Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
25 verses
1تب یرُبعل یعنی جدون اور سب لوگ جو اسکے ساتھ تھے سویرے ہی اٹھے اور حرود کے چشمہ کے پاس ڈیرا کیا اور مدیانیوں کی لشکر گاہ انکے شمال کی طرف کوہ مورہ کے متصل وادی میں تھی ۔
2تب خداوند نے جدون سے کہا تیرے ساتھ کے لوگ اتنے زیادہ ہیں کہ مدیانیوں کو ان کے ہاتھ میں نہیں کر سکتا۔ایسا نہ ہو کہ اسرائیلی میرے سامنے اپنے اوپر فخر کر کے کہنے لگیں کہ ہمارے ہاتھ نے ہم کو بچایا ۔
3سو تو اب لوگوں میں سنا سنا کر منادی کردے کہ جو کو ئی ترسان اور ہراسان ہو وہ لوٹ کر کوہ جلعاد سے چلا جائے چنانچہ ان لوگوں میں سے بائیس ہزار تو لوٹ گئے اور دس ہزار باقی رہ گئے ۔
4تب خداوند نے جدون سے کہا کہ لوگ اب بھی زیادہ ہیں سو تو ان کو چشمہ کے پا س نیچے لے آاور وہاں میں تیری خاطران کو آزماﺅ نگا اور ایسا ہو گا کہ جس کی بابت میں تجھ سے کہو ں کہ یہ تیرے ساتھ وہی تیرے ساتھ جا ئے اور جس کے حق میں میں کہوں کہ یہ تیرے ساتھ نہ جائے وہ نہ جائے ۔
5سو وہ ان لوگوں کو چشمہ کے پاس نیچے لے گیااور خداوند نے جدون سے کہا کہ جو جو اپنی زبان سے پانی چپڑ چپڑ کر کے کتے کی طرح پئے اس کو الگ رکھ اور ویسے ہی ہر ایسے شخص کو جو گھٹنے ٹیک کر پئے ۔
6سو جنہوں نے اپنا ہاتھ اپنے منہ سے لگا کر چپڑ چپڑ کر کے پیا وہ گنتی میں تین سو مرد تھے اور باقی سب مردوں نے گھٹنے ٹیک کر پانی پیا ۔
7تب خداوند نے جدون سے کہا کہ میں ان تین سو آدمیوں کے وسیلہ سے جنہوں نے چپڑ چپڑ کر کے پیا تم کو بچاﺅنگا اور مدیونیوں کو تیرے ہاتھ میں کر دونگا او باقی سب لوگ اپنی اپنی جگہ کو لوٹ جائیں ۔
8تب ان لوگوں نے اپنا انپا توشہ اوت نرسنگا اپنے اپنے ہاتھ میں لیا اور اس نے سب اسرائیلی مردوں کو ان کے دیروں کی طرف روانہ کر دیا پر ان تین سو مردوں کو رکھ لیا اور مدیونیوں کی لشکر گاہ اسکے نیچے وادی میں تھی ۔
9اور اسی رات خداوند نے اس سے کہا کہ اٹھ اور نیچے لشکر گاہ میں اتر جا کیونکہ میں نے اسے تیرے ہاتھ میں کر دیا ہے ۔
10لیکن اگر تو نیچے جاتے ڈرتا ہے تو تُو اپنے نوکر فوراہ کے ساتھ لشکر گاہ میں اتر جا ۔
11اور تو سن لے گا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔اس کے بعد تجھ کو ہمت ہو گی کہ تو اس لشکر گاہ میں اتر جائے ۔چنانچہ وہ اپنے نوکر فوراہ کوساتھ لیکران سپاہیوں کے پاس جو ا س لشکر گاہ کے کنارے تھے گےا ۔
12اور مدیانی اور عمالیقی اور اہل مشرق کثرت سے وادی کے بیچ ٹڈیوں کی مانند پھیلے پڑے تھے اور ان کے اونٹ کثرت کے سبب سے سمنر کے کنارے کہ ریت کی مانند بے شمار تھے ۔
13اور جب جدون پہنچا تو دیکھو وہاں ایک شخص اپنا خواب اپنے ساتھی سے بیان کرتا ہوا کہہ رہا تھا دیکھ میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ جو کی ایک روٹی مدیانی لشکر گاہ میں گری اور لڑھکتی ہو ئی ڈیر ے کے پاس پہنچی اور اس سے ایسی ٹکرائی کہ وہ گر گیا او اس کو ایسا الٹ دیا کہ وہ ڈیرا فراموش ہو گیا ۔
14تب اس کے ساتھی نے جواب دیا کہ یہ یوآس کے بیٹے جدون اسرائیلی مرد کی تلوار کے سوا اور کچھ نہیں ۔خدا نے مدیان کو اور سارے لشکر کو اس کے ہاتھ میں کر دیا ہے۔
15جب جدون نے خواب کا مضمون اور اس کی تعبیر سنی تو سجدہ کیا اور اسرائیلی لشکر میں لوٹ کر کہنے لگا اٹھو کیونکہ خداوند نے مدیانی لشکر کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا ہے ۔
16او ر اس نے تین سو آدمیوں کے تین غول کئے اور ان سبھوں کے ہاتھ میں ایک ایک نرسنگا اور اس کے ساتھ ایک ایک خالی گھڑا دیا اور ہر گھڑے کے اندر ایک ایک مشعل تھی ۔
17اور اس نے ان سے کہا کہ مجھے دیکھتے رہنا اور ویسا ہی کرنااور دیکھو جب میں لشکر گاہ کے کنارے جا ��ہنچوں تو جو کچھ میں کروں تم بھی ویسا ہی کرنا ۔
18جب میں اور وہ سب جو میرے ساتھ ہیں نرسنگا پھونکیں تو تم بھی لشکر گاہ کی ہر طرف نرسنگے پھونکنا اور للکارنا کہ یہوواہ کی اور جدون کی تلوار ۔
19سو بیچ کے پہر کے شروع میں جب نئے پہرے والے بدلے گئے تو جدون اور وہ سو آدمی جو اس کے ساتھ تھے لشکر گاہ کے کنارے آئے اور انہوں نے نرسنگے پھونکے اور گھڑوں کو جو ان کے ہاتھ میں تھے توڑا۔
20اور ان تینوں غولوں نے نرسنگے پھونکے اور گھڑے توڑے اور مشعلوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں اور نرسنگوں کو پھونکنے کے لئے اپنے دہنے ہاتھ میں لے لیا اور چلا اٹھے کہ یہواہ کی اور جدون کی تلوار !۔
21اور یہ سب کے سب لشکر گاہ کے چوگرد اپنی اپنی جگہ کھڑے ہو گئے ۔تب سارا لشکر دوڑنے لگا اور انہوں نے چلا چلا کر انکو بھگایا ۔
22اور انہوں نے تین سو نرسنگوں کو پھونکا اور خداوند نے ہر شخص کی تلوار اس کے ساتھی اور سب لشکر پر چلوائی اور ساری لشکر صریرات کی طرف بیتِ سطہ تک طبات کے قریب ابیل محُولہ کی سرحد تک بھاگا ۔
23تب اسرائیلی مر نفتالی اور آشر اور منسی کی حدود سے جمع ہو کر نکلے اور مدیانیوں کا پیچھا کیا ۔
24اور جدون کے افرائیم کے تمام کوہستانی ملک میںقاصد روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ مدیونیوں کے مقابلہ کو اتر آﺅ اور ان سے پہلے پہلے دریایِ یردن ے گھاٹوں پر بیتِ برہ تک قابض ہو گئے ۔
25اور انہوں نے مدیان کے دو سرداروں عوریب اور زئیب کو پکڑ لیا اور عوریب کو عوریب کی چٹان پر اور زئیب کو زئیب کے کو لھُو کے پاس قتل کیا اور مدیانیوں کو رگیدا اور عوریب اور زئیب کے سر یردن کے پار جدون کے پاس لے آئے ۔