Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
40 verses
1اور جلعادی افتاح بڑا زبردست سورما اور کسبی کا بیٹا تھا اور جلعاد سے افتاح پیدا ہوا تھا ۔
2اور جلعاد کی بیوی کے بھی اس سے بیٹے ہوئے اور جب اسکی بیوی کے بیٹے بڑے ہو ئے تو انہوں نے افتاح کو یہ کہہ کر نکال دیا کہ ہمارے باپ کے گھر میں تجھے کو ئی میراث نہیں ملیگی کیو نکہ تو غیر عورت ک بیٹا ہے ۔
3تب افتاح اپنے بھائیوں کے پاس سے بھاگ کر طوب کے ملک میں رہنے لگا اور افتاح کے پاس شہدے جمع ہو گئے اور اس کے ساتھ پھرنے لگے ۔
4اور کچھ عرصہ کے بعد بنی عمون نے بنی اسرائیل سے جنگ چھیڑ دی ۔
5اور جب بنی عمون بنی اسرائیل سے لڑنے لگے تو جلعادی بزگ چلے کہ افتاح کو طوب کے ملک سے لے آئیں ۔
6سو وہ افتاح سے کہنے لگے کہ تو چل کر ہمارا سردار ہو تا کہ ہم بنی عمون سے لڑیں ۔
7اور افتاح نے جلعادی بزرگوں سے کہا کیا تم نے مجھ سے عداوت کرکے مجھے میرے باپ کے گھر سے نکال نہیں دیا ؟سو اب جو تم مصیبت میں پڑ گئے ہو تو میرے پاس کیوں آئے ؟
8جلعادی بزرگوں نے افتاح سے کہا کہ اب ہم نے پھر اس لئے تیری طرف رخ کیا ہے کہ تو ہمارے ساتھ چل کے بنی عمون کے ساتھ جنگ کرے اور تو ہی جلعاد کے سب باشندوں پر ہمارا حاکم ہو گا ۔
9اور افتاح نے جلعادی بزرگوں سے کہا اگر تم مجھے بنی عمون سے لڑنے کو میرے گھر لے چلو اور خداوند ان کو میرے حوالہ کر دے تو کیا میں تمہارا حاکم ہو نگا؟
10جلعادی بزرگوں نے افتاح کو جواب دیا کہ خداوند ہمارے درمیان گواہ ہو ۔ یقینا جیسا تو نے کہا ہے ہم ویسا ہی کرینگے ۔
11تب افتاح جلعادی بزرگوں کے ساتھ روانہ ہوا اور لوگوں نے اسے اپنا حاکم اور سردار بنایااور افتاح نے مصفاہ میں خداوند کے آگے اپنی سب باتیں کہہ سنائیں ۔
12اور افتاح نے بنی عمون کے بادشاہ کے پاس ایلچی روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ تجھے مجھ سے کیا کام جو تو میری ملک میں لڑنے کو میری طرف آیا ؟
13بنی عمون کے بادشاہ نے افتاح کے ایلچیوں کو جواب دیا اسلئے کہ جب اسرائیلی مصر سے نکل کر آئے تو ارنون سے یبوق اور یردن تک جو میرا ملک تھا اسے انہوں نے چھین لیا ۔سو اب تو ان علاقوں کو صلح و سلامتی سے مجھے پھیر دے ۔
14تب افتاح نے پھر ایلچیوں کو بنی عمون کے بادشاہ کے پاس روانہ کیا ۔
15اور یہ کہلا بھیجا کہ افتاح یوں کہتا ہے کہ اسرائیلیوں نے نہ تو موآب کا ملک اور نہ بنی عمون کا ملک چھینا ۔
16بلکہ اسرائیلی جب مصر سے نکلے اور بیابان چھانتے ہوئے بح قلزم تک آئے اور قادس میں پہنچے ۔
17تو اسرائیلیوں نے ادوم کے بادشاہ کے پاس ایلچی روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ ہم کو ذرا اپنے ملک سے ہو کر گذر جانے دے لیکن ادوم کا بادشاہ نہ مانا ۔اسی طرح انہوں نے موآب کے بادشاہ کا کہلا بھیجا اور وہ بھی راضی نہ ہوا چنانچہ اسرائیلی قادس میں رہے۔
18تب وہ بیابان میں ہو کر چلے اور ادوم کے ملک اور موآب کے ملک کے باہر چکر کاٹ کر موآب کے ملک کے مشرق کی طرف آئےاور ارنون کے اس پار ڈیرے ڈالے پر موآب کی سرحد میں داخل نہ ہو ئے اسلئے کہ موآب کی سرحد ارنون تھا ۔
19پھر اسرائیلیوں نے اموریوں کے بادشاہ سیحون کے پاس جو حسبون کا کا بادشاہ تھا ایلچی روانی کئے اور اسرائیلیوں نے اسے کہلا بھیجا کہ ہم کو ذرا اجازت دے دے کہ تیرے ملک میں سے ہو کر اپنی جگہ کو چلے جائیں ۔
20پر سیحون نے اسرائیلیوں کا اتنا اعتبار نہ کیا کہ انکو اپنی سرحد سے گذرنے دے بلکہ سیحون اسرائیلیوں سے لڑا ۔
21اور خداوند اسرائیل کے خدا نے سیحون اور اس کے سار�� لشکر کو اسرائیلیوں کے ہاتھ میں کر دیا اور انہوں نے ان کو مار لیا ۔سو اسرائیلیوں نے اموریوں کے جو وہاں کے باشندے تھے سارے ملک پر قبضہ کر لیا ۔
22اور وہ ارنون سے یبوق تک اور بیابان سے اردن تک اموریوں کی سب سرحدوں پر قابض ہو گئے ۔
23پس خداوند اسرائیل کے خدا نے اموریوں کو اس کے ملک سے اپنی قوم اسرائیل کے سامنے سے خارج کیا ۔سو کیا تو اب اس پر قبضہ پا ئیگا ؟
24کیا جو کچھ تیرا دیوتا کموس تجھے قبضہ کرنے کو دے تو اس پر قبضہ نہ کریگا ؟پس جس جس کو خداوند ہمارے خدا نے ہمارے سامنے سے خارج کر دیا ہم بھی ان کے ملک پر قبضہ کرینگے ۔
25اور کیا تو صفور کے بیٹے بلق سے جو موآب کا بادشاہ تھا کچھ بہتر ہے ؟کیا اس نے اسرائیلیوں سے کبھی جھگڑا کیا یا کبھی ان سے لڑا ؟
26جب اسرائیلی حسبون اور اس کے قصبوں اور عروعیر اور اس کے قصبوں اور ان سب شہروں میں جو ارنون کے کنارے کنارے ہیں تین سو برس سے بسے ہیں تو اس عرصے میں تم نے ان کو کیونکہ نہ چھڑا لیا ؟
27غرض میں نے تیری خطا نہیں کی بلکہ تیرا مجھ سے لڑنا تیری طرف سے مجھ پر ظلم ہے ۔پس خداوند ہی منصف ہے بنی اسرائیل اور بنی عمون کے درمیان آج انصاف کرے ۔
28لیکن بنی عمون کے بادشاہ نے افتاح کی یہ باتیں جو اس نے اسے کہلا بھیجی تھیں نہ مانیں ۔
29تب خداوند کی روح افتاح پر نازل ہو ئی اور وہ جلعاد اور منسی سے گذر کر جلعاد کے مصفاہ میں آیا اور جلعا د کے مصفاہ سے بنی عمون کی طرف چلا ۔
30اور افتاح نے خداوند کی منت مانی اور کہا کہ اگر تو یقینا بنی عمون کو میرے ہاتھ میں کر دے ۔
31تو جب میں بنی عمون کی طرف سے سلامت لوٹونگا اس وقت جو کوئی پہلے میرے گھر کے دروازے سے نکل کر میرے استقبال کو آئے وہ خداوند کا ہو گا اور میں ا سکو سوختنی قربانی کے طور پر گذرانونگا ۔
32تب افتاح بنی عمون کی طرف ان سے لڑنے کو گیا اور خداوند نے ان کو اس کے ہاتھ میں کر دیا ۔
33اور اس نے عروعیر سے منیت تک جو بیس شہر ہیں اور ابیل کرامیم تک بڑی خونریزی کے ساتھ انکو مارا ۔اس طرح بنی عمون بنی اسرائیل سے مغلوب ہوئے ۔
34اور افتاح مصفاہ کو اپنے گھر آیا اور اس کی طبلے بجاتی اور ناچتی ہو ئی اس کے استقبال کو نکل کر آئی اور وہی ایک اس کی اولاد تھی۔ اس کے سوا اس کے کوئی بیٹی بیٹا نہ تھا ۔
35جب اس نے اسکو دیکھا تو اپنے کپڑے پھاڑ کر کہا ہائے میری بیٹی تو نے مجھے پست کر دیا اور جو مجھے دکھ دیتے ہیں ان میں سے ایک تو ہے کیونکہ میں نے خداوند کو زبان دی ہے اور میں پلٹ نہیں سکتا ۔
36اس نے اس سے کہا اے میرے باپ تو نے خدا وند کو زبان دی ہے سو جو کچھ تیرے منہ سے نکلا ہے وہی میرے ساتھ کر اسلئے کہ خداوند تیرے دشمنوں بنی عمون سے تیرا انتقام لیا ۔
37پھر اس نے اپنے باپ سے کہا میرے لئے اتنا کر دیا جائے کہ دو مہینے کہ مہلت مجھے ملے تا کہ میں جا کر پہاڑو ں پر اپنی ہمجولیوں کے ساتھ اپنے کنور پن پر ماتم کرتی پھروں ۔
38اس نے کہا جا اور اس نے اسے دو مہینے کہ رخصت دی اور وہ اپنی ہمجولیوں کو لیکر گئی اور پہاڑوں پر ماتم کرتی پھری ۔
39اور دو مہینے کے بعد وہ اپنے باپ کے پاس لوٹ آئی اور وہ اس کے ساتھ ویسا ہی پیش آیا جیسی منت اس نے مانی تھی ۔اس لڑکی نے باپ کا منہ نہ دیکھا تھا ۔سو بنی اسرائیل میں یہ دستور چلا ۔
40کہ سال بسال اسرائیلی عورتیں جا کر برس میں چار دن تک افتاح جلعادی کی بیٹی کی یاد گاری کرتی تھیں ۔