Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
46 verses
1اُس وقت آسمان کی بادشاہی اُن دس کُنوارِیوں کی مانِند ہوگی جو اپنی مشعلیں لے کر دُلہا کے اِستقبال کو نِکلیں۔
2اُن میں پانچ بیوُقُوف اور بانچ عقلمند تھِیں۔
3جو بیوُقُوف تھِیں اُنہوں نے اپنی مشعلیں تو لے لِیں مگر تیل اپنے ساتھ نہ لِیا۔
4مگر عقلمندوں نے اپنی مشعلوں کے ساتھ اپنی کُپِّیوں میں تیل بھی لے لِیا۔
5اور جب دُلہا نے دیر لگائی تو سب اُنگھنے لگِیں اور سو گئِیں۔
6آدھی رات کو دھُوم مچی کہ دیکھو دُلہا آگیا! اُس کے اِستقبال کو نِکلو۔
7اُس وقت وہ سب کُنوارِیاں اُٹھ کر اپنی اپنی مشعل دُرُست کرنے لگِیں۔
8اور بیوُقُوفوں نے عقلمندوں سے کہا کہ اپنے تیل میں سے کُچھ ہم کو بھی دے دو کِیُونکہ ہماری مشعلیں بھُجی جاتی ہیں۔
9عقلمندوں نے جواب دِیا کہ شاید ہمارے تُمہارے دونوں کے لِئے کافی نہ ہو۔ بہُتر یہ ہے کہ بیچنے والوں کے پاس جا کر اپنے واسطے مول لے لو۔
10جب وہ مول لینے جارہیں تھِیں تو دُلہا آ پہُنچا۔ اور جو تیّارتھِیں وہ اُس کے ساتھ شادِی کے جشن میں اَندر چلی گئِیں اور دروازہ بند ہوگیا۔
11پھِر وہ باقی کُنوارِیاں بھی آئِیں اور کہنے لگِیں اَے خُداوند! اَے خُداوند! ہمارے لِئے دروازہ کھول دے۔
12اُس نے جواب میں کہا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ مَیں تُم کو نہِیں جانتا۔
13پَس جاگتے رہو کِیُونکہ تُم نہ اُس دِن کو جانتے ہو نہ اُس گھڑی کو۔
14کِیُونکہ یہ اُس آدمِی کا سا حال ہے جِس نے پردیس جاتے وقت اپنے گھر کے نَوکروں کو بُلا کر اپنا مال اُن کے سُپُرد کِیا۔
15اور ایک کو پانچ توڑے دِئے۔ دُوسرے کو دو اور تِیسرے کو ایک یعنی ہر ایک کو اُس کی لِیاقت کے مُطابِق دِیا اور پردیس چلا گیا۔
16جِس کو پانچ توڑے مِلے تھے اُس نے فوراً جا کر اُن سے لین دین کِیا اور پانچ توڑے اور پَیدا کر لِئے۔
17اِسی طرح جِسے دو مِلے تھے اُس نے بھی دو اور کمائے۔
18مگر جِس کو ایک مِلا تھا اُس نے جا کر زمِین کھودی اور اپنے مالِک کا رُوپِیہ چھِپا دِیا۔
19بڑی مُدّت کے بعد اُن نَوکروں کا مالِک آیا اور اُن سے حِساب لینے لگا۔
20جِس کو پانچ توڑے مِلے تھے وہ پانچ توڑے اور لے کر آیا اور کہا اَے خُداوند! تُو نے پانچ توڑے مُجھے سُپُرد کِئے تھے۔ دیکھ میں نے پانچ توڑے اور کمائے۔
21اُس کے مالِک نے اُس سے کہا اَے اچھّے اور دِیانتدار نَوکر شاباش! تُو تھوڑے میں دِیانتدار رہا۔ میں تُجھے بہُت چِیزوں کا مُختار بناؤں گا۔ اپنے مالِک کی خُوشی میں شرِیک ہو۔
22اور جِس کو دو توڑے مِلے تھے اُس نے بھی پاس آ کر کہا اَے خُداوند تُو نے دو توڑے مُجھے سُپُرد کِئے تھے۔ دیکھ میں نے دو توڑے اور کمائے۔
23اُس کے مالِک نے اُس سے کہا اَے اچھّے اور دِیانتدار نَوکر شاباش! تُو تھوڑے میں دِیانتدار رہا۔ میں تُجھے بہُت چِیزوں کا مُختار بناؤں گا۔ اپنے مالِک کی خُوشی میں شرِیک ہو۔
24اور جِس کو ایک توڑا مِلا تھا وہ بھی پاس آ کر کہنے لگا اَے خُداوند میں تُجھے جانتا تھا کہ تُو سخت آدمِی ہے اور جہاں نہِیں بویا وہاں سے کاٹتا ہے اور جہاں نہِیں بِکھیرا وہاں سے جمع کرتا ہے۔
25پَس میں ڈرا اور ج�� کر تیرا توڑا زمِین میں چھِپا دِیا۔ دیکھ جو تیرا ہے وہ موجُود ہے۔
26اُس کے مالِک نے جواب میں اُس سے کہا اَے شرِیر اور سُست نَوکر! تُو جانتا تھا کہ جہاں میں نے نہِیں بویا وہاں سے کاٹتا ہُوں اور جہاں میں نے نہِیں بِکھیرا وہاں سے جمع کرتا ہُوں۔
27پَس تُجھے لازم تھا کہ میرا رُوپِیہ ساہُوکاروں کو دیتا تو میں آ کر اپنا مال سُود سمیت لے لیتا۔
28پَس اِس سے وہ توڑا لے لو اور جِس کے پاس دس توڑے ہیں اُسے دے دو۔
29کِیُونکہ جِس کِسی کے پاس ہے اُسے دِیا جائے گا اور اُس کے پاس زیادہ ہو جائے گا مگر جِس کے پاس نہِیں ہے اُس سے وہ بھی جو اُس کے پاس ہے لے لِیا جائے گا۔
30اور اِس نِکمّے نَوکر کو باہِر اَندھیرے میں ڈال دو۔ وہاں رونا اور دانت پِیسنا ہوگا۔
31جب اِبنِ آدم اپنے جلال میں آئے گا اور سب فرِشتے اُس کے ساتھ آئیں گے تب وہ اپنے جلال کے تخت پر بَیٹھیگا۔
32اور سب قَومیں اُس کے سامنے جمع کی جائیں گی اور وہ ایک کو دُوسرے سے جُدا کرے گا جَیسے چرواہا بھیڑوں کو بکرِیوں سے جُدا کرتا ہے۔
33اور بھیڑوں کو اپنے دہنے اور بکرِیوں کو بائیں کھڑا کرے گا۔
34اُس وقت بادشاہ اپنے دہنی طرف والوں سے کہے گا آؤ میرے باپ کے مُبارک لوگو جو بادشاہی بنایِ عالم سے تُمہارے لِئے تیّار کی گئی ہے اُسے مِیراث میں لو۔
35کِیُونکہ مَیں بھُوکا تھا۔ تُم نے مُجھے کھانا کھِلایا۔ میں پیاسا تھا۔ تُم نے مُجھے پانی پِلایا۔ میں پردیسی تھا۔ تُم نے مُجھے اپنے گھر میں اُتارا۔
36ننگا تھا۔ تُم نے مُجھے کپڑا پہنایا۔ بِیمار تھا۔ تُم نے میری خَبر لی۔ قَید میں تھا۔ تُم میرے پاس آئے۔
37تب راستباز جواب میں اُس سے کہنیگے اَے خُداوند! ہم نے کب تُجھے بھُوکا دیکھ کر کھانا کھِلایا یا پیاسا دیکھ کر پانی پِلایا؟
38ہم نے کب تُجھے پردیسی دیکھ کر گھر میں اُتارا؟ یا ننگا دیکھ کر کپڑا پہنایا؟
39ہم کب تُجھے بِیمار یا قَید میں دیکھ کر تیرے پاس آئے؟
40بادشاہ جواب میں اُن سے کہے گا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں چُونکہ تُم نے میرے اِن سب سے چھوٹے بھائِیوں میں سے کِسی ایک کے ساتھ یہ سُلُوک کِیا اِس لِئے میرے ہی ساتھ کِیا۔
41پھِر وہ بائِیں طرف والوں سے کہے گا اَے ملعُونو میرے سامنے سے اُس ہمیشہ کی آگ میں چلے جاؤ جو اِبلِیس اور اُس کے فرِشتوں کے لِئے تیّار کی گئی ہے۔
42کِیُونکہ مَیں بھُوکا تھا۔ تُم نے مُجھے کھانا نہ کھِلایا۔ پیاسا تھا۔ تُم نے مُجھے پانی نہ پِلایا۔
43پردیسی تھا۔ تُم نے مُجھے گھر میں نہ اُتارا۔ ننگا تھا۔ تُم نے مُجھے کپڑا نہ پہنایا۔ بِیمار اور قَید میں تھا۔ تُم نے میری خَبر نہ لی۔
44تب وہ بھی جواب میں کہیں گے اَے خُداوند! ہم نے کب تُجھے بھُوکا یا پیاسا یا پردیسی یا ننگا یا بِیمار یا قَید میں دیکھ کر تیری خِدمت نہ کی؟
45اُس وقت وہ اُن سے جواب میں کہے گا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں چُونکہ تُم نے اِن سب سے چھوٹوں میں سے کِسی ایک کے ساتھ یہ سلُوک نہ کِیا اِس لِئے میرے ساتھ نہ کِیا۔
46اور یہ ہمیشہ کی سزا پائیں گے مگر راستباز ہمیشہ کی زِندگی۔