Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
24 verses
1اور اہود کی وفات کے بعد بنی اسرائیل نے پھر خدا وند کے حضور بدی کی ۔
2سو خدا وند نے انکو کنعان کے بادشاہ یابین کے ہاتھ جو حصور میں سلطنت کرتا تھا بیچا اور اس کے لشکر کے سردار کا نام سیسرا تھا ۔وہ اقوام کے شہر حروست میں رہتا تھا ۔
3تب بنی اسرائیل نے خداوند سے فرےاد کی کیو نکہ اس کے پاس لوہے کے نو سو رتھ تھے اور اس نے بیس برس تک بنی اسرائیل کو شدتسے ستاےا ۔
4اس وقت لفےدوت کی بیوی دبوہ نبیہ بنی اسرائیل کا انصاف کرتی تھی ۔
5اور وہ افرائیم کے کوہستانی ملک میں رامہ اور بےت ایلکے درمیان دبورہ کے کھجور کے درخت کے نیچے رہتی تھی اور بنی اسرائیل اس کے پاس انصاف کے لئے آتے تھے ۔
6اور اس نے قادس نفتالی سے ابی نوعم کے بےٹے برق کو بلا بھیجا اور اس سے کہا کہ کیا خداوند اسرائیل کے خدانے حکم نہیں کیا کہ تو تبور کے پہاڑ پر چڑھ جا اور بنی نفتالی اور ببنی زبولون میں سے دس ہزار آدمی اپنے ساتھ لے لے ؟
7اور میں نہر قیسون پر یابین کے لشکر کے سردار سیسرا کو او ر اس کے رتھوں اور فوج کو تےرے پاس کھینچ لاﺅنگا اور اسے تےرے ہاتھ میں کردونگا ۔
8اور برق نے اس سے کہا اگر تو مےرے ساتھ چلیگی تو میںجاﺅنگا پر اگر تو مےرے ساتھ نہیں چلیگی تو نہیں جاﺅنگا ۔
9اس نے کہا میں ضرور تےرے ساتھ چلونگی لیکن اس سفر سے جو تو کرتا ہے تجھے کچھ عزت حاصل نہ ہو گی کیونکہ خداوند سیسرا کو ایک عورت کے ہاتھ بیچ ڈالیگا اور دبورہ اٹھکر برق کے ساتھ قادس کو گئی ۔
10اور برق نے زبولون اور نفتالی کو قادس میں بلایا اور دس ہزار مرد اپنے ہمرا لے کر چڑھا اور دبورہ بھی اس کے ساتھ چڑھی ۔
11اور حبر قینی نے جو موسیٰ کے سالے حباب کی نسل سے تھا قینیوں سے الگ ہو کر قادس کے قرےب ضعننیم میں بلوط کے درخت کے پاس اپنا ڈےرا دال لیا تھا ۔
12تب انہوں نے سیسرا کو خبر پہنچائی کہ برق بن ابنیوعم کوہ تبور پر چڑھ گےا ہے ۔
13اور سےسرا نے اپنے سب رتھوں کو یعنی لوہے کے نو سو رتھوں اور اپنے سب لوگوں کو دیگر اقوام کے شہر حروست سے قیسون کی ندی پر جمع کیا ۔
14تب دبورہ نے برق سے کہا کہ اٹھ کیونکہ یہی وہ دن ہے جس میں خداوند نے سےسرا کو تےرے ہاتھ میں کر دےا ہے ۔کیا خداوند تےرے آگے نہیں گےا ہے ؟تب برق اور وہ دس ہزار مرد اس پیچھے پیچھے کوہ تبور سے اترے ۔
15اور خداوند نے سےسرا کواور اس کے سب رتھوں اور سب لشکر کو تلوار کی دھار سے برق کے سامنے شکست دی اور سےسرا رتھ پر سے اتر کر پیدل بھاگا ۔
16اور برق رتھوں ار لشکر کو دیگر اقوام کے حروست شہر تک رگےدتا گےا چنانچہ سےسرا کا سارا لشکر تلوار سے نابود ہوا اور ایک بھی نہ بچا ۔
17پر سےسرا حبرقینی کی بیوی یاعیل کے ڈےرے کو پیدل اسلئے کہ حصور کے بادشاہ ےابین اور حبرقینی کے گھرانے میں صلح تھی ۔
18تب ےاعےل سےسرا سے ملنے کو نکلی اور ا س سے کہنے لگی اے مےرے خداوند آ۔مےرے پاس آاور ہراساں نہ ہو ۔سو وہ اس کے پاس ڈےرے میں چلا گےا اور اس نے اس کو کمبل اڑھا دےا ۔
19تب سےسرا نے اس سے کہا کہ ذرا مجھے تھوڑا سا پانی پینے کو دے کیو نکہ میں پیاسا ہوں ۔سو اس نے دودھ کا مشکیزہ کھولکر اسے پلایا اور پھر اسے اڑھا دےا ۔
20تب اس نے اس سے کہا کہ تو ڈےرے کے دروازہ پر کھڑی رہنا اور اگر کوئی شخص آکر تجھ سے پوچھے کہ یہاں کو ئی مرد ہے ؟ تو تو کہہ دےنا کہ نہیں ۔
21تب حبر کی بیوی یاعیل ڈےرے کی ایک میخ اور ایک مینحچو کو ہاتھ میں لے دبے پاﺅں اس کے پاس گئی اور میخ اس کی کنپٹیوں پر رکھ کر ایسی ٹھونکی کہ وہ پار ہو کر زمین میں جا دھسی کیونکہ وہ گہری نیند میں تھا ۔پس وہ بے ہوش ہو کر مر گےا ۔
22اور جب برق سےسرا کو رگےدتا آےاتو ےاعیل اس سے ملنے کو نکلی اور اس سے کہا جا اور میں تجھے وہی شخص جسے تو ڈھونڈتا ہے دکھادونگی ۔پس ا س نے اس کے پاس آکر دیکھا کہ سےسرا مرا پڑا ہے اور میخ اس کی کنپٹےوں میں ہے ۔
23سو خدا نے اس دن کنعان کے بادشاہ ےابین کو بنی اسرائیل کے سامنے نیچا دکھاےا ۔
24اور بنی اسرائیل کا ہاتھ کنعان کے بادشاہ یابین پر زیادہ غالب ہی ہوتا گےا یہاں تک کہ انہوں نے شاہ کنعان یابین کو نیست کر ڈالا ۔