Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1پھر خداوند نے موسی سے کہا کہ۔
2بنی اسرائیل سے کہہ کہ جب کوئی شخص اپنی منت پوری کرنے لگے تو منت کے آدمی تیرے قیمت ٹھہرانے کے موافق خداوند کے ہونگے۔
3سو بیس برس کی عمر سے لیکر ساٹھ برس کی عمر تک کے مرد کے لئے تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت مقدس کی مثقال کے حساب سے چاندی کی پچاس مثقال ہوں۔
4اور اگر وہ عورت ہو تو تیری ٹھہرائی قیمت تیس مثقال ہوں۔
5اور اگر پانچ برس سے لیکر بیس مثقال کی عمر ہو تو تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت مرد کے لئے بیس مثقال اور عورت کے لئے دس مثقال ہوں۔
6پر اگر عمر ایک مہینے سے لیکر پانچ برس تک کی ہو تو لڑکے کے لئے چاندی کی پانچ مثقال اور لڑکی کے لئے چاندی کی تین مثقال ٹھہرائی جائیں۔
7اور اگر ساٹھ برس سے لیکر اوپر اوپر کی عمر ہو تو مرد کے لئے پندرہ مثقال اور عورت کے لئے دس مثقال مقرر ہوں۔
8پر اگر کوئی تیرے اندازہ کی نسبت کم مقدار رکھتا ہو تو وہ کاہن کے سامنے حاضر کیا جائے اور کاہن اسکی قیمت ٹھہرائے یعنی جس شخص نے منت مانی ہے اسکی جیسی حیثت ہو ویسی ہی قیمت کاہن اسکے لئے ٹھہرائے۔
9اور اگر وہ منت کسی ایسے جانور کی ہے جسکی قربانی لوگ خداوند کے حضور چڑھایا کرتے ہیں تو جو جانور کوئی خداوند کی نذر کرے وہ پاک ٹھہریگا۔
10وہ اسے پھر کسی طرح نہ بدلے۔نہ تو اچھے کے عوض برادے اور نہ برے کے عوض اچھا دے اور اگر کسی حال میں ایک جانور کے بدلے دوسرا جانور دے تو وہ اور اسکا بدل دونوں پاک ٹھہرینگے۔
11اور اگر وہ کوئی ناپاک جانور ہو جسکی قربانی خداوند کت حضور نہیں گذرانتے تو وہ اسے کاہن کے سامنے کھڑا کرے۔
12اور کخواہ وہ اچھا ہو یا برا کاہن اسکی قیمت ٹھہرئے۔اور اے کاہن !جو کچھ تو اسکا دام ٹھہرائیگا وہی رہیگا۔
13اور اگر وہ چاہے کہ اسکا فدیہ دیکر اسے چھڑائے تو جو قیمت تو نے ٹھہرائی ہے اس میںاسکا پانچواں حصہ وہ اور ملا کر دے۔
14اور اگر کوئی اپنے گھر مقدس قرار دے تاکہ وہ خداوند کے لئے پاک ہو تو خواہ وہ اچھا ہو یا برا کاہن اسکی قیمت ٹھہرائے اور جو کچھ وہ ٹھہرائے وہی اسکی قیمت رہیگی۔
15اور جس نے اس گھر کو مقدس قرار دیا ہے اگر وہ چاہے کہ گھر کا فدیہ دیکر اسے چھڑائے تو تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت میں اسکا پانچواں حصہ اور ملا کر تب وہ گھر اسی کا رہیگا۔
16اور اگر کوئی شخص اپنے موروثی کھیت کا کوئی حصہ خداوند کے لئے مقدس قرار دے تو تو قیمت کا اندازہ کرتے وقت یہدیکھنا کہ اس میں کتنا بیج بویا جائیگا۔
17اگر کوئی سال یوبلی سے اپنا کھیت مقدس قرار دے تو اسکی قیمت جو تو ٹھہرائے وہی رہیگی۔
18پر اگر وہ سال یوبلی کے بعد اپنے کھیت کو مودس قرار دے تو جتنے برس دوسرے سال یوبلی کے باقی ہوں ان ہی کے مطابق کاہن اسکے لئے روپے کا حساب کرے اور جتنا حساب میں آئے اتنا تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت سے کم کیا جائے۔
19اور اگر وہ جس نے اس کھیت کو مقدس قرار دیا ہے یہ چاہے کہ اسکا فدیہ دیکر اسے چھڑائے تو وہ تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت کا پانچواں حصہ اسکے ساتھ اور ملا کر دے تو وہ کھیت اسی کا رہیگا۔
20اور اگر وہ اس کھیت کا فدیہ دیکر اسے نہ چھڑائے یا کسی دوسرے شخص کے ہاتھ اسے بیچ دے تو پھر وہ کھیت کبھی نہ چھڑایا جائے۔
21بلکہ وہ کھیت جب سال یوبلی میں چھوٹے تو وقف کئے ہوئے کھیت کی طرح و�� خداوند کے لئے مقدس ہوگا اور کاہن کی ملکیت ٹھہریگا۔
22اور اگر کوئی شخص کسی خریدے ہوئے کھیت کو جو اسکا موروثی نہیں خداوند کے لئے مقدس قرار دے۔
23تو کاہن جتنے برس دوسرے سال یوبلی کے باقی ہوں۔ انکے مطابق تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت کا حساب اسکے لئے کرے اور وہ اسی دن تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت کو خداوند کے لئے مقدس جانکر دے دے۔
24اور سال یوبلی میں وہ کھیت اسی کو واپس ہو جائے جس سے وہ خریدا گیا تھا اور جسکی وہ ملکیت ہے۔
25اور تیرے سارے قیممت کے اندازے مقدس کی مثقال کے حساب سے ہوں اور ایک مثقال بیس جیراہ کا ہو۔
26پر فقط چوپایوں کے پہلوٹھوں کو جو پہلوٹھے ہونے کی وجہ سے خداوند کے ٹھہرچکے ہیں کوئی شخص مقدس قرار نہ دے خوار وہ بیل ہو یا بھیڑ بکری۔وہ خداوند ہی کا ہے۔
27پر اگر وہ کسی ناپاک جانور کا پہلوٹھا ہو تو وہ شخص تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت کا پانچواں حسہ قیمت میں اور ملا کر اسکا فدیہ دے اور اسے چھڑائے اور اگر اسکا فدیہ نہ دیا جائے تو وہ تیری ٹھہرائی ہوئی قیمت پر بیچا جائے۔
28تو بھی کوئی مخصوص کی ہوئی چیز جسے کوئی شخص اپنے سارے مال میں سے خداوند کے لئے مخصوص کرے خواہ وہ اسکا آدمی یا جانور یا موروثی زمین ہو بیچی نہ جائے اور نہ اسکا فدیہ دیا جائے،ہر ایک مخصوص کی ہوئی چیز خداوند کے لئے نہایت پاک ہے۔
29اگر آدمیوں میں سے کوئی مخصوص کیا جائے تو اسکا فدیہ نہ دیا جائے۔وہ ضرور جان سے مارا جائے۔
30اور زمین کی پیداوار کی ساری دہ یکی خواہ وہ زمین کے بیج کی یا درخت کے پھل کی ہو خداوند کی ہے اور خداوند کے لئے پاک ہے۔
31اور اگر کوئی اپنی دہ یکی میں سے کچھ چھڑانا چاہے تو وہ اسکا پانچواں حصہ اس میں اور ملاکر اسے چھڑائے۔
32اور گائے بیل اور بھیڑ بکری یا جو جانور چرواہے کی لاٹھی کے نیچے سے گذرتا ہو انکی دہیکی یعنی دس پیچھے ایک ایک جانور خداوند کے لئے پاک ٹھہرے۔
33کوئی اسکی دیکھ بھال نہ کرے کہ وہ اچھا ہے یا برا ہے اور نہ اسے بدلے اور اگر کہیں کوئی اسے بدلے تو وہ اصل اور بدل دونوں کے دونوں مقدس ٹھہریں اور اسکا فدیہ بھی نہ دیا جائے۔
34جو احکام خداوند نے کوہ سینا پر بنی اسرائیل کے لئے موسی کو دئے وہ یہی ہیں