Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
23 verses
1اور خداوند کا فرشتہ جلجال سے بو کیم کو آیا اور کنے لگا میں تم کو مصر سے نکال کر اس ملک میں جس کی بابت میں نے تمہارے باپ دادا سے قسم کھائی تھی لے آےا اور میں نے کہا کہ ہر گز تم سے عہد شکنی نہیں کرونگا ۔
2اور تم اس ملک کے باشندوں کے ساتھ عہد باندھنا بلکہ انکے مذبحوں کو ڈھا دینا پر تم نے میری بات نہیں مانی ۔تم نے کیوں ایسا کیا ؟
3اسی لئے میں نے بھی کہا کہ میں انکو تمہارے آگے سے دفع نہ کرونگا بلکہ وہ تمہارے پہلوﺅں کے کانٹے ان کے دیوتا تمہارے لئے پھندے ہو نگے ۔
4جب خداوند کے فرشتہ نے سب بنی اسر ائیل سے یہ باتیں کہیں تو وہ چلا چلا کر رونے لگے ۔
5اور انہوں نے اس جگہ کا نام بوکیم رکھا اور وہاں انہوں نے خداوند کے لئے قربانی چڑھائی ۔
6اور جس وقت یشوع نے جماعت کو رخصت کیا تھا تب بنی اسر ئیل میں سے ہر ایک اپنی میراث کو لوٹ گےا تھا تا کہ اس ملک پر قبضہ کرے ۔
7اور وہ لوگ خداوند کی پرستش یشوع کے جیتے جی اور ان بزرگوں کے جیتے جی کرتے رہے جو یشوع کے بعد زندہ رہے اور جنہوں نے خداوند کے سب بڑے کام جو اس نے اسرائیل کے لئے دیکھے تھے ۔
8اور نُون کا بےٹا یشوع خداوند کا بندہ ایک سو دس برس کا ہو کر رحلت کر گےا ۔
9اور انہوں نے اسی کی میراث کی حد پر تمنت حرس میں افرائیم کے کوہستانی ملک میں جو کوہ جعس کے شمال کی طرف ہے اسکو دفن کیا ۔
10اور وہ ساری پشت بھی اپنے باپ دادا سے جا ملی اور ان کے بعد ایک اور پشت پیدا ہوئی جو نہ خداوند کو اور انہ اس کام کو جو اس نے اسرائیل کے لئے کیا جانتی تھی ۔
11اور بنی اسرائیل نے خداوند کے آگے بدی کی اور بعلیم کی پرستش کرنے لگے ۔
12اور انہوں نے خداوند اپنے باپ دادا کے خدا کو جو انکو ملک مصر سے نکال لایا تھا چھوڑ دےا اور دوسرے معبودوں کی جو انکے چوگرد کی قوموں کے دیوتاﺅں میں سے تھے پیروی کرنے اور ان کو سجدہ کرنے لگے اور خداوند کو غصہ دلایا ۔
13اور وہ خداوند کو چھوڑ کر بعل اور عستارات کی پرستش کرنے لگے ۔
14اور خداوند کا قہر اسرائیل پر بھڑکا اوراس نے ان کو غارتگروں کے ہاتھ میں کر دےا جو ان کو لوٹنے لگے اور ا س نے ان کو ان کے دشمنوں کے ہاتھ جو آس پاس تھے بےچا۔سو وہ پھر اپنے دشمنوں کے سامنے کھڑے نہ ہو سکے ۔
15اور وہ جہاں کہیں جاتے خداوند کا ہتھ ان کی اذےت ہی پر تلا رہتا تھا جیسا خداوند نے کہہ دیا تھا اور ان سے قسم کھائی تھی ۔سو وہ نہوےت تنگ آگئے ۔
16پھر خداوند نے ان کے لئے اےسے قاضی برپا کئے جنہوں نے ان کو ان کے غارتگروں کے پاتھ سے چھڑایا ۔
17لیکن انہوں نے اپنے قاضیوں کی بھی نہ سنی بلکہ اور معبودوں کی پیروی میں زنا کرتے اور ان کو سجدہ کرتے تھے اور وہ اس راہ سے جس پر ان کے باپ دادا چلتے اور خداوند کی فرمانبرداری کرتے تھے بہت جلد پھر گئے اور انہوں نے ان کے سے کام نہ کئے ۔
18اور جب خداوند ان کے لئے قاضیوں کو برپا کرتا تو خداوند اس قاضی کے ساتھ ہو تا اور اس قاضی کے جیتے جی ان کو انکے دشمنوں کے ہاتھ سے چھڑایا کرتا تھا ۔اس لئے کہ جب وہ اپنے ستانے والوں اور دکھ دےنے والوں کے باعث کڑھتے تھے تو خداوند ملُول ہوتا تھا ۔
19لیکن جب وہ قاضی مر جاتا تو وہ برگشتہ ہو کر اور معبودوں کی پیروی میں اپنے باپ داداسے بھی ذیادہ بگڑ جاتے اور ان کی پرستش کرتے اور انکو سجدہ کرتے تھے ۔وہ نہ تو اپنے کاموں سے اور نہ اپنی خود سری کی روش سے باز آئے ۔
20سو خداوند کا غضب اسرائیل پر بھڑکا اور اس نے کہا چونکہ ان لوگوں نے مےرے اس عہد کا جسکا حکم میں نے ان کے باپ دادا کو دیا تھا توڑ ڈالا اور میری بات نہیں سنی ۔
21اسلئے میں بھی اب ان قوموں میں سے جنکو یشوع چھوڑ کر مرا ہے کسی کو بھی ان کے آگے سے دفع نہیں کرونگا ۔
22تا کہ میں اسرائیل کو انہیں کے ذرےعہ سے آزماﺅں کہ وہ خداوند کی راہ پر چلنے کے لئے اپنے باپ دادا کی طرح قائم رہینگے یا نہیں ۔
23سو خداوند نے ان قوموں کو رہنے دیا اور ان کو جلد نہ نکال دیا اور یشوع کے ہاتھ میں بھی ان کو حوالہ نہ کیا ۔