Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1پھر لوگ کڑکڑانے اور خداوند کے سنتے برا کہنے لگے چنانچہ خداوند نے سنا اور اسکا غضب بھڑکا اور خداوند کی آگ انکے درمیان جل اٹھی اور لشکر گاہ کو ایک کنارےسے بھسم کرنے لگی
2تب لوگوں نے موسیٰ سے فریاد کی اور موسیٰ نے خداوند سے دعا کی تو آگ بجھ گئی
3اور اس جگہ کا نا بیعرہ پڑا کیونکہ خداوند کی آگ ان میں جل اٹھی تھی اور جو ملی جلی بھیڑ ان لوگوں میں تھی وہ طرح طرح کی حرص کرنے لگی اور بنی اسرائیل بھی پھر رونے اور کہنے لگے کہ ہم کو کو ن گوشت کھانے کو دے گا؟
5ہم کو وہ مچھلی یاد آتی ہے جو ہم مصر میں کھاتے تھے اور ہائے وہ کھیرے اور وہ خربوزے اور وہ گندنے اور پیاز او ر لہسن
6لیکن اب تو ہماری جان خشک ہو گئی ہے یہاں کو ئی چیز میسر نہیں اور من کے سوا ہم کو اور کچھ دھائی نہیں دیتا
7اور من دھنٹے کی مانند تھا اور ایسا نظر آتا تھا جیسے موتی
8لوگ ادھر ادھر جا کر اسے جمع کرتے اور اسے پیستے یا اکھلی میں کوٹ لیتے تھے پھر اسے ہانڈیوں میں ابال کر روٹیاں بناتے تھے اسکا مزہ تازہ تیل کا سا تھا
9اور رات کو جب لشکر گاہ پر اوس پڑتی تھی تو اس کے ساتھ من بھی گرتا تھا
10اور موسیٰ نے سب گھرانوں کے آدمیوں کو اپنے اپنے ڈیرے کے دروازہ پر روتے سنا اور خداوند کا قہر نہایت بھڑکا اور موسیٰ نے بھی برا مانا
11تب موسیٰ نے خداوند سے کہا کہ تو نے اپنے خادم سے یہ سخت پرتاؤ کیوں کیا؟ اور مجھ پر تیرے کرم کی نظر کیوں نہیں ہوئی جو تو ان سب لوگو ں کا بوجھ مجھ پر ڈالتا ہے؟
12کیا یہ سب لوگ میرے پیٹ میں پڑے تھے؟ کیا یہ سب مجھ ہی سے پیدا ہوئے جو تو کجھے کہتا ہے کہ جس طرح باپ دودھ پیتے بچہ کو اٹھائے اٹھائے پھرتا ہے اسی طرح میں ان لوگوں کو اٹھا کر اس ملک میں لے جاؤں جس کے دینے کی قسم تو نے ان کے باپ دادا سے کھا ئی ہے
13میں ان سب لوگوںکو کہا ں سے گوشت لا کر دوں کیونکہ وہ یہ کہہ کر میرے سامنے روتے ہیںکہ ہمیں گوشت کھانے کو دے
14میں اکیلا ان سب لوگوں کو نہیں سنبھا ل سکتا کیونکہ یہ میری طاقت سے باہر ہے۔
15اور جو تجھے میرے ساتھ یہی برتاؤ کرنا ہے تو میرے اوپر اگر تیرے کرم کی نظر ہوئی تو مجھے یک لخت جان سے کار ڈال تاکہ میں اپنی بری گت دیکھنے نہ پاؤں
16خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے ستر مرد جنکو تو جانتا ہے کہ قوم کے بزرگ اور ان کے سردار ہیں میرے حضور جمع کراور ان کو خیمہ اجتماع کے پاس لے آ تاکہ وہ میرے ساتھ وہاں کھڑے ہوں
17اور میں اتر کر تیرے ساتھ وہاں باتیں کروں گا اور میں اس روح میں سے جو تجھ میں ہے لے کر ان میں ڈال دونگا کہ وہ تیرے سا تھ قوم کا بوجھ اٹھائیں تا کہ تو اکیلا نہ اٹھائے۔
18اور لوگوں سے کہہ کہ کل کے لیے اپنے آپ کو پاک رکھو تو تم گوشت کھاؤ گے کیونکہ تم خداوند کے سنتے ہوئے یہ کہہ کہہ کر روتے ہو کہ ہم کو کون گوشت کھانے کو دے گا ؟ ہم تو مصر ہی میں موج سے تھےسو خداوند تم کو گوشت دیگا اور تم کھانا
19اور تم ایک یا دو دن نہیں اور نہ پانچ یا دس یا بیس دن
20بلکہ ایک مہینہ کامل اسے کھاتے رہو جب تک وہ تمہارے نتھنوں سے نکلنے نہ لگے اور اس سے تم گھن نہ کھانے لگو کیونکہ تم نے خداوندکو جو تمہارے درمیان ہے ترک کیا اور اس کے سامنے یہ کہہ کہہ کر روئے کہ ہم مصر سے کیوں نکل آئے
21پھر موسیٰ کہنے لگا کہ جن لوگوں میں میں ہوں ان میں چھ لاکھ تو پیادے ہی ہیںاور تو نے کہا ہے کہ میں ان کو اتنا گوشت دوں گا کہ مہینہ بھر اسے کھاتے رہیں گے
22تو کیا یہ بھیڑ بکریوں کے ریوڑ اور گائے بیلوں کے جھنڈ ان کی خاطر ذبح ہوں کہ ان کے لیے بس ہو؟ یا سمندر کی مچھلیاں انکی خاطر اکٹھی کی جائیں کہ ان کے لیے کافی ہوں۔
23خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ کیا خداوند کا ہاتھ چھوٹا ہو گیا؟ ابن تو دیکھ لیا گا کہ جو کچھ میں نے تجھ سے کہا وہ پورا ہوتا ہے یا نہیں
24تب موسیٰ نے باہر جا کر خداوندکی باتیں ان لوگوں کو جا سنائیں اور قوم کے بزرگوں میں سے ستر آدمی اکٹھے کر کے انکو خیمہ اجتماع کے گردا گرد کھڑا کر دیا
25تب خداوند ابر میں ہو کر نکلا اور اس نے موسیٰ سے باتیں کیں اور اس روح میں سے جو اس میں تھی لے کر ان ستر بزرگوں میں ڈالا چنانچہ جب روح ان میں آئی تو وہ نبوت کرنے لگے لیکن پھر بعد میں کبھی نہیں کی
26پر ان میںسے دوشخص لشکر گاہ میں ہی رہ گئےایک کا نام الداد اور دوسرے کا نام میداد تھا ان میں بھی روح آئی یہ بھی ان ہی میںسے تھے جن کے نام لکھ لیے گئے تھے پر یہ خیمہ کے پاس نہ گئے اور لشکر گاہ ہی میں نبوت کرنے لگے
27تب کسی جوان نے دوڑ کر موسیٰ کو خبر کی کہ الداد اور میداد لشکر گاہ میں نبوت کر رہے ہیں
28سو نون کے بیٹے یشوع نے جو اس کے چنے ہوئے نوجوانوں میں سے تھا موسیٰ سے کہا کہ اے میرے مالک موسیٰ توان کو روک دے
29موسیٰ نے اس سے کہا تجھے میری خاطر رشک آتا ہے؟ کاش خداوند کے سب لوگ نبی ہوتے اور خداوند اپنی روح ان سب میں ڈالتا
30پھر موسیٰ اور وہ اسرائیلی بزرگ لشکر گاہ میں گئے
31اور خداوند کی طرف سے ایک آندھی چلی اور سمندر کی طرف سے بٹیریں اڑا لائی اور ان کو لشکر گا ہ کے برابر اور اس کے گردا گرد ایک دن کی راہ تک اس طرف اور ایک ہی دن کی راہ تک دوسری طرف زمین سے قریباً دو ہاتھ اوپر ڈال دیا
32اور لوگو ں نے اٹھ کر اس سارے دن اور ساری رات اور اسکے دوسرے دن بھی بٹیریں جمع کیں اور جس کے پاس کم سے کم جمع تھیں اس کے پاس بھی دس خومر کے برابر جمع ہوگئیں اور انہوں نے اپنے لیے لشکر گاہ کے چاروں طرف اسے پھیلادیا
33اور انکا گوشت انہوں نے دانتوں سے کاٹا ہی تھا اور اسے چبانے بھی نہیں پائے تھے کہ خداوند کا قہر ان لوگوں پر بھڑک اٹھا اور خداوند نے ان لوگوں کو بڑی سخت وبا سے مارا
34سو اس مقام کا نام قبروت ہتاوہ رکھا گیا کیونکہ انہوں نے ان لوگوں کو جنہوں نے حرص کی تھی وہیں دفن کیا
35اور وہ لوگ قبروت ہتاوہ سے سفر کر کے حصیرات کو گئے اور وہیں حصیرات میں رہنے لگے۔