Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
31 verses
1اور یہ وہ قومیں ہیں جنکو خداوند نے رہنے دےا تا کہ ان کے وسیلہ سے اسرائیلیوں میں سے ان سب کو جو کنعان کی سب لڑائیوں سے واقف نہ تھے آزمائے ۔
2فقط مقصود یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی نسل کے خاص کر ان لوگوں کو جو پہلے لڑنا نہیں جانتے تھے لڑائی سکھائی جائے تا کہ وہ واقف ہو جائیں ۔
3یعنی فلستےوں کے پانچویں سردار اور سب کعنانی اور صےدانی اور کو ہ بعل حرمون سے حمات کے مدخل تک کے سب حوی جو کوہ لبنان میں بستے تھے ۔
4یہ اسلئے تھے کہ ان کے وسیلہ سے اسرائیلی آزمائے جائیں تا کہ معلوم ہو جائے کہ وہ خداوند کے حکموں کو جو اس نے موسیٰ کی معرفت ان کے باپ داد کو دئے تھے سنینگے یا نہیں ۔
5سو بنی اسرائیل کنعانیوں اور حتےوں اور امورےوں اور فرزےوں اور حویوں اور یبوسیوں کے درمیان بس گئے ۔
6اور ان کی بیٹےوں سے آپ نکاح کرنے اور اور اپنی بیٹےاں ان کے بےٹوں کو دےنے اور ان کے یوتاﺅں کی پرستش کرنے لگے ۔
7اور بنی اسرائیل نے خداوند کے آگے بدی کی اور خداونداپنے خدا کو بھولکر بعلیم اور یسےرتوںکی پرستش کرنے لگے ۔
8اسلئے خداوند کا قہر اسرائیلیوں پر بھڑکا اور اس نے ان کو مسوپتامیہ کے بادشاہ کو شن رسعتےم کے ہاتھ بےچ ڈالا۔سو وہ آٹھ برس تک کوشن رسعتےم کے مطےع رہے ۔
9اور جب بنی اسرائیل نے خداوند سے فرےاد کی تو خداوند نے بنی اسرائیل کے لئے ایک رہائی دےنے والے کو برپا کیا اور کالب کے چھوٹے بھائی قنز کے بےٹے غتنی ایلنے ان کو چھڑاےا ۔
10اور خداوند کی روح اس پر اتری اور وہ اسرائیل کا قاضی ہوا اور جنگ کے لئے نکلا ۔تب خداوند نے مسوپتامیہ کے بادشاہ کوشن رسعتےم کو اس کے ہاتھ میں کر دےا ۔سو اس کا ہاتھ کوشن رسعتےم پر غالب ہوا ۔
11اور اس ملک میں چالیس بس تک چین رہا اور قنز کے بےٹے غتنی ایلنے وفات پائی ۔
12اور بنی اسرائیل نے پھر خداوند کے آگے بدی کی ۔تب خداوند نے موآب کے بادشاہ عجلون کو اسرائیلیوں کے خلاف زور بخشا اسلئے کہ انہوں نے خداوند کے آگے بدی کی تھی ۔
13اور اس نے بنی عمون اور بنی عمالیق کو اپنے ہاں جمع کیا اور جا کر اسرائیل کو مارا اور انہوں نے کھجوروں کا شہر لے لیا ۔
14سو بنی اسرائیل اٹھارہ برس تک موآب کے بادشاہ عجلون کے مطےع رہے ۔
15لیکن جب بنی اسرائیل نے خداوند سے فرےاد کی تو خداوند نے بنیمینی جیرا کے بےٹے اہود کو جو نیں ہتھا تھا انکا چھڑانے والا مقرر کیا اور بنی اسرائیل نے اسکی معرفت موآب کے بادشاہ عجلون کے لئے ہدیہ بھیجا ۔
16اور اہود نے اپنے لئے ایک دو دھاری تلوار ایک ہاتھ لمبی بنوائی اور اسے اپنے جامے کے نےچے دہنی ران پر باندھ لیا ۔
17پھر اس نے موآب کے بادشاہ عجلون کے حضور وہ ہدیہ پیش کیا اور عجلون بڑا موٹا آدمی تھا ۔
18اور جب وہ ہدیہ پیش کر چکا تو ان لوگوں کو جو ہدیہ لائے تھے رخصت کیا۔
19اور وہ آپ اس پتھر کی کان کے پاس جو جلجال میں ہے لوٹ کر کہنے لگا کہ اے بادشاہ مےرے پاس تےرے لئے ایک خفیہ پیغام ہے ۔اس نے کہا خاموش رہ ۔ تب وہ سب جو اس کے گرد کھڑے تھے اس کے پاس سے باہر چلے گئے ۔
20پھر اہود اس کے پاس آیا ۔اس وقت وہ اپنے ہوادار بالاخانہ میں اکیلا بےٹھا تھا ۔تب اہودنے کہا تےرے لئے مےرے پاس خدا کی طرف سے ایک پیگام ہے ۔تب وہ کرسی پر سے اٹھ کھڑ ا ہوا ۔
21اور اہود نے اپنا بایاں ہاتھ بڑھا کر اپنی دہنی ران پر سے وہ تلوار لی اور اس کی توند میں گھسےڑ دی ۔
22اور پھل قبضہ سمیت داخل ہو گےا اور چربی ��ھل کے اوپر لپٹ گئی کیونکہ اس نے تلوار کو اس کی توند سے نہ نکالا بلکہ وہ پار ہو گئی ۔
23تب اہود نے برآمدہ میں آکر اور بالا خانہ کے دروازوں کے اندر اسے بند کرکے قفل لگا دےا۔
24اور جب وہ چلتا بنا تو اس کے خادم آئے اور انہوں نے دیکھا کہ بالا خانہ کے دروازو میں قفل لگا ہے ۔وہ کہنے لگے کہ وہ ضرور ہوادار کمرے میں فراغت کر رہا ہے ۔
25اور وہ ٹھہرے ٹھہرے شرما بھی گئے اور جب دیکھا کہ وہ بالا خانہ کے دروازے نہیں کھولتا تو انہوں نے کنجی لی اور دروازے کھولے اور دیکھا کہ ان کا آقا زمین پر مرا پڑاہے ۔
26اور وہ ٹھہرے ہی ہوئے تھے کہ اہو اتنے میں بھاگ نکلا اور پتھر کی کان سے آگے بڑھکر سعےرت میں جا پناہ لی ۔
27اور وہاں پہنچ کو اس نے افرائےم کے کوہستانی ملک میں نرسنگا پھونکا ۔تب بنی اسرائیل ا س کے ساتھ کوہستانی ملک سے اترے اور وہ ان کے آگے آگے ہو لیا ۔
28ا س نے ان کو کہا مےرے پیچھے پیچھے چلے چلو کیونکہ خداوند نے تمہارے دشمنوں یعنی موآبیوں کو تمہارے ہاتھ میں کر دےا ہے ۔سو انہوں نے اس کے پیچھے پیچھے جا کر یردنکے گھاٹوں کو جو موآب کی طرف تھے اپنے قبضہ میں کر لیا اور ایک کو پار اترنے نہ دیا ۔
29اس وقت انہوں نے موآب کے دس ہزار مرد قےرب جو سب کے سب موٹے تازہ اور بہادر تھے قتل کئے اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا ۔
30سو موآب اس دن اسرائیلیوں کے ہاتھ کے نےچے دب گےا اور اس ملک میں اسی برس چین رہا ۔
31اس کے بعد عنات کا بےٹاشمجر کھڑا ہوا اور اس نے فلستےوں میں سے چھ سو مرد بیل کے پینے سے مار ے اور اس نے بھی اسرائیل کو رہائی دی ۔