Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
13 verses
1لیکن آخری دنوں میں یُوں ہو گا کہ خُداوندکے گھر کا پہاڑ پہاڑوں کی چوٹی پر قائم کیا جائے گا اور سب ٹیلوں سے بُلند ہو گا اور اُمتیں وہاں پُہنچیں گی۔
2اور بہت سی قومیں آئیں گی اور کہیں گی آؤ خُداوند کے پہاڑ پر چڑھیں اور یعقوب کے خُدا کے گھر میں داخل ہوں اور وہ اپنی راہیں ہم کو بتائےگا اور ہم اس کے راستوں پر چلیں گے کیونکہ شریعت صیون سے اور خُداوند کا کلام یروشیلم سے صادر ہو گا۔
3اور وہ بہت سی اُمتوں کے درمیان عدالت کرے گا اور دُور کی آور قوموں کو ڈانٹے گا اور وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کر ہنسوے بناڈالیں گے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلاے گی اور وہ پھر کبھی جنگ کرنا نہ سکھیں گے۔
4تب ہر ایک آدمی اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کے نیچے بیھٹے گااور ان کو کوئی نہ ڈرائے گا کیونکہ ربُ الافواج نے اپنے مُنہ سے یہ فرمایا ہے۔
5کیونکہ سب قومیں اپنے اپنے معبود کے نام سے چلیں گی پر ہم ابدالاآباد تک خُداوند اپنے خُدا کے نام سے چلیں گے۔
6خُداوند فرماتا ہے کہ میں اس روز لنگڑوں کو جمع کُروں گا اور جو ہانک دے گے اور جن کو میں نے دُکھ دیا فراہم کُروں گا۔
7اور لنگڑوں کو بقیہ اور جلا وطنوں کو زور آور قومیں بناوں گا اور خُداوند کوہ صیون پر اب سے ابدالاآباد تک اُن پر سلطنت کرے گا۔
8اے گلہ کی دیدگاہ! اے بنت صیون کی پہاڑی ! یہ تیرے ہی لے ہے۔ قدیم سلطنت یعنی دُختر یروشیلم کی بادشاہی تُجھے ملے گی۔
9اب تو کیوں چلاتی ہے گویا در دزہ میں مبتلا ہے؟ کیا تُجھ میں کوئی بادشاہ نہیں ؟ کیا تیرا صلاح کار نیست ہو گا؟۔
10اے بنت صیون زچی کی مانند تکلیف اٹھا اور در دزہ میں مُبتلا ہو کیونکہ اب تو شہر سے خارج ہو کر میدان میں رہے گی اور بابل تک جائے گی۔ وہاں تو رہائی پائےگی اور وہیں خُداوند تجھ کو تیرے دُشمنوں کے ہاتھ سے چھڑاے گا۔
11اب بہت سی قومیں تیرے خلاف جمع ہوئی ہیں اور کہتی ہیں صیون ناپاک ہو اور ہماری آنکھیں اس کی رسوائی دیکھیں ۔
12پر خُداوند کی تدابیر سے آگاہ نہیں اور اس کی مصلحت کو نہیں سمجھتیں کیونکہ وہ ان کو کھلیہان کے پولوں کی طرح جمع کرے گا۔
13اے بنت صیون اٹھ اور پایمال کر کیونکہ میں تیرے سینگ کو لوہا اور تیرے کھروں کو پیتل بناوں گا اور تو بہت سی اُمتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرے گی۔ ان کے ذخیرے خُداوند کی نذر کرے گی اور ان کا مال رب العالمین کے حضور لاے گی۔