Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
52 verses
1اُن دِنوں میں اَیسا ہُؤا کہ قَیصراَوگوُستُس کی طرف سے یہ حُکم جاری ہُؤا کہ ساری دُنیا کے لوگوں کے نام لِکھے جائیں۔
2یہ پہلی اِسم نوِیسی سُوریہ کے حاکِم کورِنیُس کے عہد میں ہُوئی۔
3اور سب لوگ نام لِکھوانے کے لِئے اپنے اپنے شہر کو گئے۔
4پَس یُوسُف بھی گلِیل کے شہر ناصرۃ سے داؤد کے شہر بیت لحم کو گیا جو یہُودیہ میں ہے۔ اِس لِئے کہ وہ داؤد کے گھرانے اور اَولاد سے تھا۔
5تاکہ اپنی منگیتر مریم کے ساتھ جو حامِلہ تھی نام لِکھوائے۔
6جب وہ وہاں تھے تو اَیسا ہُؤا کہ اُس کے وضعِ حمل کو وقت آ پہُنچا۔
7اور اُس کا پہلوٹا بَیٹا پَیدا ہُؤا اور اُس نے اُس کو کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھّا کِیُونکہ اُن کے واسطے سرای میں جگہ نہ تھی۔
8اُسی علاقہ میں چرواہے تھے جو رات کو مَیدان میں رہ کر اپنے گلّہ کی نِگہابانی کر رہے تھے۔
9اور خُداوند کا فرِشتہ اُن کے پاس آکھڑ ہُؤا اور خُداوند کا جلال اُن کے چَوگِرد چمکا اور وہ نِہایت ڈر گئے۔
10مگر فرِشتہ نے اُن سے کہا ڈرو مَت کِیُونکہ دیکھو مَیں تُمہیں بڑی خُوشی کی بشارت دیتا ہُوں جو ساری اُمّت کے واسطے ہوگی۔
11کہ آج داؤد کے شہر میں تُمہارے لِئے ایک مُنّجی پَیدا ہُؤا ہے یعنی مسِیح خُداوند۔
12اور اِس کا تُمہارے لِئے یہ نِشان ہے کہ تُم ایک بچّے کو کپڑے میں لِپٹا اور چرنی میں پڑا ہُؤا پاؤ گے۔
13اور یکایک اُس فرِشتہ کے ساتھ آسمانی لشکر کی ایک گروہ خُدا کی حمد کرتی اور یہ کہتی ظاہِر ہُوئی کہ۔
14عالمِ بالا پر خُدا کی تمجِید ہو اور زمِین پر اُن آدمِیوں میں جِن سے وہ راضی ہے صُلح۔
15جب فرِشتے اُن کے پاس سے آسمان پر چلے گئے تو اَیسا ہُؤا کہ چرواہوں نے آپس میں کہا کہ آؤ بیت لحم کو چلیں اور یہ بات جو ہُوئی ہے اور جِس کی خُداوند نے ہم کو خَبر دی ہے دیکھیں۔
16پَس اُنہوں نے جلدی سے جا کر مریم اور یُوسُف کو دیکھا اور اُس بچّے کو چرنی میں پڑا پایا۔
17اور اُنہِیں دیکھ کر وہ بات جو اُس لڑکے کے حق میں اُن س کہی گئی تھی مشہُور کی۔
18اور سب سُننے والوں نے اِن باتوں پر جو چرواہوں نے اُن سے کہِیں تعّجُب کِیا۔
19مگر مریم اِن باتوں کو اپنے دِل میں رکھ کر غور کرتی رہی۔
20اور چرواہے جَیسا اُن سے کہا گیا تھا وَیسا ہی سب کُچھ سُن کر اور دیکھ کر خُدا کی تمجِید اور حمد کرتے ہُوئے لَوٹ گئے۔
21جب آٹھ دِن پُورے ہُوئے اور اُس کے ختنہ کا وقت آیا تو اُس کا نام یِسُوع رکھّا گیا جو فرِشتہ نے اُس کے رَحم میں پڑنے سے پہلے رکھّا تھا۔
22پھِر جب مُوسٰے کی شَرِیعَت کے مُوافِق اُن کے پاک ہونے کے دِن پُورے ہوگئے تو وہ اُس کو یروشلِیم میں لائے تاکہ خُداوند کے آگے حاضِر کریں۔
23(جَیسا کہ خُداوند کی شَرِیعَت میں لِکھا ہے کہ ہر ایک پہلوٹا خُداوند کے لِئے مُقدّس ٹھہریگا)۔
24اور خُداوند کی شَرِیعَت کے اِس قَول کے مُوافِق قُربانی کریں کہ قُمریوں کا ایک جوڑا یا کبُوتر کے دو بچّے لاؤ۔
25اور دیکھو یروشلِیم میں شمعُون نام ایک آدمِی تھا اور وہ آدمِی راستباز اور خُدا ترس اور اِسرائیل کی تسلّی کا مُنتّظِر تھا اور رُوحُ القُدس اُس پر تھا۔
26اور اُس کو رُوحُ القُدس سے آگاہی ہُوئی تھی کہ جب تک تُو خُداوند کے مسِیح کو دیکھ نہ لے مَوت کو نہ دیکھیگا۔
27وہ رُوح کی ہِدایت سے ہَیکل میں آیا اور جِس وقت ماں باپ اُس لڑکے یِسُوع کو اَندر لائے تاکہ اُس کے لِئے شَرِیعَت کے دستُور پر عمل کریں۔
28تو اُس نے اُسے اپنی گود میں لِیا اور خُدا کی حمد کر کے کہا کہ۔
29اَے مالِک اَب تُو اپنے خادِم کو اپنے قَول کے مُوافِق سَلامتی سے رُخصت کرتا ہے۔
30کِیُونکہ میری آنکھوں نے تیری نِجات دیکھ لی ہے۔
31جو تُو نے سب اُمتّوں کے رُوبرُو تیّار کی ہے۔
32تاکہ غَیر قَوموں کو روشنی دینے والا نُور اور تیری اُمّت اِسرائیل کا جلال بنے۔
33اور اُس کا باپ اور اُس کی ماں اِن باتوں پر جو اُس کے حق میں کہی جاتی تھِیں تعّجُب کرتے تھے۔
34اور شمعُون نے اُن کے لِئے دُعایِ خَیر کی اور اُس کی ماں مریم سے کہا دیکھ یہ اِسرائیل میں بہُتوں کے گِرنے اور اُٹھنے کے لِئے اور اَیسا نِشان ہونے کے لِئے مُقرّر ہُؤا ہے جِس کی مُخالفت کی جائے گی۔
35بلکہ خُود تیری جان بھی تلوار سے چھِد جائے گی تاکہ بہُت لوگوں کے دِلوں کے خیال کھُل جائیں۔
36اور آشر کے قبِیلہ میں سے حنّاہ نام فنوایل کی بیٹی ایک نبِیّہ تھی۔ وہ بہُت عُمر رسِیدہ تھی اور اُس نے اپنے کنوارپن کے بعد سات برس ایک شَوہر کے ساتھ گُذارے تھے۔
37وہ چَوراسی برس سے بیوہ تھی اور ہَیکل سے جُدا نہ ہوتی تھی بلکہ رات دِن روزوں اور دُعاؤں کے ساتھ عِبادت کِیا کرتی تھی۔
38اور وہ اُسی گھڑی وہاں آ کر خُدا کا شُکر کرنے لگی اور اُن سب سے جو یروشلِیم کے چھُٹکارے کے مُنتظِر تھے اُس کی بابت باتیں کرنے لگی۔
39اور جب وہ خُداوند کی شَرِیعَت کے مُطابِق سب کُچھ کر چُکے تو گلِیل میں اپنے شہر ناصرۃ کو پھِر گئے۔
40اور وہ لڑکا بڑھتا اور قُوّت پاتا گیا اور حِکمت سے معمُور ہوتا گیا اور خُدا کا فضل اُس پر تھا۔
41اُس کے ماں باپ ہر برس عِیدِ فسح پر یروشلِیم کو جایا کرتے تھے۔
42اور جب وہ بارہ برس کو ہُؤا تو وہ عِید کے دستُور کے مُوافِق یروشلِیم کو گئے۔
43جب وہ اُن دِنوں کو پُورا کر کے لَوٹے تو وہ لڑکا یِسُوع یروشلِیم میں رہ گیا اور اُس کے ماں باپ کو خَبر نہ ہُوئی۔
44مگر یہ سَمَجھ کر کہ وہ قافِلہ میں ہے ایک منزل نِکل گئے اور اُسے اپنے رِشتہ داروں اور جان پہچانوں میں ڈھُونڈنے لگے۔
45جب نہ مِلا تو اُسے ڈھُونڈتے ہُوئے یروشلِیم تک واپَس گئے۔
46اور تِین روز کے بعد اَیسا ہُؤا کہ اُنہوں نے اُسے ہَیکل میں اُستادوں کے بِیچ میں بَیٹھے اُن کی سُنتے اور اُن سے سوال کرتے ہُوئے پایا۔
47اور جِتنے اُس کی سُن رہے تھے اُس کی سَمَجھ اور اُس کے جوابوں سے دَنگ تھے۔
48وہ اُسے دیکھ کر حَیران ہُوئے اور اُس کی ماں نے اُس سے کہا! تُو نے کِیُوں ہم سے اَیسا کِیا؟ دیکھ تیرا باپ اور میں کُڑھتے ہُوئے تُجھے ڈھُونڈتے تھے۔
49اُس نے اُن سے کہا تُم مُجھے کِیُوں ڈھُونڈتے تھے؟ کیا تُم کو معلُوم نہ تھا کہ مُجھے اپنے باپ کے ہاں ہونا ضرُور ہے؟
50مگر جو بات اُس نے اُن سے کہی اُسے وہ نہ سَمَجھے۔
51اور وہ اُن کے ساتھ روانہ ہوکر ناصرۃ میں آیا اور اُن کے تابِع رہا اور اُس کی ماں نے یہ سب باتیں اپنے دِل میں رکھِّیں۔
52اور یِسُوع حِکمت اور قدوقامت میں اور خُدا کی اور اِنسان کی مقبُولیّت میں ترقّی کرتا گیا۔