Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
31 verses
1اسی دن دبورہ اور ابی نوعم کے بیٹے برق نے یہ گیت گایا کہ۔
2پیشواﺅں نے جو اسرائیل کی پیشوائی کی اور لوگ خوشی خوشی بھرتی ہوئے اس کےلئے خداوند کو مبارک کہو۔
3اے بادشاہو! سنو۔ اے شاہزادو! کان لگاﺅ۔ میں خود خداوند کی ستائش کروں گی میں خداوند اسرائیل کے خدا کی مدح گاﺅں گی۔
4اے خداوند! جب تو شعیر سے چلا۔ جب تو ادوم سے باہر نکلا۔ تو زمین کانپ اٹھی اور آسمان ٹوٹ پڑا۔ ہاں بادل برسے۔
5پہاڑ خداوند کی حضوری کے سبب سے اور وہ سیناہ بھی خداوند اسرائیل کے خدا کی حضوری کے سبب سے کانپ گئے۔
6عنات کے بیٹے شجر کے دنوں میں اور یاعیل کے ایام میں شاہراہیں سونی پڑی تھیں اور مسافر پگ ڈنڈیوں سے آتے جاتے تھے۔
7اسرائیل میں حاکم موقوف رہے۔ وہ موقوف رہے جب تک کہ مَیں دبورہ برپا نہ ہوئی۔ جب تک کہ مَیں اسرائیل میں ماں ہو کر نہ اٹھی۔
8انہوں نے نئے نئے دیوتا چن لئے۔ تب جنگ پھاٹکوں ہی پر ہونے لگی۔ کیا چالیس ہزار اسرائیلیوں میں بھی کوئی ڈھال یا برچھی دکھائی دیتی تھی؟
9میرا دل اسرائیل کے حاکموں ی طرف لگا ہے، جو لوگوں کے بیچ خوشی خوشی بھرتی ہوئے۔تم خداوند کو مبارک کہو۔
10اے تم سب جو سفید گدھوں پر سوارہواکرتے ہو اور تم جو نفیس غالیچوں پر بیٹھتے ہو اور تم لوگ جو راستہ چلتے ہو۔ سب اس کا چرچا کرو۔
11تیر اندازوں کے شور سے دور پنگھٹوں میں وہ خڈاوند کے صادق کاموں کا یعنی اس کی حکومت کے ان صادق کاموں کا جو اسرائیل میں ہوئے ذکر یں گے۔اس وقت خداوند کے لوگ اتر اتر کر پھاٹکوں پر گئے۔
12جاگ جاگ اے دبورہ! جاگ جاگ اور گیت گا! اٹھ اے برق اور اپنے اسیروں کو باندھ لے جا۔ اے ابی نوعم کے بیٹے!
13اس وقت تھوڑے سے رئیس اور لوگ اتر آئے۔ خداوند میری طرف سے زبردستوں کے مقابلہ کےلئے آیا۔
14افرائیم میں سے وہ لوگ آئے جن کی جڑ عمالیق میں ہے۔ تیرے پیچھے اے بنیمین! تیرے لوگوں کے درمیان مکیر میں سے حاکم اتر آئے۔اور زبولون میں سے وہ لوگ آئے جو سپہ سالار کا عصا لئے رہتے ہیں ۔
15اور اشکار کے سردار دبورہ کے ساتھ ساتھ تھے۔ جیسا اشکار ویسا ہی بر ق تھا۔ وہ لوگ اس ے ہمراہ جھپٹ کر وادی میں گئے۔روبن کی ندیوں کے پاس بڑے بڑے ارادے دل میںٹھانے گئے۔
16تو ان سیٹیوں کو سننے کےلئے جو بھیڑ بکریوں کے لئے بجاتے ہیںبھیڑ سالوں کے بیچ کیوں بیٹھا رہا؟ روبن کی ندیوں کے پاس۔ دلوں میں بڑا تردد تھا۔
17جلعاد یردن کے پار رہا اور دان کشتیوں میں کیوں رہ گیا؟ آشر سمند ر کے بندر کے پاس بیٹا ہی رہا۔ اور اپنی کھاڑیوں کے آس پاس جم گیا۔
18زبولون اپنی جان پر کھیلنے والے لوگ تھے۔ اور نفتالی بھی ملک کے اونچے اونچے مقاموں پر ایسا ہی نکلا۔
19بادشاہ آکر لڑے۔ تب کعنا ن کے بادشاہ تعناک میں مجدد کے چشموں کے پاس لڑے۔پر ان کو کچھ روپے حاصل نہ ہوئے۔
20آسمان کی طرف سے بھی لڑائی ہوئی بلکہ ستارے بھی اپنی اپنی منزل میں سیسرا سے لڑے۔
21قیسون ندی ان کو بہا لے گئی۔ یعنی وہی پرنی ندی جو قیسون ندی ہے۔ اے میری جان! تو زوروں میں چل۔
22ا ن کو د نے ۔ا ن زبردست گھو ڑوں کے کود نے کے سبب سے سموں کی ٹاپ کی آواز ہونے لگی۔
23خداوند کے فرشتہ نے کہاتم مےر وزپر لعنت کرو۔ا سکے باشندوں پر سخت لعنت کرو۔کیوں کے وہ خداوندکی ک ±مک کو زور آورں کے مقابل خداوند کی کمک کونہ آئے۔
24حبرقےنی کی بےوی یاعیل سب عورتوں سے مبارک ٹھہر��گی۔جو عورتےںڈےروں میں ہیں ان سے وہ مبارک ہوگی۔
25سےسرا نے پانی مانگا۔اس نے اسے دودھ دےا۔امےروں کی قاب میں وہ اس کے لئے مکھن لائی
26اس نے اپنا ہاتھ میخ کواور اپنا دھنا ہاتھ بڑھےوں کے مینچو کو لگا ےا اورمینچو سے اس نے سےسرا کو مارا۔اس نے اس کے سر کوپھوڑ ڈالا اور اس کی کنپٹیوں کو وار پا ر چھےد دےا۔
27اس کے پاﺅں پر وہ جھکا ۔وہ گرا اورپڑا رہا ۔ا س کے پاﺅں پر وہ جھکا اور گرا۔جہاں وہ جھکا تھا وہیں وہ مر کر گرا۔
28سےسرا کی ماں کھڑکی سے جھانکی اور چلائی۔اس نے جھلملی کی ا وٹ سے پکارا کہ اس کے رتھ کے آنے میں اتنی دےر کیوں لگی ؟اس کے رتھوں کے پہئے کیوں اٹک گئے ؟
29اس کی دانشمند عورتنے جواب دےا بلکہ اس نے اپنے آپ کو آپ ہی جواب دےا
30کیا انہوں نے لوٹ کو پا کر اسے بانٹ نہےں لیا ہے؟کیا ہر مرد کو اےک اےک بلکہ دودو کنوارےاں اور سےسرا کورنگا رنگ کو کپڑوں کی لوٹ بلکہ بیل بوٹے کڑھے ہوئے رنگا رنگ کپڑوں کی لوٹ اور دونوں طرف بیل بوٹے کڑھے ہوئے رنگا رنگ کپڑوں کی لوٹ جو اسےروں کی گردنوں پر لدی ہوئی نہیں ملی؟
31اے خداوند ۔تےرے سب دشمن اےسے ہی ہلاک ہو جائیں ۔لیکن اس کے پیارکرنے والے آفتاب کی مانند ہوں جب وہ آب وتاب کے ساتھ طلوع ہوتا ہے ۔اور ملک میں چالیس برس امن رہا۔