Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
44 verses
1پھِر یِسُوع رُوحُ القُدس سے بھرا ہُؤا یَردَن سے لَوٹا اور چالِیس دِن تک رُوح کی ہِدایت سے بِیابان میں پھِرتا رہا۔
2اور اِبلِیس اُسے آزماتا رہا۔ اُن دِنوں میں اُس نے کُچھ نہ کھایا اور جب وہ دِن پُورے ہوگئے تو اُسے بھُوک لگی۔
3اور اِبلِیس نے اُس سے کہا کہ اگر تُو خُدا کا بَیٹا ہے تو اِس پتھّر سے کہہ کہ روٹی بن جائے۔
4یِسُوع نے اُس کو جواب دِیا لِکھا ہے کہ آدمِی صِرف روٹی ہی سے جِیتا نہ رہے گا۔
5اور اِبلِیس نے اُسے اُونچے پر لے جا کر دُنیا کی سب سلطنتیں پل بھر میں دِکھائیں۔
6اور اُس سے کہا کہ یہ سارا اِختیّار اور اُن کی شان و شوکت مَیں تُجھے دے دُوں گا کِیُونکہ یہ میرے سُپرد ہے اور جِس کو چاہتا ہُوں دیتا ہُوں۔
7پَس اگر تُو میرے آگے سِجدہ کرے تو یہ سب تیرا ہوگا۔
8یِسُوع نے جواب میں اُس سے کہا لِکھا ہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کو سِجدہ کر اور صِرف اُسی کی عِبادت کر۔
9اور وہ اُسے یروشلِیم میں لے گیا اور ہَیکل کے کنگُرے پر کھڑا کر کے اُس سے کہا کہ اگر تُو خُدا کا بَیٹا ہے تو اپنی تِئیں یہاں سے نِیچے گِرا دے۔
10کِیُونکہ لِکھا ہے کہ وہ تیری بابت اپنے فرِشتوں کو حُکم دے گا کہ تیری حِفاظت کریں۔
11اور یہ بھی کہ وہ تُجھے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے۔ مبادا تیرے پاؤں کو پتھّر سے ٹھیس لگے۔
12یِسُوع نے جواب میں اُس سے کہا فرمایا گیا ہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کی آزمایش نہ کر۔
13جب اِبلِیس تمام آزمایشیں کرچُکا تو کُچھ عرصہ کے لِئے اُس سے جُدا ہُؤا۔
14پھِر یِسُوع رُوح کی قُوّت سے بھرا ہُؤا گلِیل کو لَوٹا اور سارے گِردنواح میں اُس کی شہُرت پھَیل گئی۔
15اور وہ اُن کے عِبادت خانوں میں تعلِیم دیتا رہا اور سب اُس کی بڑائی کرتے رہے۔
16اور وہ ناصرۃ میں آیا جہاں اُس نے پرورِش پائی تھی اور اپنے دستُور کے مُوافِق سَبت کے دِن عِبادت خانہ میں گیا اور پڑھنے کو کھڑا ہُؤا۔
17اور یسعیاہ نبی کی کِتاب اُس کو دی گئی اور کِتاب کھول کر اُس نے وہ مقام نِکالا جہاں یہ لِکھا تھا کہ۔
18خُداوند کا رُوح مُجھ پر ہے۔ اِس لِئے کہ اُس نے مُجھے غرِیبوں کو خُوشخَبری دینے کے لِئے مسح کِیا۔ اُس نے مُجھے بھیجا ہے کہ قَیدیوں کو رہائی اور اندھوں کو بِینائی پانے کی خَبر سُناؤں۔ کُچلے ہُوؤں کو آزاد کرؤں۔
19اور خُداوند کے سالِ مقبُول کی منادی کرؤں۔
20پھِر وہ کِتاب بند کر کے اور خادِم کو واپَس دے کر بَیٹھ گیا اور جِتنے عِبادت خانہ میں تھے سب کی آنکھیں اُس پر لگی تھِیں۔
21وہ اُن سے کہنے لگا کہ آج یہ نوِشتہ تُمہارے سامنے پُورا ہُؤا۔
22اور سب نے اُس پر گواہی دی اور اُن پُرفضل باتوں پر جو اُس کے مُنہ سے نِکلتی تھِیں تعّجُب کر کے کہنے لگے کیا یہ یُوسُف کا بَیٹا نہِیں؟
23اُس نے اُن سے کہا تُم البتہّ یہ مثل مُجھ پر کہو گے کہ اَے حکِیم اپنے آپ کو تو اچھّا کر۔ جو کُچھ ہم نے سُنا ہے کہ کفرنحُوم میں کِیا گیا یہاں اپنے وطن میں بھی کر۔
24اور اُس نے کہا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ کوئی نبی اپنے وطن میں مقبُول نہِیں ہوتا۔
25اور مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ ایلِیّاہ کے دِنوں میں جب ساڑھے تِین برس آسمان بند رہا یہاں تک کہ سارے مُلک میں سخت کال پڑا بہُت سے بیو��ئیں اِسرائیل میں تھِیں۔
26لیکِن ایلِیّاہ اُن میں سے کِسی کے پاس نہ بھیجا گیا مگر مُلکِ صیدا کے شہر صارپت میں ایک بیوہ کے پاس۔
27اور الیشع نبی کے وقت میں اِسرائیل کے درمِیان بہُت سے کوڑھی تھے لیکِن اُن میں سے کوئی پاک صاف نہ کِیا گیا مگر نعمان سَوریانی۔
28جِتنے عِبادت خانہ میں تھے اِن باتوں کو سُنتے ہی قہر سے بھر گئے۔
29اور اُٹھ کر اُس کو شہر سے باہِر نِکالا اور اُس پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے جِس پر اُن کا شہر آباد تھا تاکہ اُسے سر کے بل گِرا دیں۔
30مگر وہ اُن کے بِیچ میں نِکل کر چلا گیا۔
31پھِر وہ گلِیل کے شہر کفرنحُوم کو گیا اور سَبت کے دِن اُنہِیں تعلِیم دے رہا تھا۔
32اور لوگ اُس کی تعلِیم سے حَیران تھے کِیُونکہ اُس کا کلام اِختیّار کے ساتھ تھا۔
33اور عِبادت خانہ میں ایک آدمِی تھا جِس میں ناپاک دِیو کی رُوح تھی وہ بڑی آواز سے چِلّا اُٹھا کہ۔
34اَے یِسُوع ناصری ہمَیں تُجھ سے کیا کام؟ کیا تُو ہمیں ہلاک کرنے آیا ہے؟ مَیں تُجھے جانتا ہُوں کہ تُو کَون ہے۔ خُدا کا قُدُّوس ہے۔
35یِسُوع نے اُسے جھِڑک کرکہا چُپ رہ اور اُس میں سے نِکل جا۔ اِس پر بَدرُوح اُسے بِیچ میں پٹک کر بغَیر ضرر پہُنچائے اُس میں سے نِکل گئی۔
36اور سب حَیران ہوکر آپس میں کہنے لگے کہ یہ کَیسا کلام ہے؟ کِیُونکہ وہ اِختیّار اور قُدرت سے ناپاک رُوحوں کو حُکم دیتا ہے اور وہ نِکل جاتی ہیں۔
37اور گِرد نواح میں ہر جگہ اُس کی دھُوم مچ گئی۔
38پھِر وہ عِبادت خانہ سے اُٹھ کر شمعُون کے گھر میں داخِل ہُؤا اور شمعُون کی ساس کو بڑی تَپ چڑھی ہُوئی تھی اور اُنہوں نے اُس کے لِئے اُس سے عرض کی۔
39وہ کھڑا ہوکر اُس کی طرف جھُکا اور تَپ کو جھِڑکا تو اُتر گئی اور وہ اُسی دم اُٹھ کر اُن کی خِدمت کرنے لگی۔
40اور سُورج کے ڈُوبتے وقت وہ سب لوگ جِن کے ہاں طرح طرح کی بِیمارِیوں کے مرِیض تھے اُنہِیں اُس کے پاس لائے اور اُس نے اُن میں سے ہر ایک پر ہاتھ رکھ کر اُنہِیں اچھّا کِیا۔
41اور بَدرُوحیں بھی چِلّا کر اور یہ کہہ کر کہ تُو خُدا کا بَیٹا ہے بہُتوں میں سے نِکل گِئیں اور وہ اُنہِیں جھِڑکتا اور بولنے نہ دیتا تھا کِیُونکہ وہ جانتی تھِیں کہ یہ مسِیح ہے۔
42جب دِن ہُؤا تو وہ نِکل کر ایک وِیران جگہ میں گیا اور بھِیڑ کی بھِیڑ اُس کو ڈھُونڈتی ہُوئی اُس کے پاس آئی اور اُس کو روکنے لگی کہ ہمارے پاس سے نہ جا۔
43اُس نے اُن سے کہا کہ مُجھے اَور شہروں میں بھی خُدا کی بادشاہی کی خُوشخَبری سُنانا ضرُور ہے کِیُونکہ مَیں اِسی لِئے بھیجا گیا ہُوں۔
44اور وہ گلِیل کے عِبادت خانوں میں منادی کرتا رہا۔