Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
40 verses
1اور بنی سرائیل نے خدا وند کے آگے بدی کی اور خداوند نے ان کو سات برس تک مدےانےوں کے ہاتھ میں رکھا۔
2اور مدےانےوں کا ہاتھ اسرائیلےوں پر غالب ہو ااور مدےانےوں کے سبب سے بنی سرائےل نے اپنے لئے پہا ڑوں میں کھوہ اور غار اور قلعے بنالئے۔
3اور اےسا ہوتا تھا کہ جب بنی اسرائیل کچھ بوتے تھے تو مدےانی اور عمالیقی اور اہل مشرق ا ±ن پر چڑھ آتے ۔
4اورا ±ن نے مقابل ڈےرے لگا کرغزہ تک کھیتوں کی پیداوار کو برباد کر ڈالتے اور بنی اسرائیل کےلئے نہ تو کچھ معاش نہ بھیڑ بکری نہ گائے بیل نہ گدھا چھوڑتے تھے۔
5کیونکہ وہ اپنے چوپاﺅں اور ڈیروں کو ساتھ لے کر آتے اور ٹڈیوں کے دل کی مانند آتے اور وہ اور ان کے اونٹ بے شمار ہوتے تھے۔ یہ لوگ ملک کو تباہ کرنے کےلئے آ جاتے تھے۔
6سو اسرائیلی مدیانیوں کے سبب سے نہایت خسہ حال ہوگئے اور بنی اسرائیل خداوند سے فریاد کرنے لگے۔
7اور جب بنی سرائیل مدیانیوں کے سبب سے خداوند سے فریاد کرنے لگے ۔
8تو خداوند نے بنی اسرائیل کے پاس ایک نبی کو بھیجا۔ اس نے ان سے کہا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میں تم کو مصر سے لایا اور میں نے تم کوغلامی کے گھر سے باہر نکالا۔
9میں نے مصریوں کے ہاتھ سے ان سبھوں کے ہاتھ سے جو تم کو ستاتے تھے تم کو چھڑایا اور تمہارے سامنے سے ان کو دفعہ کیا اور ان کا ملک تم کو دیا۔
10اور میں نے تم سے کہا تھا کہ خداوند تمہارا خدا مَیں ہوں۔ سو تم ان اموریوں اور دیوتاﺅں سے جن کے ملک میں بستے ہو مت ڈرنا پر تم نے میری بات نہ مانی۔
11پھر خداوند کا فرشتہ آکر عفرہ میں بلوط کے ایک درخت کے نیچے جو یوآس ابیعزی کا تھا بیٹھا اور اس کا بیٹا جدعون مے لے کر ایک کولھو میں گیہوں جھاڑ رہا تھا تاکہ اس کو مدیانیوں سے چھپا رکھے۔
12اور خداوند کا فرشتہ اسے دکھائی دے کر اس سے کہنے لگا کہ اے زبردست سورما خداوند تیرے ساتھ ہے۔
13جدعون نے اس سے کہا اے میرے مالک اگر خداوند ہی ہمارے ساتھ ہے تو ہم پر یہ سب حادثے کیوں گزرے اور اس کے وہ سب عجیب کام کہاں گئے جن کا ذکر ہمارے باپ دادا ہم سے یوں کرتے تھے کہ کیا خداوند ہی ہم کو مصر سے نہیں نکال لایا؟ پر اب تو خداوند نے ہم کو چھوڑ دیا اور ہم کو مدیانیوں کے ہاتھ میں کر دیا۔
14تب خداوند نے اس پر نگاہ کی اور کہا کہ تو اپنے اسی زور میں جا اور بنی اسرائیل کو مدیانیوں کے ہاتھ سے چھڑا۔ کیا میں نے تجھے نہیں بھیجا؟
15اس نے اس سے کہا اے مالک ۔ میں کس طرح بنی اسرائیل کو بچاﺅں میرا گھرانہ منسی میں سب سے غریب ہے اور مَیں اپنے باپ کے گھر میں سب سے چھوٹا ہوں۔
16خداوند نے اس سے کہا مَیں ضرور تیرے ساتھ ہوں گا اور تو مدیانیوں کو ایسا مار لے گا جیسے ایک آدمی کو۔
17تب اس نے اس سے کہا کہ اب اگر مجھ پر تیرے کرم کی نظر ہوئی ہے تو اس کا مجھے کوئی نشان دکھا کر مجھ سے تو ہی باتیں کرتا ہے۔
18اور میں تیری منت کرتا ہوں کہ تو یہاں سے نہ جا جب تک میں تیرے پاس پھر نہ آﺅں اور اپنا ہدیہ نکال کر تیرے آگے نہ رکھوں۔ اس نے کہا کہ جب تک تو پھر نہ آجائے میں ٹھہرا رہوں گا ۔
19تب جدعون نے جا کر بکری کا ایک بچہ اور ایک ایفہ آٹے کی فطیری روٹیاں تیار کیں اور گوشت کو ایک ٹوکری میںاور شوربا ایک ہانڈی میں ڈال کر اس کے پاس بلوط کے درخت کے نیچے لا کر گذرانا۔
20تب خدا کے فرشتے نے اس سے کہا اس گوشت اور فطیری روٹیون کو لے جا کر اس چٹان پر رکھ اور شوربا کو انڈیل دے۔ اس نے ویسا ہی کیا۔
21تب خداوند کے فرشتے نے اعصا کی نوک سے جو اس کے ہاتھ میں تھا گوشت اور فطیری روٹیوں کو چھوا اور اس پتھر سے آگ نکلی اور اس نے گوشت اور فطیری روٹیوں کو بھسم کر دیا۔ تب خداوند کا فرشتہ اس کی نظر سے غائب ہو گیا۔ اور جدعون نے جان لیا کہ وہ خداوند کا فرشتہ تھا۔
22سو جدعون کہنے لگا افسوس ہے اے مالک خداوند کہ میں نے خداوند کے فرشتہ کو روبرو دیکھا۔
23خداوند نے اس سے کہا تیری سلامتی ہو۔خوف نہ کر۔ تو مرے گا نہیں ۔
24تب جدعون نے وہاں خداوند کے لئے مذبح بنایااور اس کا نام یہواہ سلوم رکھا اور ابیعزریوں کے عفرہ میں آج تک موجود ہے۔
25اور اسی رات خداوند نے اس سے کہا اپنے باپ کا جوان بیل یعنی وہ دوسرابیل جو سات برس کا ہے لے بعل کے مذبح کو جو تیرے باپ کا ہے ڈھادے اور اس کے پاس کی یسیرت کو کاٹ ڈال۔
26اور خداوند اپنے خدا کے لئے اس گڑھی کی چوٹی پر قاعدہ کے مطابق ایک مذبح بنا اور اس دوسرے بیل کو لیکر اس یسیرت کی لکڑی سے جسے تو کاٹ ڈالے گا سوختنی قربانی گذران ۔
27تب جدون نے اپنے جوکروں میں سے دس آدمیوں کو ساتھ لیکر جیسا خداوند نے اسے فرمایا تھا کیا اور چونکہ وہ یہ کام اپنے باپ کے خاندان اور اس شہر کے باشندوں کے ڈر سے دن کو نہ کر سکا اسلئے اسے رات کو کیا ۔
28جب اس شہر کے لوگ صبح سوویرے اٹھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ بعل کا مذبح ڈھاےا ہوا اور اس کے پاس کی یسیرت کٹی ہو ئی اور اس مذبح پر جو بنایا گےا تھا وہ دوسرا بیل چڑھاےا ہوا ہے ۔
29اور وہ آپس میں کہنے لگے کس نے یہ کام کیا ؟اور جب انہوں نے تحقیقات اور پرسِش کی تو لوگوں نے کہا کہ یوآس کے بیٹے جدون نے یہ کام کیا ہے ۔
30تب اس شہر کے لوگوں نے یوآس سے کہا کہ اپنے بیٹے کو نکال لال تاکہ قتل کیا جائے اسلئے کہ اس نے بعل کا مذبح ڈھادیا اور اس کے پاس کی یسرت کاٹ ڈالی ہے ۔
31یوآس نے ان سبھوں کو جو اس کے سامنے کھڑے تھے کہا کیا تم بعل کے واسطے جھگڑا کرو گے یا تم اسے بچا لو گے ؟جو کوئی اس کی طرف سے جھگڑا کرے وہ اسی صبح مارا جائے ۔اگر وہ خدا ہے تو آپ ہی اپنے لئے جھگڑے کیونکہ کسی نے اسکا مذبح ڈھا دیا ۔
32اس لئے اس نے اس دن جدون کا نام یہ کہہ کر یرُبعل رکھا کہ بعل آپ ا س سے جھگڑلے اس کہ اس نے اس کا مذبح ڈھا دیا ہے ۔
33تب سب مدیانی اور عمالیقی اور اہل مشرق اکٹھے ہو ئے اور پار ہو کر یزرعیل کی وادی میں انہوں نے ڈیرا کیا ۔
34تب خداوند کی روح جدون پر نازل ہو ئی سو اس نے نر سنگا پھونکا اور ابےعزر کے لوگ اس کی پیروی میں اکٹھے ہوئے ۔پھر اس نے سارے منی کے پاس قاصد بھیجے ۔
35سو وہ اس کی پیروی میں فراہم ہوئے اور اس نے آشر اور زبولون اور نفتالی کے پاس بھی قاصد روانہ کئے ۔سو وہ ان کے استقبال کو آئے ۔
36تب جدون نے خدا سے کہا کہ اگر تو اپنے قول کے مطابق میرے ہاتھ کے وسیلہ سے بنی اسرائیل کو رہائی دینی چاہتا ہے ۔
37تو دیکھ میں بھیڑ کی اون کھلیہان میں رکھ دونگا سو اگر اوس فقط اون ہی پر پڑے اور آس پاس کی زمین سب سوکھی رہے تو میں جان لو نگا کہ تو اپنے قول کے مطابق بنی اسرائیل کو میرے ہاتھوں مے وسیلہ سے رہائی بخشے گا ۔
38اور ایسا ہی ہوا کیو نکہ وہ صبح کو جو سویرے اٹھا اور اس اون کو دبایا اور اون میں سے اوس نچوڑی تو پیالہ بھر پانی نکلا ۔
39تب جدون نے خدا سے کہا کہ تیرا غصہ مجھ پر نہ بھڑکے ۔میں فقط ایک بار اور عرض کرتا ہوں ۔میں تیری منت کرتا ہوں کہ فقط ایک بار اور اس اون سے آزمائش کر لوں ۔اب صرف اون ہی اون خشک رہے اور آس پاس کی سب مین پر اوس پڑے ۔
40سو خدانے اس رات ایسا ہی کیا کیو نکہ فقط اون ہی خشک رہی اور ساری زمین پر اوس پڑی ۔