Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
75 verses
1اور جب یِسُوع یہ سب باتیں ختم کر چُکا تو اَیسا ہُؤا کہ اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا۔
2تُم جانتے ہوکہ دو دِن کے بعد عِیدِ فسح ہوگی اور اِبنِ آدم مصلُوب ہونے کو پکڑوایا جائے گا۔
3اُس وقت سَردار کاہِن اور قَوم کے بُزُرگ کائفا نام سَردار کاہِن کے دِیوان خانہ میں جمع ہُوئے۔
4اور مَشوَرَہ کِیا کہ یِسُوع کو فریب سے پکڑ کر قتل کریں۔
5مگر کہتے تھے کہ عِیدِ میں نہِیں۔ اَیسا نہ ہوکہ لوگوں میں بلوا ہو جائے۔
6اور جب یِسُوع بیت عنیاہ میں شمعُون کوڑھی کے گھر میں تھا۔
7تو ایک عَورت سنگِ مرمر کے عِطردان میں قِیمتی عِطر لے کر اُس کے پاس آئی اور جب وہ کھانا کھانے بَیٹھا تو اُس کے سر پر ڈالا۔
8شاگِرد یہ دیکھ کر خفا ہُوئے اور کہنے لگے کہ یہ کِس لِئے ضائع کِیا گیا؟
9یہ تو بڑے داموں کو بِک کر غرِیبوں کو دِیا جا سکتا تھا۔
10یِسُوع نے یہ جان کر اُن سے کہا کہ اِس عَورت کو کِیُوں دِق کرتے ہو؟ اِس نے تو میرے ساتھ بھلائی کی ہے۔
11کِیُونکہ غرِیب غُربا تو ہمیشہ تُمہارے پاس ہیں لیکِن میں تُمہارے پاس ہمیشہ نہ رہُوں گا۔
12اور اِس نے جو یہ عِطر میرے بَدَن پر ڈالا یہ میرے دفن کی تیّاری کے واسطے کِیا۔
13مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کے تمام دُنیا میں جہاں کہِیں اِس خُوشخَبری کی منادی کی جائے گی یہ بھی جو اِس نے کِیا اِس کی یادگاری میں کہا جائے گا۔
14اُس وقت اُن بارہ میں سے ایک نے جِس کا نام یہُوداہ اِسکریوتی تھا سَردار کاہِنوں کے پاس جا کر کہا کہ۔
15اگر میں اُسے تُمہارے حوالہ کرا دُوں تو مُجھے کیا دو گے؟ اُنہوں نے اُسے تِیس رُوپے تول کر دیدِئے۔
16اور وہ اُس وقت سے اُس کے پکڑوانے کو موقع ڈھُونڈنے لگا۔
17اور عِیدِ فِیطر کے پہلے دِن شاگِردوں نے یِسُوع کے پاس آ کر کہا تُو کہاں چاہتا ہے کہ ہم تیرے لِئے فسح کھانے کی تیّار کریں؟
18اُس نے کہا شہر میں فلاں شَخص کے پاس جا کر اُس سے کہنا اُستاد فرماتا ہے کہ میرا وقت نزدِیک ہے۔ میں اپنے شاگِردوں کے ساتھ تیرے ہاں عِیدِ فسح کرُوں گا۔
19اور جَیسا یِسُوع نے شاگِردوں کو حُکم دِیا تھا اُنہوں نے ویسا ہی کِیا اور فسح تیّار کِیا۔
20جب شام ہُوئی تو وہ بارہ شاگِردوں کے ساتھ کھانا کھانے بَیٹھا تھا۔
21اور جب وہ کھا رہے تھے تو اُس نے کہا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ تُم میں سے ایک مُجھے پکڑوائے گا۔
22وہ بہُت ہی دِلگِیر ہُوئے اور ہر ایک اُس سے کہنے لگا اَے خُداوند کیا مَیں ہُوں؟
23اُس نے جواب میں کہا جِس نے میرے ساتھ طباق میں ہاتھ ڈالا ہے وُہی مُجھے پکڑوائے گا۔
24اِبنِ آدم تو جَیسا اُس کے حق میں لِکھا ہے جاتا ہی ہے لیکِن اُس آدمِی پر افسوس جِس کے وسِیلہ سے اِبنِ آدم پکڑوایا جاتا ہے! اگر وہ آدمِی پَیدا نہ ہوتا تو اُس کے لِئے اچھّا ہوتا۔
25اُس کے پکڑوانے والے یہُوداہ نے جواب میں کہا اَے ربّی کیا مَیں ہُوں؟ اُس نے اُس سے کہا تُو نے خُود کہہ دِیا۔
26جب وہ کھا رہے تھے تو یِسُوع نے روٹی لی اور بَرکَت دے کر توڑی اور شاگِردوں کو دے کر کہا لو کھاؤ۔ یہ میرا بَدَن ہے۔
27پھِر پیالہ لے کر شُکر کِیا اور اُن کو دے کر کہا تُم سب اِس میں سے پِیو۔
28کِیُونکہ یہ میرا وہ عہد کا خُون ہے جو بہُتیروں کے لِئے گُناہوں کی مُعافی کے واسطے بہایا جاتا ہے۔
29مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ انگُور کا یہ شِیرہ پھِر کبھی نہ پِیُوں گا۔ اُس دِن تک کہ تُمہارے ساتھ اپنے باپ کی بادشاہی میں نیا نہ پِیُوں۔
30پھِر وہ گیت گا کر باہِر زیتُون کے پہاڑ پر گئے۔
31اُس وقت یِسُوع نے اُن سے کہا تُم سب اِسی رات میری بابت ٹھوکر کھاؤ گے کِیُونکہ لِکھا ہے کہ مَیں چرواہے کو مارُونگا اور گلّہ کی بھیڑیں پراگندہ ہو جائیں گی۔
32لیکِن میں اپنے جی اُٹھنے کے بعد تُم سے پہلے گلِیل کو جاؤنگا۔
33پطرس نے جواب میں اُس سے کہا گو سب تیری بابت ٹھوکر کھائیں لیکِن مَیں کبھی ٹھوکر نہ کھاؤں گا۔
34یِسُوع نے اُس سے کہا مَیں تُجھ سے سَچ کہتا ہُوں کہ اِسی رات مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تُو تِین بار میرا اِنکار کرے گا۔
35پطرس نے اُس سے کہا اگر تیرے ساتھ مُجھے مرنا بھی پڑے تو بھی تیرا اِنکار ہرگِز نہ کرُوں گا اور سب شاگِردوں نے بھی اِسی طرح کہا۔
36اُس وقت یِسُوع اُن کے ساتھ گتسِمنی نام ایک جگہ میں آیا اور اپنے شاگِردوں سے کہا یہِیں بَیٹھے رہنا جب تک کہ مَیں وہاں جا کر دُعا کرُوں۔
37اور پطرس اور زبدی کے دونوں بَیٹوں کو ساتھ لے کر غمگِین اور بے قرار ہونے لگا۔
38اُس وقت اُس نے اُن سے کہا میری جان نِہایت غمگِین ہے۔ یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہُنچ گئی ہے۔ تُم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو۔
39پھِر ذرا آگے بڑھا اور مُنہ کے بل گِر کر یُوں دُعا کی کہ اَے میرے باپ! اگر ہوسکے تو یہ پیالہ مُجھ سے ٹل جائے۔ تو بھی نہ جَیسا میں چاہتا ہُوں بلکہ جَیسا تُو چاہتا ہے ویسا ہی ہو۔
40پھِر شاگِردوں کے پاس آ کر اُن کو سوتے پایا اور پطرس سے کہا کیا تُم میرے ساتھ ایک گھڑی بھی نہ جاگ سکے؟
41جاگو اور دُعا کرو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو۔ رُوح تو مُستعِد ہے مگر جِسم کمزور ہے۔
42پھِر دوبارہ اُس نے جا کر یُوں دُعا کی کہ اَے میرے باپ! اگر یہ میرے پِئے بغَیر نہِیں ٹل سکتا تو تیری مرضی پُوری ہو۔
43اور آ کر اُنہِیں پھِر سوتے پایا کِیُونکہ اُن کی آنکھیں نِیند سے بھریں تھِیں۔
44اور اُن کو چھوڑ کر پھِر چلا گیا اور پھِر وُہی بات کہہ کر تِیسری بار دُعا کی۔
45تب شاگِردوں کے پاس آ کر اُن سے کہا اَب سوتے رہو اور آرام کرو۔ دیکھو وقت آ پُہنچا اور اِبنِ آدم گُنہگاروں کے حوالہ کِیا جاتا ہے۔
46اُٹھو چلیں۔ دیکھو میرا پکڑوانے والا نزدِیک آ پُہنچا ہے۔
47وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ یہُوداہ جو اُن بارہ میں سے ایک تھا آیا اور اُس کے ساتھ ایک بڑی بھِیڑ تلواریں اور لاٹھِیاں لِئے سَردار کاہِنوں اور قَوم کے بُزُرگوں کی طرف سے آ پُہنچی۔
48اور اُس کے پکڑوانے والے نے اُن کو یہ نِشان دِیا تھا کہ جِس کا میں بوسہ لُوں وُہی ہے۔ اُسے پکڑ لینا۔
49اور فوراً اُس نے یِسُوع کے پاس آ کر کہا اَے ربّی سَلام! اور اُس کے بوسے لِئے۔
50یِسُوع نے اُس سے کہا مِیاں! جِس کام کو آیا ہے وہ کرلے۔ اِس پر اُنہوں نے پاس آ کر یِسُوع پر ہاتھ ڈالا اور اُسے پکڑ لِیا۔
51اور دیکھو یِسُوع کے ساتھیوں میں سے ایک نے ہاتھ بڑھا کر اپنی تلوار کھینچی اور سَردار کاہِن کے نَوکر پر چلا کر اُس کا کان اُڑا دِیا۔
52یِسُوع نے اُس سے کہا اپنی تلوار کو میان میں کرلے کِیُونکہ جو تلوار کھینچتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کِئے جائیں گے۔
53کیا تُو نہِیں سَمَجھتا کہ مَیں اپنے باپ سے مِنّت کر سکتا ہُوں اور وہ فرِشتوں کے بارہ تُمن سے زیادہ میرے پاس ابھی موجُود کردے گا؟
54مگر وہ نوِشتے کہ یِونہی ہونا ضرُور ہے کیونکر پُورے ہوں گے؟
55اُسی وقت یِسُوع نے بھِیڑ سے کہا کیا تُم تلواریں اور لاٹھِیاں لے کر مُجھے ڈاکُو کی طرح پکڑنے نِکلے ہو؟ میں ہر روز ہَیکل میں بَیٹھ کر تعلِیم دیتا تھا اور تُم نے مُجھے نہِیں پکڑا۔
56مگر یہ سب کُچھ اِس لِئے ہُؤا ہے کہ نبِیوں کے نوِشتے پُورے ہوں اِس پر سب شاگِرد اُسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔
57اور یِسُوع کے پکڑنے والے اُس کو کائفا نام سَردار کاہِن کے پاس لے گئے جہاں فقِیہ اور بُزُرگ جمع ہوگئے تھے۔
58اور پطرس دُور دُور اُس کے پِیچھے پِیچھے سَردار کاہِن کے دِیوان خانہ تک گیا اور اَندر جا کر پیادوں کے ساتھ نتِیجہ دیکھنے کو بَیٹھ گیا۔
59اور سَردار کاہِن اور سب صدرِ عدالت والے یِسُوع کو مار ڈالنے کے لِئے اُس کے خِلاف جھُوٹی گواہی ڈھُونڈنے لگے۔
60مگر نہ پائی گو بہُت سے جھُوٹے گواہ آئے۔ لیکِن آخِرکار دو گواہوں نے آ کر کہا کہ
61اِس نے کہا ہے میں خُدا کے مَقدِس کو ڈھا سکتا اور تین دِن میں اُسے بنا سکتا ہُوں۔
62اور سَردار کاہِن نے کھڑے ہوکر اُس سے کہا تُو جواب کِیُوں نہِیں دیتا؟ یہ تیرے خِلاف کیا گواہی دیتے ہیں؟
63مگر یِسُوع خاموش ہی رہا۔ سَردار کاہِن نے اُس سے کہا میں تُجھے زِندہ خُدا کی قَسم دیتا ہُوں کہ اگر تُو خُدا کا بَیٹا مسِیح ہے تو ہم سے کہہ دے۔
64یِسُوع نے اُس سے کہا تُونے خُود کہہ دِیا بلکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِس کے بعد تُم اِبنِ آدم کو قادِرِ مُطلَق کی دہنی طرف بَیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھو گے۔
65اِس پر سَردار کاہِن نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اُس نے کُفر بکا ہے۔ اَب ہم کو گواہوں کی کیا حاجت رہی؟ دیکھو تُم نے ابھی یہ کُفر سُنا۔ تُمہاری کیا رائے ہے؟
66اُنہوں نے جواب میں کہا وہ قتل کے لائِق ہے۔
67اِس پر اُنہوں نے اُس کے مُنہ پر تھُوکا اور اُس کے مُکّے مارے اور بعض نے طمانچے مار کر کہا۔
68اَے مسِیح ہمیں نبُوّت سے بتا کہ تُجھے کِس نے مارا؟
69اور پطرس باہِر صحن میں بَیٹھا تھا کہ ایک لونڈی نے اُس کے پاس آ کر کہا تُو بھی یِسُوع گلِیلی کے ساتھ تھا۔
70اُس نے سب کے سامنے یہ کہہ کر اِنکار کِیا کہ مَیں نہِیں جانتا تُو کیا کہتی ہے۔
71اور جب وہ ڈیوڑھی میں چلا گیا تو دُوسری نے اُسے دیکھا اور جو وہاں تھے اُن سے کہا یہ بھی یِسُوع ناصری کے ساتھ تھا۔
72اُس نے قَسم کھا کر پھِر اِنکار کِیا کہ مَیں اِس آدمِی کو نہِیں جانتا۔
73تھوڑی دیر کے بعد جو وہاں کھڑے تھے اُنہوں نے پطرس کے پاس آ کر کہا بیشک تُوبھی اُن میں سے ہے کِیُونکہ تیری بولی سے بھی ظاہِر ہوتا ہے۔
74اِس پر وہ لعنت کرنے اور قَسم کھانے لگا کہ مَیں اِس آدمِی کو نہِیں جانتا اور فِی الفَور مُرغ نے بانگ دی۔
75پطرس کو یِسُوع کی وہ بات یاد آئی جو اُس نے کہی تھی کہ مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تُو تِین بار میرا اِنکار کرے گا اور وہ باہِر جا کر زار زار رویا۔