۔سو تم نے بنی اسرائیل کو خداوند کے ہاتھ سے چھڑا لیا ۔
32اور الیعزر کاہن کا بیٹا فینحاس اور وہ سردار جلعاد سے بنی روبن اور بنی جد کے پاس سے ملک کنعان میں بنی اسرائیل کے پاس لوٹ آئے اور ان کو یہ ماجرا سنایا ۔
33تب بنی اسرائیل اس بات سے خوش ہوئے اور بنی اسرائیل کی خدا کی حمد کی اور پھر جنگ کے لئے ان پر چڑھائی کرنے اور اس ملک کو تباہ کرنے کا نام نہ لیا جس میں بنی روبن اور بنی جد رہتے تھے ۔
34تب بنی روبن اور بنی جد نے اس مذبح کا نام عید یہ کہہ کر رکھا کہ وہ ہمارے درمیان گواہ ہے کہ یہواہ خدا ہے ۔