Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
35 verses
1اور افرائیم کے لوگوں نے اس سے کہا کہ جب تو مدیانیوں سے لڑنے کو چلا تو ہم کو نہ بلایا؟سو انہوں نے اس کے ساتھ بڑا جھگڑا کیا ۔
2اس نے ان سے کہا میں نے تمہاری طرح بھلا کیا ہی کیا ہے ؟کیا افرائیم کے چھوڑے ہوئے انگور بھی ابیعزر کی فصل سے بہتر نہیں ہیں ؟
3خدا نے مدیان کے سردار عوریب اور زئیب کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا ۔پس تمہاری طرح میں کر ہی کیا سکا ہوں ؟جب اس نے یہ کہا تو ان کا غصہ اس کی طرف سے دھیما ہو گیا ۔
4تب جدون اور اس کے ساتھ کے تین سو آدمی جو باوجود تھکے ماندے ہو نے کے پھر بھی پیچھا کرتے ہی رہے تھے یردن پر آکر پار اترے ۔
5تب ا س نے سکات کے باشندوں سے کہا کہ ان لوگوں کو جو مےرے پیرو ہیں روٹی کے گردے دو کیونکہ یہ تھک گئے ہیں اور مدیان کے دونو ں بادشاہوں زبحاور ضلنع کا پیچھا کر رہا ہوں ۔
6سکات کے سرداروں نے کہا کیا زبحاور ضلمنع کے ہاتھ اب تیرے قبضہ میں آگئے ہیں جو ہم تیرے لشکر کو روٹیاں دیں ؟
7جدون نے کہا جب خداوند زبحاور ضلنعکو میرے ہاتھ میں کردیگا تو میں تمہارے گوشت کو ببول اور سداگلاب کے کانٹوں ست نچوڑونگا ۔
8پھر وہاں سے وہ فنوایل کو گیا اور وہاں کے لوگوں سے بھی ایسی ہی بات کہی اور فنوایل کے لوگوں نے بھی اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا سکاتیوں نے دیا تھا ۔
9سو ا س نے فنوایل کے باشندوں سے بھی کہا کہ جب میں سلامت لوٹونگا تو اس برج کو ڈھا دونگا ۔
10ور زبح اور ضلمنع نے تقریباََپندرہ ہزار آدمیوں کے لشکر سمیت قرقور میں تھے کیونکہ فقط اتنے ہی اہل مشرق کے لشکر میں سے بچ رہے تھے اسلئے کہ ایک لاکھ بیس ہزار شمشیر زن کے مرد قتل ہو گئے تھے ۔
11سو جدون ان لوگوں کے راستہ سے جو نبح اور یگبہاہ کے مشرق کی طرف ڈیروں میں رہتے تھے گیا اور اس لشکر کو مارا کیو نکہ وہ لشکر بے فکر پڑا تھا ۔
12اور زبح اور ضلمنع بھاگے اور اس نے ان کا پیچھا کر کے ان دونوں مدیانی بادشاہوں زبح اور ضلمنع کو پکڑ لیا اور سارے لشکر کو بھگا دیا ۔
13اور یوآس کا بیٹا جدون حرس کی چڑھائی کے پاس ست جنگ سے لوٹا ۔
14اور اس نے سکاتیوں میں سے ایک جوان کو پکڑ کر اس سے دریافت کیا ۔سو اس نے اسے سکات کے سرداروں اور بزرگوں کا حال بتادیا جو شمال میں ستتر تھے ۔
15تب وہ سکاتیوں کے پاس آکر کہنے لگا کہ زبح اور ضلمنع کو دیکھ لو جنکی بابت تم نے طنزََ مجھ سے کہا تھا کیا زبح اور ضلمنع کے ہاتھ تیرے قبضہ میںآگئے ہیں کہ ہم تیرے آدمیوں کو جو تھک گئے ہیں روٹیاں دیں ؟
16تب ا س نے شہر کے بزرگوں کو پکڑ ا اور ببول اور سدا گلاب کے کانٹے لیکر ان سے سکاتیوں کی تادیب کی ۔
17اور اس نے نوایل کا برج ڈھا کر اس شہر کے لوگوں کو قتل کیا ۔
18پھر اس نے زبح اور ضلمنع سے کہا کہ وہ لوگ جنکو تم نے تبور میںقتل کیا کیسے تھے ؟انہوں نے جواب دیا جیسا تو ہے ویسے ہی وہ تھے ۔ان میں سے ہر ایک شہزادوں کی مانند تھا ۔
19تب اس نے کہا کہ وہ میرے بھائی میری ماں کے بیٹے تھے۔سو خداوند کی حیات کی قسم اگر تم ان کو جیتا چھوڑتے تو میں بھی تم کو نہ مارتا ۔
20پھر اس نے اپنے بڑے بیٹے یتر کو حکم کیا کہ اٹھ ان کو قتل کر پر اس لڑکے نے اپنی تلوار نہ کھینچی کیونکہ اسے ڈر لگا اسلئے کہ وہ بھی لڑکا ہی تھا ۔
21تب زبح اور ضلمنع نے کہا تو آپ اٹھ کر ہم پر وار کر کیونکہ جیسا آدمی ہوتا ہے ویسی ہی اس کی طاقت ہو تی ہے ۔و جدون نے اٹھ کر زبح اور ضلمنع کو قتل کیا اور ان کے اونٹوں کے گلے کے چندن ہار لے لئے ۔
22تب بنی اسرائیل نے جدون سے کہا کہ تو ہم پر حکومت کر ۔تو اور تیرا بیٹاا ور تیرا پوتا بھی کیونکہ تو نے ہم کو مدیانیوں کے ہاتھ سے چھڑایا ۔
23تب جدون نے ان سے کہا کہ نہ میں تم پر حکومت کروں اور نہ میرا بیٹا بلکہ خدا ہی تم پر ھکومت کریگا ۔
24اور جدون نے ان سے کہا کہ میں تم سے یہ عر ض کرتا ہوں کہ تم میں سے ہر شخص اپنی لوٹ کی بالیاں مجھے دے دے (یہ لوگ اسمعیٰلی تھے اسلئے ان کے پاس سونے کی بالیاں تھیں)۔
25انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان کو بڑی خوشی سے دینگے ۔پس انہوں نے ایک چادر بچھائی اور ہر ایک نے اپنی لوٹ کی بالیا ں اس پر ڈال دیں ۔
26سو وہ سونے کی بالیاں جو اس نے مانگی تھیں وزن میں ایک ہزار سات سو مثقال تھیں علاوہ ان چندن ہاروں اور جھمکوں اور مدیانی بادشاہوں کی ارغوانی پوشاک کے جو وہ پہنے تھے اور ان زنجیروں کے جو ان کے اونٹ کے گلے میں پڑی تھیں ۔
27اور جدون نے ان سے ایک افود بنوایا اور اسے اپنے شہر عفرہ میں رکھا اور وہا ں سب اسرائیلی اس کی پیروی میں زناکاری کرنے لگے اور وہ جدون اور اس کے گھرانے کے لئے پھندا ٹھہرا ۔
28یوں مدیانی بنی اسرائیل کے آگے مغلوب ہو ئے اور انہوں نے پھر کبھی سر نہ اٹھایا اور جدون کے دنوں میں چالیس برس تک اس ملک میں امن رہا ۔
29اور یوآس کا بیٹا یرُبعل جا کر اپنے گھر میں رہنے لگا ۔
30اور جدون کے ستر بیٹے تھے جو اس ہی کے صلب سے پیدا ہو ئے تھے کیونکہ اس کی بہت سی بیویاں تھیں ۔
31اور اس کی ایک حرم کے بھی جو سکم میں تھی اس سے ایک بیٹا ہوا اور اس نے اس کا نام ابی ملک رکھا ۔
32اور یوآس کے بیٹے جدون نے خوب عمر رسیدہ ہو کر وفات پائی اور ابیعزریوںکے عفرہ میں اپنے باپ یوآس کی قبر میں دفن ہوا ۔
33اور جدون کے مرتے ہی بنی اسرائیل برگشتہ ہو کر بعلیم کی پیروی میں زنا کاری کرنے لگے اور بعل بریت کو اپنا معبود بنا لیا ۔
34اور بنی اسرائیل نے خداوند اپنے خدا کو جس نے انکو ہر طرف ان کے دشمنو ں کے ہاتھ سے رہائی دی تھی یاد نہ رکھا ۔
35اور نہ وہ یرُبعل یعنی جدون کے خاندان کے ساتھ ان سب نیکیوں کے عوض میں جو اس نے بنی اسرائیل سے کی تھیں مہر سے پیشآئے ۔