Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
20 verses
1ارتخششتابادشاہ کے بیسویں برس نیسان کے مہینے میں جب مے اُسکے آگے تھی تو میں نے مے اُٹھا کر بادشاہ کو دی اور اِس سے پہلے میں کبھی اُسکے حضور اُداس نہیں ہوا تھا۔
2سو بادشاہ نے مجھ سے کہا تیرا چہرہ کیوں اُداس ہے باوجودیکہ تو بیمار نہیں ہے؟پس یہ دِل کے غم کے سوا اور کُچھ نہ ہوگا ۔تب میں بہت ڈر گیا ۔
3اور میں نے بادشاہ سے کہا کہ بادشاہ سے کہا کہ بادشاہ ہمیشہ جیتا رہے !میرا چہرہ اُداس کیوں نہ ہو جبکہ وہ شہر جہاں میرے باپ دادا کی قبریں ہیں اُجاڑ پڑا ہے اور اُسکے پھاٹک آگ سے جلے ہُوئے ہیں؟۔
4بادشاہ نے مجھ سے فرمایا کِس بات کے لئے تیری درخواست ہے ؟تب میں نے آسمان کے خدا سے دُعا کی ۔
5پھِر میں نے بادشاہ سے کہا کہ اگر بادشاہ کی مرضی ہو اور اگر تیرے خادم پر تیرے کرم کی نظر ہے تو تومجھے یہوداہ میں میرے باپ دادا کی قبروں کے شہر کو بھیج دے تاکہ میں اُسے تعمیر کروُ ں ۔
6تب بادشاہ نے (ملکہ بھی اُسکے پاس بیٹھی تھی)مجھ سے کہا تیرا سفر کتنی مُدت کا ہوگا اور تو کب لوٹیگا؟غرض بادشاہ کی مرضی ہوئی کہ مجھے بھیجے اور میں نے وقت مُقرر کرکے اُسے بتایا۔
7اور میں نے بادشاہ سے یہ بھی کہا اگر بادشاہ کی مرضی ہو تو در یا پار کے حاکموں کے لئے مجھے پروانے عنایت ہوں کہ وہ مجھے یہوداہ تک پہنچنے کے لئے گذر جانے دیں۔
8اور آسف کے لئے جو شاہی جنگل کا نگہبان ہے ایک شاہی خط ملے کہ وہ ہیکل کے قلعہ کے پھاٹکوں کے لئے اور شہر پناہ اور اُس گھر کے لئے جس میں میں رہونگا کڑیا ں بنانے کومجھے لکڑی دے اور چونکہ میرے خدا کی شفقت کا ہاتھ مجھ پر تھا بادشاہ نے میری عرض قبول کی۔
9تب میں نے دریا پار کے حاکموں کے پاس پہنچا کر بادشاہ کے پروانے اُنکو دِئے اور بادشاہ نے فوجی سرداروں اور سواروں کو میرے ساتھ کردیا تھا۔
10اور جب سنبلط حورونی اور عمونی غلام طُوبیاہ نے یہ سُنا کہ ایک شخص بنی اِسرائیل کی بہبودی کا خواہان آیا ہے تو وہ نہایت رنجیدہ ہُوئے ۔
11اور میں یروشیلم پہنچکر تین دِن رہا۔
12پھر میں رات کو اُٹھا ۔میں بھی اور میرے ساتھ چند آدمی پر جو کُچھ یروشلیم کے لئے کرنے کو میرے خدا نے میرے دِل میں ڈالا تھا وہ میں نے کسی کو نہ بتا یا اور جس جانور پر میں سوار تھا اُسکے سوا اور کوئی جانور میرے ساتھ نہ تھا۔
13اور میں رات کو وادی کے پھاٹک کو گیا اور یروشلیم کی فصیل کو جو توڑدی گئی تھی اور اُسکے پھاٹکوں کو جو آگ سے جلے ہوُئے تھے دیکھا۔
14پھر میں چشمہ کے پھاٹک اور بادشاہ کے تالاب کو گیا پر وہاں اُس جانور کے لئے جِس پر میں سوار تھا گذرنے کی جگہ نہ تھی ۔
15پھر میں رات ہی کو نالے کی طرف سے فصیل کو دیکھکر لوٹا اور وادی کے پھاٹک سے داخل ہوا اور یوں واپس آگیا ۔
16اور حاکموں کو معلوم نہ ہوا کہ میں کہا ں کہاں گیا یا میں نے کیا کیا اور میں نے اُ س وقت تک نہ یہودیوں نہ کاہنوں نہ اِمیروں نہ حاکموں نہ باقیوں کو جو کار گُذار تھے کچھ بتایا تھا۔
17تب میں نے اُن سے کہا تم دیکھتے ہو کہ ہم کیسی مُصیبت میں ہیں کہ یروشلیم اُجاڑ پڑا ہے اور اُسک پھاٹک آگ سے جلے ہوئے ہیں۔آؤ ہم یروشلیم کی فصل بنائیں تا کہ آگے کو ہم ذِلت کا نشان نہ رہیں۔
18اور میں نے اُنکو بتایا کہ خدا کی شفقت کا ہاتھ مجھ پر کیسے رہا اور یہ کہ بادشاہ نے مجھ سے کیا کیا باتیں کہی تھیں ۔اُنہوں نے کہا ہم اُٹھکر بنانے لگیں سو اِس اچھے کام کے لئے اُنہوں نے اپنے ہاتھوں کو مضبوط کیا۔
19پر جب سنبلط حُورُونی اور عمونی غلام طُوبیاہ اور عربی حیشم نے یہ سُنا تو وہ ہم کو ٹھٹھوں میں اُڑانے اور ہماری حقارت کرکے کہنے لگے تم یہ کیا کام کرتے ہو؟کیا تم بادشاہ سے بغاوت کرو گے؟۔
20تب میں نے جواب دے کر اُن سے کہا آسمان کا خدا وہی ہم کو کا میاب کر یگا ۔اِسی سبب سے ہم جو اُسکے بندے ہیں اُٹھکر تعمیر کرینگے لیکن یروشلیم میں تمہارا نہ کوئی حصہ نہ حق نہ یاد گار ہے۔