Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
57 verses
1تب یرُبعل کا بیٹا ابی ملک سکم میں اپنے ماموﺅں کے پاس گیا اور ان سے اور اپنے سب ننہال کے لوگوں سے کہا کہ ۔
2سکم کے سب آدمیوں سے پوچھ دیکھو کہ تمہارے لئے کیا بہتر ہے ۔یہ کہ یرُبعل کے سب بیٹے جو ستر آدمی ہیں وہ تم پر سلطنت کریںیا یہ کہ یک ہی کی تم پر حکومت ہو ؟اور یہ بھی یاد رکھو کہ میں تمہوری ہی ہڈی اور تمہاراہی گوشت ہوں۔
3اور اس کے ماموﺅں نے اس کے بارے میں سکم کے سب لوگوں کے کانوں میں یہ باتیں ڈالیں اور ان کے دل ابی ملک کی پیروی پر مائل ہو ئے کیو نکہ وہ کہنے لگے کہ یہ ہمارا بھائی ہے ۔
4اور انہوں نے بعل بریت کے گھر میں سے چاندی کے ستر سکے اس کو دئے جن کے وسیلہ سے ابی ملک نے شہر کے شہدے اوربدمعاش لوگوں کو اپنے ہاں لگا لیا جو اس کی پیروی کرنے لگے ۔
5اور وہ عفرہ میں اپنے باپ کے گھر گیا اور اس نے اپنے بھائیوں یرُبعل کے بیٹوں کو جو ستر آدمی تھے ایک ہی پتھر پر قتل کیا پر یرُبعل کا چھوٹا بیٹا یو تام بچا رہا کیونکہ وہ چھپ گیا تھا ۔
6تب سکم کے سب آدمی اور سب اہل ملو جمع ہو ئے اور جا کر اس ستون کے بلوط کے پاس جو سکم میں تھا ابی ملک کو بادشاہ بنایا ۔
7جب یوتام کو اس کی خبر ہو ئی تو وہ جا کر کوہ گرزم کی چوٹی پر کھڑا ہوا اور اپنی آواز بلند کی اور پکار پکار کر ان سے کہنے لگا اے سکم کے لوگومیری سنو ! تا کہ خدا تمہاری سنے ۔
8ایک زمانہ میں درخت چلے تاکہ کسی کو مسح کرکے اپنا بادشاہ بنائیں سو انہوں نے زیتون کے درخت سے کہا کہ تو ہم پر سلطنت کر ۔
9تب زیتون کے درخت نے ان سے کہا کیا میں اپنی چکناہٹ کو جس کے باعث میرے وسیلہ سے لوگ خدا اور انسان کی تعظیم کرتے ہیں چھوڑ کر درختوں پر حکمرانی کرنے جاﺅں ؟
10تب درختوں نے انجیر کے درخت سے کہا کہ تو آاور ہم پر سلطنت کر ۔
11پر انجیر کے درخت نے ان سے کہا کیا میں اپنی مٹھاس اور اچھے اچھے پھلوں کو چھوڑ کر درختوں پر حکمرانی کرنے جاﺅں ؟
12تب درختوں نے انگور کی بیل سے کہا کہ تو آ اور ہم پر سلطنت کر ۔
13انگور کی بیل نے ان سے کہا کیا میں اپنی مے کو جو خدا اور انسان دونوں کو خوش کرتی ہے چھوڑ کر درختوں پر حکمرانی کرنے جاﺅں ؟
14تب ان سب درختوں نے اونٹکٹاروں سے کہا چل تو ہی ہم پر سلطنت کر ۔
15اونٹکٹارے نے درختوں سے کہا اگر تم سچ مچ مجھے اپنا بادشاہ مسح کرکے بناﺅ تو آﺅ میرے سایہ میں پناہ لو اور اگر نہیں تو اونٹکٹارے سے آگ نکل کر لبنان کے دیوداروں کو کھا جائے۔
16سو بات یہ کہ تم نے جوابیِ ملک کو بادشاہ بنایا ہے اس میں اگر تم نے راستی و صداقت برتی ہے اور یرُبعل اور اس کے گھرانے سے اچھا سلوک کیا اور اس کے ساتھ اس کے احسان کے حق کے مطابق برتاﺅ کیا ۔
17(کیو نکہ میرا باپ تمہاری خاطر لڑا اور اس نے اپنی جان جو کھوں میں ڈالی اورتم کو مدیان کے ہاتھ سے چھڑاےا ۔
18اور تم نے آج مےرے باپ کے گھرانے سے بغاوت کی اور اس کے ستر بیٹے ایک ہی پتھر پر قتل کئے اورا س کی لونڈی کے بیٹے ابی ملک کو سکم کے لوگوں کا بادشاہ بنایا اس لئے کہ وہ تمہارا بھائی ہے ۔
19سو اگر تم نے یرةبعل اور اس کے گھرانے کے ساتھ آج کے دن راستی اور صداقت برتی ہے تو تم ابی ملک سے خوش رہو اور وہ تم سے خوش رہے ۔
20اور اگر نہیں تو ابی ملک سے آگ نکل کر سکم کے لوگوں کو اور اہل مِلو کو کھا جائے اور سکم کے لوگوں اور اہل مِلو کے بیچ سے آگ نکل کر ابی ملک کو کھا جائے ۔
21پھر یو تام دوڑتا ہو ابھاگا اور بیر کو چلتا بنا اور اپنے بھائی ابی ملک کے خو ف سے وہیںرہنے لگا ۔
22اورابی ملک اسرائیلیوں پر تین برس حاکم رہا ۔
23تب خدا نے ابی ملک اور سکم کے لوگوں کے درمیان ایک بری روح بھیجی اور اہل سکم ابی ملک سے دغا بازی کرنے لگے ۔
24تاکہ جو ظلم انہوں نے یرُبعل کے ستر بیٹوں پر کیا تھا وہ ان ہی پر آئے اور ان کا خون انکے بھائی ابی ملک کے سر پر جس نے ان کو قت کیا اور سکم کے لوگوں کے سر پر ہو جنہوں نے اس کے بھائیوں کے قتل میں اس کی مددکی تھی ۔
25تب سکم کے لوگوں نے پہاڑوں کی چوٹیوں پر اس کی گھات میں لوگ بٹھائے اور وہ ان کو جو اس راستہ پاس سے گذرتے لوٹ لےتے تھے اورابی ملک کو اس کی خبر ہو ئی ۔
26تب جعل بن عبد اپنے بھائیوں سمیت سکم میں آیا اور اہل سکم نے اس پر اعتماد کیا ۔
27اور وہ کھیتوں میں گئے اور اپنے اپنے تا کستان کا پھل توڑا اور انگوروں کا رس نکالا اور خوب خوشی منائی اور اپنے دیوتاﺅں کے مندر میں جا کر کھایا پیا اور ابی ملک پر لعنتیں برسائیں ۔
28اور جعل بن عبد کہنے لگا ابی ملک کون ہے اور سکم کون ہے کہ ہم اس کی اطاعت کریں ؟کیا وہ یرُبعل کا بیٹا نہیں اور کیا زبول اس کا منصبدار نہیں ؟تم ہی سکم کے باپ حمور کے لوگوں کی اطاعت کرو ۔ہم ا س کی اطاعت کیوں کریں ؟
29کاش کہ یہ لوگ میرے ہاتھ کے نیچے ہو تے تو میں ابی ملک کو کنارے کر دیتا !اور اس نے ابی ملک سے کہا کہ تو اپنے لشکر کو بڑھا اور نکل آ۔
30جب اس شہر کے حاکم زبول نے جعل بن عبد کی یہ باتیں سنیں تو اس کا قہر بھڑکا ۔
31اور اس نے چالاکی سے ابی ملک کے پا س قاصد روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ دیکھ جعل بن عبد اور اس کے بھائی سکم میں آئے ہیں اور شہر کو تجھ سے بغاوت کرنے کی تحریک کر رہے ہیں ۔
32پس تو اپنے ساتھ کے لوگوں کو لے کر رات کو اٹھ اور میدان میں گھات لگا کر بیٹھ جا ۔
33اور صبح کو سورج نکلتے ہی سویرے اٹھ کر شہر پر حملہ کر اور جب وہ اور اس کے ساتھ کے لوگ تیرا سامنا کرنے کو نکلیں تو جو کچھ تجھ سے بن آئے تو ان سے کر ۔
34سو ابی ملک اور اس کے ساتھ کے لوگ رات ہی کو اٹھ کر چار غول ہو سکم کے مقابل گھات میں بےٹھ گئے ۔
35اور جعل بن عبد باہر نکل کر اس شہر کے پھاٹک کے پا س جا کھڑا ہوا ۔تب ابی ملک اور اس کے ساتھ کے آدمی کمین گاہ سے اٹھے ۔
36اور جب جعل نے فوج کو دیکھا تو وہ زبول سے کہنے لگا دیکھ پہاڑوں کی چوٹیوں سے لوگ اتر رہے ہیں ۔زبول نے اس سے کہا کہ تجھے پہاڑوں کا سایہ ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے آدمی ۔
37جعل پھر کہنے لگا دیکھ میدان کے بیچوں بیچ سے لوگ اترے آتے ہیں اور ایک غول معونینم بلوط کے راستہ آرہا ہے ۔
38تب زبول نے اسے کہا اب تیرا وہ منہ کہاں ہے جو تو کہا کرتا تھا کہ ابی ملک کون ہے کہ ہم اس کی اطاعت کریں ؟کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں جن کی تو نے حقارت کی ہے ؟سو اب ذرا نکل کر ان سے لڑتو سہی ۔
39تب جعل سکم کے لوگوں کے سامنے باہر نکلا اور ابی ملک سے لڑا ۔
40اور ابی ملک نے اس کو رگیدا اور وہ اس کے سامنے سے بھاگا اور شہر کے پھاٹک تک بہتیرے زخمی ہو ہو کر گرے ۔
41اور ابی ملک نے ارومہ میں قیام کیا اور زبول نے جعل اور اس کے بھائیوں کو نکال دیا تا کہ وہ سکم میں رپنے نہ پائیں ۔
42اور دوسرے دن صبح کو ایسا ہوا کہ لوگ نکل کر میدان کو جانے لگے ۔اور ابی ملک کو خبر ہو ئی ۔
43سو ابی ملک نے فوج لیکر ا کے تین غول کئے اور میدان میں گھات لگائی اور جب دیکھا کہ لوگ شہر سے نکلے آتے ہیں تو وہ ان کا سامنا کرنے کو اٹھا اور ان کو مارلیا ۔
44اور ابی ملک اس غول سمیت جو اس کے ساتھ تھا آگے لپکا اور شہر کے پھاٹک کے پاس آکر کھڑا ہو گیا اور وہ دو غول ان سبھوں پر جو میدان میں تھے جھپٹے اور ان کو کاٹ ڈالا ۔
45اور ابی ملک اس دن شام تک شہر سے لڑتا رہا اور شہر کو سر کر کے ان لوگوں کو جو وہاں تھے قتل کیا اور شہر کو مسمار کر کے اس میں نمک چھڑکوا دیا ۔
46اور جب سکم کے برج کے سب لوگوں نے یہ سناتو وہ البیرت کے مندر کے قلعہ میں جا گھسے ۔
47اور ابی ملک یہ خبر ہو ئی کہ سکم کے برج کے سب لوگ اکٹھے ہیں ۔
48تب ابی ملک اپنی فوج سمیت ضلمون کے پہاڑ پر چڑھا اور ابی ملک نے کلہاڑا اپنے ہاتھ میں لے درختوں میں سے ایک ڈالی کاٹی اور اسے اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا اور اپنے ساتھ کے لوگوں سے کہا جو تم نے مجھے کرتے دیکھا ہے تم بھی جلد ویسا ہی کرو ۔
49تب ان سب لوگوں میں سے ہر ایک اسی طرح ایک ڈالی جاٹ لی اور وہ ابی ملک کے پیچھے ہو لئے اور انکو قلعہ پر ڈال کر قلعہ میں آگ لگا دی چنانچہ سکم کے برج کے سب آدمی بھی جو مرد اور عورت ملا کر قریباََایک ہزار تھے مر گئے ۔
50پھرابی ملک تیبض کو جا تیبض کے مقابل خیمہ زن ہوا اور اسے لے لیا ۔
51لیکن وہاں شہر کے اندر ایک بڑا محکم برج تھا سو سب مرد اور عورتیں اور شہر کے سبب باشندے بھاگ کر اس میں جا گھسے اور دروازہ بند کر لیا اور برج کی چھت پر چڑھ گئے ۔
52اور ابی ملک برج کے پاس آکر اس کے مقابل لڑتا رہا اور برج کے دروازہ کے نزدیک گیا تا کہ اسے جلا دے ۔
53تب کسی عورت نے چکی کا اوپر کا پاٹ ابی ملک کے سر پر پھینکا اورا س کی کھوپڑی کو توڑ ڈالا ۔
54تب ابی ملک نے فوراََ ایک جوان کو جو اس کا سلاح بردار تھا بلا کر اس سے کہا کہ اپنی تلوار کھینچ کر مجھے قتل کر ڈال تا کہ میرے حق میں لوگ یہ نہ کہنے پائیں کہ ایک عورت نے اسے مار ڈالا سو اس جوان نے اسے چھید دیا اور وہ مر گیا ۔
55جب اسرائیلیوں نے دیکھا کہ ابی ملک مر گیا تو ہر شخص اپنی جگہ چلا گیا ۔
56یوں خد ا نے ابی ملک کی اس شرارت کا بدلہ جو اس نے اپنے ستر بھائیوں کو مارکر اپنے باپ سے کی تھی اسکو دیا ۔
57اور سکم کے لوگوں کی ساری شرارت خدا نے ان ہی کے سر پر ڈالی اور یرُبعل کے بیٹے یوتام کی لعنت انکو لگی ۔