Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
38 verses
1اور جرم کی قربانی کے بارے میں شرع یہ ہے۔ وہ نہایت مقدس ہے۔
2جس جگہ سوختنی قربانی کے جانور کو مذبح کرتے ہیںوہیں وہ جرم کی قربانی کے جانور کو بھی ذبح کریں اور وہ اس کے خون کو مذبح کے گرداگرد چھڑکے۔
3اور وہ اس کی سب چربی کو چڑھائے یعنی اس کی سوئی دم کو اور اس چربی کو جس سے انتڑیاں ڈھکی رہتی ہیں۔
4اور دونوں گردے اور انکے اوپر کی چربی جو کمرکے پاس رہتی ہے اور جگر پر کی جھلی گردوں سمیت۔ان سب کو وہ الگ کرے۔
5اور کاہن انکو مذبح پر خداوند کے حضور آتشین قربانی کے طور پر جلائے۔ یہ جرم کی قربانی ہے۔
6اور کاہنوں میں سے ہر مرد اسے کھائے اور کسی پاک پاک جگہ میں اسے کھائیں۔وہ نہایت پاک ہے۔
7جرم کی قربانی دیسی ہی ہے جیسی خطا کی قربانی ہے اور انکے لئے ایک ہی شرع ہے اور انہیں وہی کاہن لے جو ان سے کفارہ دیتا ہے۔
8اور جو کاہن کسی شخص کی طرف سے سوختنی قربانی گذرانتا ہےوہی کاہن اس سوختنی قربانی کی کھال کو جو اس نے گذرانی اپنے واسطے لےلے۔
9اور ہر ایک نذر کی قربانی جو تنور میں پکائی جائے اور وہ بھی جو کڑاہی میں تیار کی جائے اور توے کی پکی ہوئی بھی اسی کاہن کی جو اسے گذرانے۔
10اور ہر ایک نذر کی قربانی خواہ اس میں تیل ملا ہوا ہو یا وہ خشک ہو برابر ہارون کے سب بیٹوں کے لئے ہو۔
11اور سلامتی کے ذبیحہ کے بارے میں جسے کوئی خداوند کے حضور چڑھائے شرع یہ ہے۔
12کہ وہ اگر شکرانہ کے طور پر اسے چڑھائے تو وہ شکرانہ کے ذبیحہ کے ساتھ تیل ملے ہوئے بے خیمری کلچے اور تیل چپڑی ہوئی بے خیمری چپاتیاں اور تیل ملے ہوئے میدہ کے تر کلچے بھی گذرانے۔
13اور سلامتی کے ذبیحہ کی قربانی کے ساتھ جو شکرانہ کے لئے ہو گی وہ خیمری روٹی کے گردے اپنے چڑھاوے پر گذرانے۔
14اور ہر چڑھاوے میں سے وہ ایک کو لیکر اسے خداوند کے روبرو ہلانے کی قربانی کے طور پر چڑھائے اور یہ اس کاہن کا ہو جو سلامتی کے ذبیحہ کا خون چھڑکتا ہے۔
15اور سلامتی کے ذبیحوں کی اس قربانی کا گوشت جو اسکی طرف سے شکرانہ کے طور پر ہوگی قربانی چڑھانے کے دن ہی کھالیا جائے۔ وہ اس میں سے کچھ صبح تک باقی نہ چھوڑے۔
16پر اگر اسکے چڑھاوے کی قربانی منت کا یا رضا کا ہدیہ ہو تو وہ اس دن کھائی جائے جس دن وہ اپنی قربانی گذرانے اور جو کچھ اس میں ے بچ رہے وہ دوسرے دن کھایا جائے۔
17پر جو کچھ اس قربانی کے گوشت میں سے تیسرے دن تک رہ جائے وہ آگ میں جلادیا جائے۔
18اور اسکے سلامتی کے ذبیحوں کی قربانی کے گوشت میں سے اگر کچھ تیسرے دن کھایا جائے تو وہ منظور نہ ہو گا اور نہ اسکا ثواب قربانی دینے والے کی طرف منسوب ہوگا بلکہ یہ مکروہ بات ہوگی اور جو اس میں سے کھائے اسکا گناہ اسی کے سرلیگا۔
19اور جو گوشت کسی ناپاک چیز سے چھو جائے کھایا نہ جائے۔ وہ آگ میں جلایا جائے اور ذبیحہ کے گوشت کو پاک ہے وہ تو کھائے۔
20لیکن جو شخص نجاست کی حالت میں خداوند کی سلامتی کے ذبیحہ کا گوشت کھائے وہ اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔
21اور جو کوئی کسی ناپاک چیز کو چھوئے خواہ وہ انسان کی نجاست ہو یا ناپاک جانور ہو یا کوئی نجس مکروہ شے ہو اور پھر خداوند کے سلامتی کے ذبیحہ کے گوشت میں سے کھائے وہ بھی اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔
22اور خداوند نے موسی سے کہ��۔
23بنی اسرائیل سے کہہ کہ تم لوگ نہ تو تیل کی نہ بھیڑ کی اور نہ بکری کی کچھ چربی کھانا۔
24جو جانور خود بخود مرگیا ہو اور جسکو درندوں نے پھاڑا ہو انکی چربی اور اور کام میں لاؤ تو لاؤ پر اسے تم کسی حال میں نہ کھانا۔
25کیونکہ جو کوئی ایسے چوپائے کی چربی کھائے جسے لوگ آتشین قربانی کے طور پر خداوند کے حضور چڑھاتے ہیں وہ کھانے والا آدمی اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔
26اور تم اپنی سکونت گاہوں میں کہیں بھی کسی طرح کا خون خواہ پرندے کا ہویا چوپائے کا ہرگز نہ کھانا۔
27جو کوئی کسی طرح کا خون کھائے وی شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔
28اور خداوند نے موسی سے کہا۔
29بنی اسرائیل سے کہہ کہ جو کوئی اپنا سلامتی کا ذبیحہ خداوند کے حضور گذرانے وہ خود ہی اپنے سلامتی کے ذبیحہ کی قربانی میں سے اپنا چڑھاوا خداوند کےحضور لائے۔
30وہ اپنے ہی ہاتھوں میں خدوند کی آتشین قربانی کو لائے یعنی چربی کو سینہ سمیت لائے کہ سینہ ملانے کی قربانی کے طور پر ہلایا جائے۔
31اور کاہن چربی کو مذبح پر جلائے پر سینہ پورون اور اسکے بیٹوں کوہو۔
32اور تم سلامتی کے ذبیحوں کی دہنی ران اٹھانے کی قربانی کے طور پر کاہن کو دینا۔
33ہارون کے بیٹوں میں سے جو سلامتی کے ذبیحوں کا خون اور چربی گذرانے وہی وہ دہنی ران اپنا حصہ لے۔
34کیونکہ بنی اسرائیل کے سلامتی کے ذبیحوں میں سے ہلانے کی قربانی کا سینہ اور اٹھانے کی قربانی کی ران کو لیکر میں نے ہارون کاہن اور اسکے بیٹوں کو دیا ہے کہ یہ ہمیشہ بنی اسرائیل کی طرف سے انکا حق ہو۔
35یہ خداوند کی آتشین قربانیوں میں سے ہارون کے ممسوح ہونے کا اور اسکے بیٹوں کے ممسوح ہونے کا حصہ ہے جو اس دن مقرر ہوی جب وہ خداوند کے حضور کاہن کی خدمت کو انجام دینے کے لئے حاضر کئے گئے۔
36یعنی جس دن خداوند نے انہیں مسح کیا اس دن اس نے یہ حکم دیا کہ بنی اسرائیل کی طرف سے انہیں یہ ملا کرے۔ سو انکی نسل در نسل یہ انکا حق رہیگا۔
37سوختنی قربانیاور نذر کی قربانی اور خطا کی قربانی اور جرم کی قربانی اور تخصیص اور سلامتی کے ذبیحہ کے بارے میں شرع یہ ہے۔
38جسکا حکم خداوند نے موسی کو اس دن کوسینا پر دیا جس دن اس نے بنی اسرائیل کو فرمایا کہ سینا کے بیابان میں خداوند کے حضور اپنی قربانی گذرانیں۔